ہے وہ ہے وہ بھی کب سے چپ بیٹھا ہوں حقیقت بھی کب سے چپ بیٹھی ہے یہ ہے وصال کی رسم انوکھی یہ ملنے کی ریت نئی ہے حقیقت جب مجھ کو دیکھ رہی تھی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو دیکھ لیا تھا بس اتنی سی بات تھی لیکن بڑھتے بڑھتے کتنے بڑھی ہے بے صورت بے جسم آوازیں اندر بھیج رہی ہیں ہوائیں بند ہیں کمرے کے دروازے لیکن کھڑکی کھلی ہوئی ہے میرے گھر کی چھت کے اوپر سورج آیا چاند بھی اترا چھت کے نیچے کے کمروں کی جیسی تھی اوقات وہی ہے
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں
Tehzeeb Hafi
268 likes
More from Ameeq Hanafi
غبار و گرد نے سمجھا ہے رہنما مجھ کو تلاش کرتا پھرا ہے یہ قافلہ مجھ کو طویل راہ سفر پر ہیں پھوٹ پھوٹ پڑا لگ کیوں سمجھتے مری پیر آبلا مجھ کو شکست دل کی صدا ہوں بکھر بھی جانے دے خطوط و رنگ کی زنجیر مت پن ہاں مجھ کو زمین پر ہے سمندر فلک پہ ابر غبار اتارتی ہے ک ہاں دیکھیے ہوا مجھ کو سکوت ترک تعلق کا اک گراں لمحہ بنا گیا تو ہے صداؤں کا سلسلہ مجھ کو حقیقت دور دور سے اب کیوں مجھے جلاتا ہے قریب آ کے بے حد جو بجھا گیا تو مجھ کو رچا کے ایک طلسم ثوابت و سیار کشش ہے وہ ہے وہ اپنی بلانے لگا خلا مجھ کو
Ameeq Hanafi
0 likes
ہے نور خدا بھی ی ہاں عرفان خدا بھی یہ ذات کہ ہے وا گرا سینا بھی ہرا بھی ا سے بن ہے وہ ہے وہ کیا کرتی ہے تپ مری انا بھی ا سے شہر ہے وہ ہے وہ ہے کارگہ ارض و سما بھی کرتا ہوں بے پیرہن اپنا تو ملتی ہے نئی راہ قبلہ بھی ہے یہ ذات میرا قبلہ نما بھی خود آگہی و خود نگہی کا ہے یہ انعام اور جرم شناسائی عالم کی سزا بھی ہوتا ہے شب و روز تماشا سر احسا سے جو دیکھتی رہتی ہے مری آنکھ دکھا بھی کرتی ہے کمر بستہ سفر پر بھی یہی ذات جب دور نکل جاتا ہوں دیتی ہے صدا بھی زرے ہے وہ ہے وہ ہے کونین تو کونین ہے وہ ہے وہ ذرہ کچھ ہے تجھے ملاکوٹی پتا بھی
Ameeq Hanafi
0 likes
अर्ज़-ए-मुद्दआ करते क्यूँँ नहीं किया हम ने ख़्वाहिशों को हसरत में ख़ुद बदल दिया हम ने नित नई उमीदों के टाँक टाँक कर पैवंद ज़िंदगी के दामन को उम्र-भर सिया हम ने रंज-ओ-ग़म उठाए हैं फ़िक्र-ओ-फ़न भी पाए हैं ज़िंदगी को जितना भी जी सके जिया हम ने सुब्ह का नया सूरज कुछ तो रौशनी लेगा शाम से जलाया है आस का दिया हम ने दाग़-ए-दिल की ज़रदारी मुफ़्त हाथ कब आई ख़ाक हो के पाया है राज़-ए-कीमिया हम ने
Ameeq Hanafi
0 likes
ہے وہ ہے وہ ہوا ہوں ک ہاں وطن میرا دشت میرا لگ یہ چمن میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ ہر چند ایک خا لگ نشین صورت آشنا صورت آشنا سخن میرا برگ گل پر چراغ سا کیا ہے چھو گیا تو تھا اسے دہن میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ ٹوٹا ہوا ستارہ ہوں کیا بگاڑےگی صورت آشنا میرا ہر گھڑی اک نیا تقاضا ہے درد سر بن گیا تو بدن میرا
Ameeq Hanafi
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ameeq Hanafi.
Similar Moods
More moods that pair well with Ameeq Hanafi's ghazal.







