ghazalKuch Alfaaz

جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جو محبتوں کی احساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل وہی لوگ میرے ہیں ہم سفر مجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے مجھے گل آرزو کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے مری عمر بھر کی جو پیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے یہ خیال سارے ہیں عارضی یہ گلاب سارے ہیں کاغذی شریک راہ سفر کی جو باس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جنہیں کر سکا نہ قبول ہے وہ ہے وہ حقیقت خواب زار ہوئے جو مری طلب مری آس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے مری دھڑکنوں کے قریب تھے مری چاہ تھے میرا خواب تھے حقیقت جو روز و شب مری پاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے

Tehzeeb Hafi

262 likes

More from Aitbar Sajid

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ لوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھ فیصلہ یہ تو بہر حال تجھے کرنا ہے ذہن کے ساتھ سلگنا ہے کہ جذبات کے ساتھ گفتگو دیر سے جاری ہے نتیجے کے بغیر اک نئی بات نکل آتی ہے ہر بات کے ساتھ اب کے یہ سوچ کے جاناں زخم جدائی دینا دل بھی بجھ جائےگا ڈھلتی ہوئی ای سے رات کے ساتھ جاناں وہی ہوں کہ جو پہلے تھے مری نظروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا اضافہ ہوا ان اطلَس و بانات کے ساتھ اتنا پسپا نہ ہوں دیوار سے لگ جائےگا اتنے سمجھوتے نہ کر صورت حالات کے ساتھ بھیجتا رہتا ہے گم نام خطوں ہے وہ ہے وہ کچھ پھول ای سے دودمان کہ سے کو محبت ہے مری ذات کے ساتھ

Aitbar Sajid

0 likes

میرا ہے کون دشمن مری چاہت کون رکھتا ہے اسی پر سوچتے رہنے کی فرصت کون رکھتا ہے مکینوں کے مقدم ہی سے یاد آتی ہے ہر بستی وگر لگ صرف بام و در سے الفت کون رکھتا ہے نہیں ہے نرخ کوئی مری ان اشعار تازہ کا یہ مری خواب ہیں خوابوں کی قیمت کون رکھتا ہے در خیمہ کھلا رکھا ہے گل کر کے دیا ہم نے سو اجازت عام ہے لو شوق رخصت کون رکھتا ہے مرے دشمن کا قد ا سے بھیڑ ہے وہ ہے وہ مجھ سے تو اونچا ہوں یہی ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہوں ایسی قامت کون رکھتا ہے ہمارے شہر کی رونق ہے کچھ مشہور لوگوں سے م گر سب جانتے ہیں کیسی شہرت کون رکھتا ہے

Aitbar Sajid

0 likes

گھر کی دہلیز سے بازار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا جاناں کسی چشم خریدار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا خاک اڑانا انہی گلیوں ہے وہ ہے وہ بھلا لگتا ہے چلتے پھرتے کسی دربار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا یوںہی خوشبو کی طرح پھیلتے رہنا ہر سو جاناں کسی دام طلبگار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا دور ساحل پہ کھڑے رہ کے تماشا کرنا کسی امید کے منجھدار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا اچھے لگتے ہوں کہ خود سر نہیں دودمان ہوں جاناں ہاں سمٹ کے بت پندار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا چاند کہتا ہوں تو زار لگ غلط لینا جاناں رات کو روزن دیوار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا

Aitbar Sajid

1 likes

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مری دل سے بوجھ اتار دو ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد دنوں سے ادا سے ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مری خال و خد مجھے اپنے رنگ ہے وہ ہے وہ رنگ دو مری سارے رنگ اتار دو کسی اور کو مری حال سے لگ غرض ہے کوئی لگ واسطہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بکھر گیا تو ہوں سمیٹ لو ہے وہ ہے وہ بگڑ گیا تو ہوں سنوارت دو

Aitbar Sajid

1 likes

مجھ سے مخلص تھا لگ واقف مری جذبات سے تھا ا سے کا رشتہ تو فقط اپنے مفادات سے تھا اب جو بچھڑا ہے تو کیا روئیں جدائی پہ تری یہی اندیشہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلی ملاقات سے تھا دل کے بجھنے کا ہواؤں سے گلہ کیا کرنا یہ دیا نزع کے عالم ہے وہ ہے وہ تو کل رات سے تھا مرکز شہر ہے وہ ہے وہ رہنے پہ مصر تھی خلقت اور ہے وہ ہے وہ وابستہ تری دل کے مضافات سے تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خرابوں کا جلوے اور تعلق میرا تری کم عقل کبھی خوابوں کے محلات سے تھا لب کشائی پہ کھلا ا سے کے سخن سے افلا سے کتنا آراستہ حقیقت اطل سے و بانات سے تھا

Aitbar Sajid

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Aitbar Sajid.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Aitbar Sajid's ghazal.