अर्ज़-ए-मुद्दआ करते क्यूँँ नहीं किया हम ने ख़्वाहिशों को हसरत में ख़ुद बदल दिया हम ने नित नई उमीदों के टाँक टाँक कर पैवंद ज़िंदगी के दामन को उम्र-भर सिया हम ने रंज-ओ-ग़म उठाए हैं फ़िक्र-ओ-फ़न भी पाए हैं ज़िंदगी को जितना भी जी सके जिया हम ने सुब्ह का नया सूरज कुछ तो रौशनी लेगा शाम से जलाया है आस का दिया हम ने दाग़-ए-दिल की ज़रदारी मुफ़्त हाथ कब आई ख़ाक हो के पाया है राज़-ए-कीमिया हम ने
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
More from Ameeq Hanafi
غبار و گرد نے سمجھا ہے رہنما مجھ کو تلاش کرتا پھرا ہے یہ قافلہ مجھ کو طویل راہ سفر پر ہیں پھوٹ پھوٹ پڑا لگ کیوں سمجھتے مری پیر آبلا مجھ کو شکست دل کی صدا ہوں بکھر بھی جانے دے خطوط و رنگ کی زنجیر مت پن ہاں مجھ کو زمین پر ہے سمندر فلک پہ ابر غبار اتارتی ہے ک ہاں دیکھیے ہوا مجھ کو سکوت ترک تعلق کا اک گراں لمحہ بنا گیا تو ہے صداؤں کا سلسلہ مجھ کو حقیقت دور دور سے اب کیوں مجھے جلاتا ہے قریب آ کے بے حد جو بجھا گیا تو مجھ کو رچا کے ایک طلسم ثوابت و سیار کشش ہے وہ ہے وہ اپنی بلانے لگا خلا مجھ کو
Ameeq Hanafi
0 likes
ہے نور خدا بھی ی ہاں عرفان خدا بھی یہ ذات کہ ہے وا گرا سینا بھی ہرا بھی ا سے بن ہے وہ ہے وہ کیا کرتی ہے تپ مری انا بھی ا سے شہر ہے وہ ہے وہ ہے کارگہ ارض و سما بھی کرتا ہوں بے پیرہن اپنا تو ملتی ہے نئی راہ قبلہ بھی ہے یہ ذات میرا قبلہ نما بھی خود آگہی و خود نگہی کا ہے یہ انعام اور جرم شناسائی عالم کی سزا بھی ہوتا ہے شب و روز تماشا سر احسا سے جو دیکھتی رہتی ہے مری آنکھ دکھا بھی کرتی ہے کمر بستہ سفر پر بھی یہی ذات جب دور نکل جاتا ہوں دیتی ہے صدا بھی زرے ہے وہ ہے وہ ہے کونین تو کونین ہے وہ ہے وہ ذرہ کچھ ہے تجھے ملاکوٹی پتا بھی
Ameeq Hanafi
0 likes
ہے وہ ہے وہ بھی کب سے چپ بیٹھا ہوں حقیقت بھی کب سے چپ بیٹھی ہے یہ ہے وصال کی رسم انوکھی یہ ملنے کی ریت نئی ہے حقیقت جب مجھ کو دیکھ رہی تھی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو دیکھ لیا تھا بس اتنی سی بات تھی لیکن بڑھتے بڑھتے کتنے بڑھی ہے بے صورت بے جسم آوازیں اندر بھیج رہی ہیں ہوائیں بند ہیں کمرے کے دروازے لیکن کھڑکی کھلی ہوئی ہے میرے گھر کی چھت کے اوپر سورج آیا چاند بھی اترا چھت کے نیچے کے کمروں کی جیسی تھی اوقات وہی ہے
Ameeq Hanafi
0 likes
ہے وہ ہے وہ ہوا ہوں ک ہاں وطن میرا دشت میرا لگ یہ چمن میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ ہر چند ایک خا لگ نشین صورت آشنا صورت آشنا سخن میرا برگ گل پر چراغ سا کیا ہے چھو گیا تو تھا اسے دہن میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ ٹوٹا ہوا ستارہ ہوں کیا بگاڑےگی صورت آشنا میرا ہر گھڑی اک نیا تقاضا ہے درد سر بن گیا تو بدن میرا
Ameeq Hanafi
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ameeq Hanafi.
Similar Moods
More moods that pair well with Ameeq Hanafi's ghazal.







