ghazalKuch Alfaaz

غبار و گرد نے سمجھا ہے رہنما مجھ کو تلاش کرتا پھرا ہے یہ قافلہ مجھ کو طویل راہ سفر پر ہیں پھوٹ پھوٹ پڑا لگ کیوں سمجھتے مری پیر آبلا مجھ کو شکست دل کی صدا ہوں بکھر بھی جانے دے خطوط و رنگ کی زنجیر مت پن ہاں مجھ کو زمین پر ہے سمندر فلک پہ ابر غبار اتارتی ہے ک ہاں دیکھیے ہوا مجھ کو سکوت ترک تعلق کا اک گراں لمحہ بنا گیا تو ہے صداؤں کا سلسلہ مجھ کو حقیقت دور دور سے اب کیوں مجھے جلاتا ہے قریب آ کے بے حد جو بجھا گیا تو مجھ کو رچا کے ایک طلسم ثوابت و سیار کشش ہے وہ ہے وہ اپنی بلانے لگا خلا مجھ کو

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے

Tehzeeb Hafi

262 likes

More from Ameeq Hanafi

ہے نور خدا بھی ی ہاں عرفان خدا بھی یہ ذات کہ ہے وا گرا سینا بھی ہرا بھی ا سے بن ہے وہ ہے وہ کیا کرتی ہے تپ مری انا بھی ا سے شہر ہے وہ ہے وہ ہے کارگہ ارض و سما بھی کرتا ہوں بے پیرہن اپنا تو ملتی ہے نئی راہ قبلہ بھی ہے یہ ذات میرا قبلہ نما بھی خود آگہی و خود نگہی کا ہے یہ انعام اور جرم شناسائی عالم کی سزا بھی ہوتا ہے شب و روز تماشا سر احسا سے جو دیکھتی رہتی ہے مری آنکھ دکھا بھی کرتی ہے کمر بستہ سفر پر بھی یہی ذات جب دور نکل جاتا ہوں دیتی ہے صدا بھی زرے ہے وہ ہے وہ ہے کونین تو کونین ہے وہ ہے وہ ذرہ کچھ ہے تجھے ملاکوٹی پتا بھی

Ameeq Hanafi

0 likes

अर्ज़-ए-मुद्दआ करते क्यूँँ नहीं किया हम ने ख़्वाहिशों को हसरत में ख़ुद बदल दिया हम ने नित नई उमीदों के टाँक टाँक कर पैवंद ज़िंदगी के दामन को उम्र-भर सिया हम ने रंज-ओ-ग़म उठाए हैं फ़िक्र-ओ-फ़न भी पाए हैं ज़िंदगी को जितना भी जी सके जिया हम ने सुब्ह का नया सूरज कुछ तो रौशनी लेगा शाम से जलाया है आस का दिया हम ने दाग़-ए-दिल की ज़रदारी मुफ़्त हाथ कब आई ख़ाक हो के पाया है राज़-ए-कीमिया हम ने

Ameeq Hanafi

0 likes

ہے وہ ہے وہ بھی کب سے چپ بیٹھا ہوں حقیقت بھی کب سے چپ بیٹھی ہے یہ ہے وصال کی رسم انوکھی یہ ملنے کی ریت نئی ہے حقیقت جب مجھ کو دیکھ رہی تھی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو دیکھ لیا تھا بس اتنی سی بات تھی لیکن بڑھتے بڑھتے کتنے بڑھی ہے بے صورت بے جسم آوازیں اندر بھیج رہی ہیں ہوائیں بند ہیں کمرے کے دروازے لیکن کھڑکی کھلی ہوئی ہے میرے گھر کی چھت کے اوپر سورج آیا چاند بھی اترا چھت کے نیچے کے کمروں کی جیسی تھی اوقات وہی ہے

Ameeq Hanafi

0 likes

ہے وہ ہے وہ ہوا ہوں ک ہاں وطن میرا دشت میرا لگ یہ چمن میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ ہر چند ایک خا لگ نشین صورت آشنا صورت آشنا سخن میرا برگ گل پر چراغ سا کیا ہے چھو گیا تو تھا اسے دہن میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ ٹوٹا ہوا ستارہ ہوں کیا بگاڑےگی صورت آشنا میرا ہر گھڑی اک نیا تقاضا ہے درد سر بن گیا تو بدن میرا

Ameeq Hanafi

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ameeq Hanafi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ameeq Hanafi's ghazal.