ہے وہ ہے وہ ہوا ہوں ک ہاں وطن میرا دشت میرا لگ یہ چمن میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ ہر چند ایک خا لگ نشین صورت آشنا صورت آشنا سخن میرا برگ گل پر چراغ سا کیا ہے چھو گیا تو تھا اسے دہن میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ ٹوٹا ہوا ستارہ ہوں کیا بگاڑےگی صورت آشنا میرا ہر گھڑی اک نیا تقاضا ہے درد سر بن گیا تو بدن میرا
Related Ghazal
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی
Jaun Elia
77 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن
Varun Anand
81 likes
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
More from Ameeq Hanafi
ہے نور خدا بھی ی ہاں عرفان خدا بھی یہ ذات کہ ہے وا گرا سینا بھی ہرا بھی ا سے بن ہے وہ ہے وہ کیا کرتی ہے تپ مری انا بھی ا سے شہر ہے وہ ہے وہ ہے کارگہ ارض و سما بھی کرتا ہوں بے پیرہن اپنا تو ملتی ہے نئی راہ قبلہ بھی ہے یہ ذات میرا قبلہ نما بھی خود آگہی و خود نگہی کا ہے یہ انعام اور جرم شناسائی عالم کی سزا بھی ہوتا ہے شب و روز تماشا سر احسا سے جو دیکھتی رہتی ہے مری آنکھ دکھا بھی کرتی ہے کمر بستہ سفر پر بھی یہی ذات جب دور نکل جاتا ہوں دیتی ہے صدا بھی زرے ہے وہ ہے وہ ہے کونین تو کونین ہے وہ ہے وہ ذرہ کچھ ہے تجھے ملاکوٹی پتا بھی
Ameeq Hanafi
0 likes
अर्ज़-ए-मुद्दआ करते क्यूँँ नहीं किया हम ने ख़्वाहिशों को हसरत में ख़ुद बदल दिया हम ने नित नई उमीदों के टाँक टाँक कर पैवंद ज़िंदगी के दामन को उम्र-भर सिया हम ने रंज-ओ-ग़म उठाए हैं फ़िक्र-ओ-फ़न भी पाए हैं ज़िंदगी को जितना भी जी सके जिया हम ने सुब्ह का नया सूरज कुछ तो रौशनी लेगा शाम से जलाया है आस का दिया हम ने दाग़-ए-दिल की ज़रदारी मुफ़्त हाथ कब आई ख़ाक हो के पाया है राज़-ए-कीमिया हम ने
Ameeq Hanafi
0 likes
غبار و گرد نے سمجھا ہے رہنما مجھ کو تلاش کرتا پھرا ہے یہ قافلہ مجھ کو طویل راہ سفر پر ہیں پھوٹ پھوٹ پڑا لگ کیوں سمجھتے مری پیر آبلا مجھ کو شکست دل کی صدا ہوں بکھر بھی جانے دے خطوط و رنگ کی زنجیر مت پن ہاں مجھ کو زمین پر ہے سمندر فلک پہ ابر غبار اتارتی ہے ک ہاں دیکھیے ہوا مجھ کو سکوت ترک تعلق کا اک گراں لمحہ بنا گیا تو ہے صداؤں کا سلسلہ مجھ کو حقیقت دور دور سے اب کیوں مجھے جلاتا ہے قریب آ کے بے حد جو بجھا گیا تو مجھ کو رچا کے ایک طلسم ثوابت و سیار کشش ہے وہ ہے وہ اپنی بلانے لگا خلا مجھ کو
Ameeq Hanafi
0 likes
ہے وہ ہے وہ بھی کب سے چپ بیٹھا ہوں حقیقت بھی کب سے چپ بیٹھی ہے یہ ہے وصال کی رسم انوکھی یہ ملنے کی ریت نئی ہے حقیقت جب مجھ کو دیکھ رہی تھی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو دیکھ لیا تھا بس اتنی سی بات تھی لیکن بڑھتے بڑھتے کتنے بڑھی ہے بے صورت بے جسم آوازیں اندر بھیج رہی ہیں ہوائیں بند ہیں کمرے کے دروازے لیکن کھڑکی کھلی ہوئی ہے میرے گھر کی چھت کے اوپر سورج آیا چاند بھی اترا چھت کے نیچے کے کمروں کی جیسی تھی اوقات وہی ہے
Ameeq Hanafi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ameeq Hanafi.
Similar Moods
More moods that pair well with Ameeq Hanafi's ghazal.







