ghazalKuch Alfaaz

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مری دل سے بوجھ اتار دو ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد دنوں سے ادا سے ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مری خال و خد مجھے اپنے رنگ ہے وہ ہے وہ رنگ دو مری سارے رنگ اتار دو کسی اور کو مری حال سے لگ غرض ہے کوئی لگ واسطہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بکھر گیا تو ہوں سمیٹ لو ہے وہ ہے وہ بگڑ گیا تو ہوں سنوارت دو

Related Ghazal

مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو

Fazil Jamili

73 likes

حقیقت ایک پکشی جو گونجن کر رہا ہے حقیقت مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پریم سرجن کر رہا ہے بے حد دن ہوں گئے ہے جاناں سے بچھڑے تمہیں ملنے کو اب من کر رہا ہے ن گرا کے شانت تٹ پر بیٹھ کر من تیری یادیں وسرجن کر رہا ہے

Azhar Iqbal

61 likes

مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری

Ali Zaryoun

70 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

مہینوں بعد دفترون آ رہے ہیں ہم ایک صدمے سے باہر آ رہے ہیں تیری با ہوں سے دل اکتا گیا تو ہیں اب ا سے جھولے ہے وہ ہے وہ چکر آ رہے ہیں ک ہاں سویا ہے چوکیدار میرا یہ کیسے لوگ اندر آ رہے ہیں سمندر کر چکا تسلیم ہم کو خزانے خود ہی اوپر آ رہے ہیں یہی ایک دن بچا تھا دیکھنے کو اسے ب سے ہے وہ ہے وہ بٹھا کر آ رہے ہیں

Tehzeeb Hafi

116 likes

More from Aitbar Sajid

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ لوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھ فیصلہ یہ تو بہر حال تجھے کرنا ہے ذہن کے ساتھ سلگنا ہے کہ جذبات کے ساتھ گفتگو دیر سے جاری ہے نتیجے کے بغیر اک نئی بات نکل آتی ہے ہر بات کے ساتھ اب کے یہ سوچ کے جاناں زخم جدائی دینا دل بھی بجھ جائےگا ڈھلتی ہوئی ای سے رات کے ساتھ جاناں وہی ہوں کہ جو پہلے تھے مری نظروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا اضافہ ہوا ان اطلَس و بانات کے ساتھ اتنا پسپا نہ ہوں دیوار سے لگ جائےگا اتنے سمجھوتے نہ کر صورت حالات کے ساتھ بھیجتا رہتا ہے گم نام خطوں ہے وہ ہے وہ کچھ پھول ای سے دودمان کہ سے کو محبت ہے مری ذات کے ساتھ

Aitbar Sajid

0 likes

گھر کی دہلیز سے بازار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا جاناں کسی چشم خریدار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا خاک اڑانا انہی گلیوں ہے وہ ہے وہ بھلا لگتا ہے چلتے پھرتے کسی دربار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا یوںہی خوشبو کی طرح پھیلتے رہنا ہر سو جاناں کسی دام طلبگار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا دور ساحل پہ کھڑے رہ کے تماشا کرنا کسی امید کے منجھدار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا اچھے لگتے ہوں کہ خود سر نہیں دودمان ہوں جاناں ہاں سمٹ کے بت پندار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا چاند کہتا ہوں تو زار لگ غلط لینا جاناں رات کو روزن دیوار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا

Aitbar Sajid

1 likes

میرا ہے کون دشمن مری چاہت کون رکھتا ہے اسی پر سوچتے رہنے کی فرصت کون رکھتا ہے مکینوں کے مقدم ہی سے یاد آتی ہے ہر بستی وگر لگ صرف بام و در سے الفت کون رکھتا ہے نہیں ہے نرخ کوئی مری ان اشعار تازہ کا یہ مری خواب ہیں خوابوں کی قیمت کون رکھتا ہے در خیمہ کھلا رکھا ہے گل کر کے دیا ہم نے سو اجازت عام ہے لو شوق رخصت کون رکھتا ہے مرے دشمن کا قد ا سے بھیڑ ہے وہ ہے وہ مجھ سے تو اونچا ہوں یہی ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہوں ایسی قامت کون رکھتا ہے ہمارے شہر کی رونق ہے کچھ مشہور لوگوں سے م گر سب جانتے ہیں کیسی شہرت کون رکھتا ہے

Aitbar Sajid

0 likes

جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جو محبتوں کی احساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل وہی لوگ میرے ہیں ہم سفر مجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے مجھے گل آرزو کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے مری عمر بھر کی جو پیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے یہ خیال سارے ہیں عارضی یہ گلاب سارے ہیں کاغذی شریک راہ سفر کی جو باس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جنہیں کر سکا نہ قبول ہے وہ ہے وہ حقیقت خواب زار ہوئے جو مری طلب مری آس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے مری دھڑکنوں کے قریب تھے مری چاہ تھے میرا خواب تھے حقیقت جو روز و شب مری پاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

Aitbar Sajid

1 likes

مجھ سے مخلص تھا لگ واقف مری جذبات سے تھا ا سے کا رشتہ تو فقط اپنے مفادات سے تھا اب جو بچھڑا ہے تو کیا روئیں جدائی پہ تری یہی اندیشہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلی ملاقات سے تھا دل کے بجھنے کا ہواؤں سے گلہ کیا کرنا یہ دیا نزع کے عالم ہے وہ ہے وہ تو کل رات سے تھا مرکز شہر ہے وہ ہے وہ رہنے پہ مصر تھی خلقت اور ہے وہ ہے وہ وابستہ تری دل کے مضافات سے تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خرابوں کا جلوے اور تعلق میرا تری کم عقل کبھی خوابوں کے محلات سے تھا لب کشائی پہ کھلا ا سے کے سخن سے افلا سے کتنا آراستہ حقیقت اطل سے و بانات سے تھا

Aitbar Sajid

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Aitbar Sajid.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Aitbar Sajid's ghazal.