چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ لوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھ فیصلہ یہ تو بہر حال تجھے کرنا ہے ذہن کے ساتھ سلگنا ہے کہ جذبات کے ساتھ گفتگو دیر سے جاری ہے نتیجے کے بغیر اک نئی بات نکل آتی ہے ہر بات کے ساتھ اب کے یہ سوچ کے جاناں زخم جدائی دینا دل بھی بجھ جائےگا ڈھلتی ہوئی ای سے رات کے ساتھ جاناں وہی ہوں کہ جو پہلے تھے مری نظروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا اضافہ ہوا ان اطلَس و بانات کے ساتھ اتنا پسپا نہ ہوں دیوار سے لگ جائےگا اتنے سمجھوتے نہ کر صورت حالات کے ساتھ بھیجتا رہتا ہے گم نام خطوں ہے وہ ہے وہ کچھ پھول ای سے دودمان کہ سے کو محبت ہے مری ذات کے ساتھ
Related Ghazal
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن
Varun Anand
81 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
More from Aitbar Sajid
گھر کی دہلیز سے بازار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا جاناں کسی چشم خریدار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا خاک اڑانا انہی گلیوں ہے وہ ہے وہ بھلا لگتا ہے چلتے پھرتے کسی دربار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا یوںہی خوشبو کی طرح پھیلتے رہنا ہر سو جاناں کسی دام طلبگار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا دور ساحل پہ کھڑے رہ کے تماشا کرنا کسی امید کے منجھدار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا اچھے لگتے ہوں کہ خود سر نہیں دودمان ہوں جاناں ہاں سمٹ کے بت پندار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا چاند کہتا ہوں تو زار لگ غلط لینا جاناں رات کو روزن دیوار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا
Aitbar Sajid
1 likes
میرا ہے کون دشمن مری چاہت کون رکھتا ہے اسی پر سوچتے رہنے کی فرصت کون رکھتا ہے مکینوں کے مقدم ہی سے یاد آتی ہے ہر بستی وگر لگ صرف بام و در سے الفت کون رکھتا ہے نہیں ہے نرخ کوئی مری ان اشعار تازہ کا یہ مری خواب ہیں خوابوں کی قیمت کون رکھتا ہے در خیمہ کھلا رکھا ہے گل کر کے دیا ہم نے سو اجازت عام ہے لو شوق رخصت کون رکھتا ہے مرے دشمن کا قد ا سے بھیڑ ہے وہ ہے وہ مجھ سے تو اونچا ہوں یہی ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہوں ایسی قامت کون رکھتا ہے ہمارے شہر کی رونق ہے کچھ مشہور لوگوں سے م گر سب جانتے ہیں کیسی شہرت کون رکھتا ہے
Aitbar Sajid
0 likes
مجھ سے مخلص تھا لگ واقف مری جذبات سے تھا ا سے کا رشتہ تو فقط اپنے مفادات سے تھا اب جو بچھڑا ہے تو کیا روئیں جدائی پہ تری یہی اندیشہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلی ملاقات سے تھا دل کے بجھنے کا ہواؤں سے گلہ کیا کرنا یہ دیا نزع کے عالم ہے وہ ہے وہ تو کل رات سے تھا مرکز شہر ہے وہ ہے وہ رہنے پہ مصر تھی خلقت اور ہے وہ ہے وہ وابستہ تری دل کے مضافات سے تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خرابوں کا جلوے اور تعلق میرا تری کم عقل کبھی خوابوں کے محلات سے تھا لب کشائی پہ کھلا ا سے کے سخن سے افلا سے کتنا آراستہ حقیقت اطل سے و بانات سے تھا
Aitbar Sajid
1 likes
تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مری دل سے بوجھ اتار دو ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد دنوں سے ادا سے ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مری خال و خد مجھے اپنے رنگ ہے وہ ہے وہ رنگ دو مری سارے رنگ اتار دو کسی اور کو مری حال سے لگ غرض ہے کوئی لگ واسطہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بکھر گیا تو ہوں سمیٹ لو ہے وہ ہے وہ بگڑ گیا تو ہوں سنوارت دو
Aitbar Sajid
1 likes
جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جو محبتوں کی احساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل وہی لوگ میرے ہیں ہم سفر مجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے مجھے گل آرزو کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے مری عمر بھر کی جو پیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے یہ خیال سارے ہیں عارضی یہ گلاب سارے ہیں کاغذی شریک راہ سفر کی جو باس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جنہیں کر سکا نہ قبول ہے وہ ہے وہ حقیقت خواب زار ہوئے جو مری طلب مری آس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے مری دھڑکنوں کے قریب تھے مری چاہ تھے میرا خواب تھے حقیقت جو روز و شب مری پاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
Aitbar Sajid
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Aitbar Sajid.
Similar Moods
More moods that pair well with Aitbar Sajid's ghazal.







