ghazalKuch Alfaaz

ہے نور خدا بھی ی ہاں عرفان خدا بھی یہ ذات کہ ہے وا گرا سینا بھی ہرا بھی ا سے بن ہے وہ ہے وہ کیا کرتی ہے تپ مری انا بھی ا سے شہر ہے وہ ہے وہ ہے کارگہ ارض و سما بھی کرتا ہوں بے پیرہن اپنا تو ملتی ہے نئی راہ قبلہ بھی ہے یہ ذات میرا قبلہ نما بھی خود آگہی و خود نگہی کا ہے یہ انعام اور جرم شناسائی عالم کی سزا بھی ہوتا ہے شب و روز تماشا سر احسا سے جو دیکھتی رہتی ہے مری آنکھ دکھا بھی کرتی ہے کمر بستہ سفر پر بھی یہی ذات جب دور نکل جاتا ہوں دیتی ہے صدا بھی زرے ہے وہ ہے وہ ہے کونین تو کونین ہے وہ ہے وہ ذرہ کچھ ہے تجھے ملاکوٹی پتا بھی

Related Ghazal

بات کرنی ہے بات کون کرے درد سے دو دو ہاتھ کون کرے ہم ستارے تم تمہیں بلاتے ہیں چاند لگ ہوں تو رات کون کرے اب تجھے رب کہی یا بت سمجھیں عشق ہے وہ ہے وہ ذات پات کون کرے زندگی بھر کی تھے کمائی جاناں ا سے سے زیادہ زکات کون کرے

Kumar Vishwas

56 likes

ذرا سا اللہ ری کہی آج ا گر ابھرتا ہے سمندروں ہی کے لہجے ہے وہ ہے وہ بات کرتا ہے کھلی چھتوں کے دیے کب کے بجھ گئے ہوتے کوئی تو ہے جو ہواؤں کے پر کترتا ہے شرافتوں کی ی ہاں کوئی اہمیت ہی نہیں کسی کا کچھ لگ بگاڑو تو کون ڈرتا ہے یہ دیکھنا ہے کہ صحرا بھی ہے سمندر بھی حقیقت مری تش لگ لبی ک سے کے نام کرتا ہے جاناں آ گئے ہوں تو کچھ چاندنی سی باتیں ہوں ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ چاند ک ہاں روز روز اترتا ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی کیسی وکالت ہوں پھروں نہیں چلتی جب آ سماں سے کوئی فیصلہ اترتا ہے

Waseem Barelvi

16 likes

اداسیوں کو گلے لگائے اداس لڑکے بھٹک رہے ہیں فریب کھائے اداس لڑکے کسی کسی کو نصیب ہیں یہ اداسیاں بھی کسی کو یہ بھی بتا نہ پائے اداس لڑکے ہزار دکھ ہیں دلوں ہے وہ ہے وہ ان کے جنہیں چھپا کر یہاں سبھی کو ہنسانے آئی اداس لڑکے اداس رہنا صحیح نہیں ہے یہ جانکر بھی اداس رہنا نہ چھوڑ پائے اداس لڑکے کسی کا کاندهہ نصیب ہوتا تو یہ بھی سوتے تمام راتیں جگے جگائے اداس لڑکے

Vikas Sahaj

18 likes

کیا خبر ا سے روشنی ہے وہ ہے وہ اور کیا روشن ہوا جب حقیقت ان ہاتھوں سے پہلی مرتبہ روشن ہوا حقیقت مری سینے سے لگ کر ج سے کو روئی کون تھا ک سے کے بجھنے پہ ہے وہ ہے وہ آج ا سے کی جگہ روشن ہوا ویسے ہے وہ ہے وہ ان راستوں اور تختچوں کا تھا نہیں پھروں بھی تو نے ج سے جگہ پر رکھ دیا روشن ہوا مری جانے پر سبھی روئے بے حد روئے م گر اک دیا مری توقع سے سوا روشن ہوا تری اپنے تیری کرنوں کو ترستے ہے ی ہاں تو یہ کن گلیوں ہے وہ ہے وہ کن لوگوں ہے وہ ہے وہ جا روشن ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے پوچھا تھا کہ مجھ جیسا بھی کوئی اور ہے دور جنگل ہے وہ ہے وہ کہی اک مقبرہ روشن ہوا جانے کیسی آگ ہے وہ ہے وہ حقیقت جل رہا ہے ان دنوں ا سے نے منا پونچھا تو میرا تولیہ روشن ہوا کوئی ا سے کی روشنی کے شر سے کب ہری ہے مری آنکھیں بجھ گئی اور کوئلہ روشن ہوا

Tehzeeb Hafi

57 likes

برسوں پرانا دوست ملا چنو غیر ہوں دیکھا رکا جھجھک کے کہا جاناں عمیر ہوں ملتے ہیں مشکلوں سے ی ہاں ہم خیال لوگ تری تمام چاہنے والوں کی خیر ہوں کمرے ہے وہ ہے وہ سگریٹوں کا دھواں اور تیری مہک چنو شدید دھند ہے وہ ہے وہ باغوں کی سیر ہوں ہم مطمئن بے حد ہیں ا گر خوش نہیں بھی ہیں جاناں خوش ہوں کیا ہوا جو ہمارے بغیر ہوں پیروں ہے وہ ہے وہ ا سے کے سر کو دھریں التجا کریں اک التجا کہ جس کا لگ سر ہوں لگ پیر ہوں

Umair Najmi

59 likes

More from Ameeq Hanafi

अर्ज़-ए-मुद्दआ करते क्यूँँ नहीं किया हम ने ख़्वाहिशों को हसरत में ख़ुद बदल दिया हम ने नित नई उमीदों के टाँक टाँक कर पैवंद ज़िंदगी के दामन को उम्र-भर सिया हम ने रंज-ओ-ग़म उठाए हैं फ़िक्र-ओ-फ़न भी पाए हैं ज़िंदगी को जितना भी जी सके जिया हम ने सुब्ह का नया सूरज कुछ तो रौशनी लेगा शाम से जलाया है आस का दिया हम ने दाग़-ए-दिल की ज़रदारी मुफ़्त हाथ कब आई ख़ाक हो के पाया है राज़-ए-कीमिया हम ने

Ameeq Hanafi

0 likes

غبار و گرد نے سمجھا ہے رہنما مجھ کو تلاش کرتا پھرا ہے یہ قافلہ مجھ کو طویل راہ سفر پر ہیں پھوٹ پھوٹ پڑا لگ کیوں سمجھتے مری پیر آبلا مجھ کو شکست دل کی صدا ہوں بکھر بھی جانے دے خطوط و رنگ کی زنجیر مت پن ہاں مجھ کو زمین پر ہے سمندر فلک پہ ابر غبار اتارتی ہے ک ہاں دیکھیے ہوا مجھ کو سکوت ترک تعلق کا اک گراں لمحہ بنا گیا تو ہے صداؤں کا سلسلہ مجھ کو حقیقت دور دور سے اب کیوں مجھے جلاتا ہے قریب آ کے بے حد جو بجھا گیا تو مجھ کو رچا کے ایک طلسم ثوابت و سیار کشش ہے وہ ہے وہ اپنی بلانے لگا خلا مجھ کو

Ameeq Hanafi

0 likes

ہے وہ ہے وہ بھی کب سے چپ بیٹھا ہوں حقیقت بھی کب سے چپ بیٹھی ہے یہ ہے وصال کی رسم انوکھی یہ ملنے کی ریت نئی ہے حقیقت جب مجھ کو دیکھ رہی تھی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو دیکھ لیا تھا بس اتنی سی بات تھی لیکن بڑھتے بڑھتے کتنے بڑھی ہے بے صورت بے جسم آوازیں اندر بھیج رہی ہیں ہوائیں بند ہیں کمرے کے دروازے لیکن کھڑکی کھلی ہوئی ہے میرے گھر کی چھت کے اوپر سورج آیا چاند بھی اترا چھت کے نیچے کے کمروں کی جیسی تھی اوقات وہی ہے

Ameeq Hanafi

0 likes

ہے وہ ہے وہ ہوا ہوں ک ہاں وطن میرا دشت میرا لگ یہ چمن میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ ہر چند ایک خا لگ نشین صورت آشنا صورت آشنا سخن میرا برگ گل پر چراغ سا کیا ہے چھو گیا تو تھا اسے دہن میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ ٹوٹا ہوا ستارہ ہوں کیا بگاڑےگی صورت آشنا میرا ہر گھڑی اک نیا تقاضا ہے درد سر بن گیا تو بدن میرا

Ameeq Hanafi

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ameeq Hanafi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ameeq Hanafi's ghazal.