chand ka patthar bandh ke tan se utri manzar-e-khvab men chup chidiyan duur sidhar gaiin aur duub gai talab men chup lafzon ke batvare men is chikh-bhare gahvare men bol to ham bhi sakte hain par shamil hai adab men chup pahle to chaupal men apna jism chatakhta rahta tha chal nikli jab baat safar ki phail gai aasab men chup ab to ham yuun rahte hain is hijr-bhare virane men jaise aankh men aansu gum ho jaise harf kitab men chup apni aahat ko bhi apne saath nahin le jaate vo teri raah pe chalne vaale rakhte hain asbab men chup chand ka patthar bandh ke tan se utri manzar-e-khwab mein chup chidiyan dur sidhaar gain aur dub gai talab mein chup lafzon ke batware mein is chikh-bhare gahware mein bol to hum bhi sakte hain par shamil hai aadab mein chup pahle to chaupal mein apna jism chatakhta rahta tha chal nikli jab baat safar ki phail gai aasab mein chup ab to hum yun rahte hain is hijr-bhare virane mein jaise aankh mein aansu gum ho jaise harf kitab mein chup apni aahat ko bhi apne sath nahin le jate wo teri rah pe chalne wale rakhte hain asbab mein chup
Related Ghazal
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
تمہارا رنگ دنیا نے چھوا تھا تب ک ہاں تھے جاناں ہمارا کینو سے خالی پڑا تھا تب ک ہاں تھے جاناں مری لشکر ہے وہ ہے وہ شراکت کی اجازت مانگنے والو ہے وہ ہے وہ ہے وہ پرچم تھام کر تنہا کھڑا تھا تب ک ہاں تھے جاناں تمہاری دستکوں پر رحم آتا ہے مجھے لیکن یہ دروازہ کئی دن سے کھلا تھا تب ک ہاں تھے جاناں پھلوں پر حق جتانے آئی ہوں تو یہ بھی بتلا دو ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب پودوں کو پانی دے رہا تھا تب ک ہاں تھے جاناں یہ ب سے اک رسمیہ تفتیش ہے آرام سے بیٹھو وفا کا خون ج سے شب کو ہوا تھا تب ک ہاں تھے جاناں سندلی چاہتا ہوں اب تو ب سے خبروں سے زار ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب رومانی فل ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھتا تھا تب ک ہاں تھے جاناں
Zubair Ali Tabish
34 likes
شور کروں گا اور لگ کچھ بھی بولوںگا خموشی سے اپنا رونا رو لوں گا ساری عمر اسی خواہش ہے وہ ہے وہ گزری ہے دستک ہوں گی اور دروازہ کھولوںگا تنہائی ہے وہ ہے وہ خود سے باتیں کرنی ہیں مری منا ہے وہ ہے وہ جو آئےگا بولوںگا رات بے حد ہے جاناں چاہو تو سو جاؤ میرا کیا ہے ہے وہ ہے وہ دن ہے وہ ہے وہ بھی سو لوں گا جاناں کو دل کی بات بتانی ہے لیکن آنکھیں بند کروں تو مٹھی کھولوںگا
Tehzeeb Hafi
84 likes
کیا کہےگا کبھی ملنے بھی ا گر آئےگا حقیقت اب وفاداری کی ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو نہیں کھائےگا حقیقت ہم سمجھتے تھے کہ ہم اس کا کو بھلا سکتے ہیں حقیقت سمجھتا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھول نہیں پائے گا حقیقت کتنا سوچا تھا پر اتنا تو نہیں سوچا تھا یاد بن جائےگا حقیقت خواب نظر آئےگا حقیقت سب کے ہوتے ہوئے اک روز حقیقت تنہا ہوگا پھروں حقیقت ڈھونڈےگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور نہیں پائے گا حقیقت اتفاقاً جو کبھی سامنے آیا اجمل اب حقیقت تنہا تو لگ ہوگا جو ٹھہر جائےگا حقیقت
Ajmal Siraj
50 likes
مجھ ہے وہ ہے وہ کتنے راز ہیں بتلاؤں کیا بند ایک مدت سے ہوں کھل جاؤں کیا تاب غم منت خوشامد التجا اور ہے وہ ہے وہ کیا کیا کروں مر جاؤں کیا تری جلسے ہے وہ ہے وہ تیرا پرچم لیے سیکڑوں لاشیں بھی ہیں گنواؤں کیا کل ی ہاں ہے وہ ہے وہ تھا ج ہاں جاناں آج ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہاری ہی طرح اتراوں کیا ایک پتھر ہے حقیقت مری راہ کا گر لگ ٹھکراؤں تو ٹھوکر کھاؤں کیا پھروں جگایا تو نے سوئے شعر کو پھروں وہی لہجہ درازی آؤں کیا
Rahat Indori
56 likes
More from Abbas Tabish
کوئی ٹکرا کے جمال دنیا بھی تو ہوں سکتا ہے مری تعمیر ہے وہ ہے وہ پتھر بھی تو ہوں سکتا ہے کیوں لگ اے بے وجہ تجھے ہاتھ لگا کر دیکھوں تو مری وہم سے بڑھ کر بھی تو ہوں سکتا ہے تو ہی تو ہے تو پھروں اب جملہ خیرو تیرا شک اور کسی پر بھی تو ہوں سکتا ہے یہ جو ہے پھول ہتھیلی پہ اسے پھول لگ جان میرا دل جسم سے باہر بھی تو ہوں سکتا ہے شاخ پر بیٹھے پرندے کو اڑانے والے پیڑ کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ پتھر بھی تو ہوں سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ باہر ہی نمو ہوں مری میرا کھلنا مری اندر بھی تو ہوں سکتا ہے یہ جو ہے ریت کا ٹیلا مری قدموں کے تلے کوئی دم ہے وہ ہے وہ مری اوپر بھی تو ہوں سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ ہم ہار کے جیتیں تابش عشق کا کھیل برابر بھی تو ہوں سکتا ہے
Abbas Tabish
8 likes
ٹوٹتے عشق ہے وہ ہے وہ کچھ ہاتھ بٹاتے جاتے سارا ملبا مری اوپر لگ گراتے جاتے اتنی عجلت ہے وہ ہے وہ بھی کیا آنکھ سے اوجھل ہونا جا رہے تھے تو مجھے جاناں نظر آتے جاتے کم سے کم رکھتا پلٹنے کی توقع جاناں سے ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہاتھ لیا تھا تو دباتے جاتے کن اندھیروں ہے وہ ہے وہ مجھے چھوڑ دیا ہے جاناں نے ا سے سے بہتر تھا مجھے آگ لگاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ہوتا تری رستے کے درختوں ہے وہ ہے وہ درخت ا سے طرح دیکھ تو لیتا تجھے آتے جاتے
Abbas Tabish
12 likes
جدائی کا زما لگ یوں ٹھکانے لگ گیا تو تھا بچھڑ کر ا سے سے ہے وہ ہے وہ لکھنے لکھانے لگ گیا تو تھا تبھی تو زنگ آلودہ ہوئی تلوار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ دشمن پر محبت لگ گیا تو تھا ابھی سمجھا رہا تھا حقیقت مجھے بوسے کا زار کہ ہے وہ ہے وہ شہتوت کے ر سے ہے وہ ہے وہ نہانے لگ گیا تو تھا محبت ہوں نہیں پائی تو ا سے کا کیا کروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ ہے وہ ہے وہ تو ا سے گلی ہے وہ ہے وہ آنے جانے لگے گیا تو تھا تبھی تو مری آنکھوں کو نہیں رونے کی عادت ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوٹی عمر ہے وہ ہے وہ آنسو چھپانے لگ گیا تو تھا
Abbas Tabish
19 likes
یہ بتا یوم محبت کا سماں ہے کہ نہیں شہر کا شہر گلابوں کی دکان ہے کہ نہیں عادتن ا سے کے لیے پھول خریدے ورنا نہیں معلوم حقیقت ا سے بار ی ہاں ہے کہ نہیں یہ تری بعد جو لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ لمبی سانسیں مجھ کو یہ جاننا ہے جسم ہے وہ ہے وہ جاں ہے کہ نہیں ہم تو پھولوں کے عوض پھول لیا کرتے ہیں کیا خبر ا سے رواج آپ کے ی ہاں ہے کہ نہیں ا سے گلی کا تو پتا ٹھیک بتایا تو نے یہ بتا ا سے ہے وہ ہے وہ حقیقت دلدار مکان ہے کہ نہیں پہلے تو مجھ کو دلاتے ہے حقیقت غصہ تابش اور پھروں پوچھتے ہے منا ہے وہ ہے وہ زبان ہے کہ نہیں
Abbas Tabish
13 likes
جاناں ہوں تو قریب اور قریب رگ جاں ہوں پھروں کیوں یہ مجھے پوچھنا پڑتا ہے ک ہاں ہوں ممکن ہے کہ ا سے باغ ہے وہ ہے وہ دم گھٹنے کا باعث خوشبو جسے کہتے ہیں حقیقت پھولوں کا دھواں ہوں جاناں سے تو پڑھی جاتی نہیں اشکوں کی سطرے چنو یہ کسی اور ج ہاں کی زبان ہوں ا سے طرح سر فرش عزا بیٹھی ہے تابش چنو یہ اداسی کسی مقتول کی ماں ہوں ماں تھی تو مجھے رات نہیں پڑتی تھی باہر اب کوئی نہیں پوچھتا عبا سے ک ہاں ہوں
Abbas Tabish
7 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Abbas Tabish.
Similar Moods
More moods that pair well with Abbas Tabish's ghazal.







