ghazalKuch Alfaaz

گھر کی دہلیز سے بازار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا جاناں کسی چشم خریدار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا خاک اڑانا انہی گلیوں ہے وہ ہے وہ بھلا لگتا ہے چلتے پھرتے کسی دربار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا یوںہی خوشبو کی طرح پھیلتے رہنا ہر سو جاناں کسی دام طلبگار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا دور ساحل پہ کھڑے رہ کے تماشا کرنا کسی امید کے منجھدار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا اچھے لگتے ہوں کہ خود سر نہیں دودمان ہوں جاناں ہاں سمٹ کے بت پندار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا چاند کہتا ہوں تو زار لگ غلط لینا جاناں رات کو روزن دیوار ہے وہ ہے وہ مت آ جانا

Related Ghazal

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

کیا غلط فہمی ہے وہ ہے وہ رہ جانے کا صدمہ کچھ نہیں حقیقت مجھے سمجھا تو سکتا تھا کہ ایسا کچھ نہيں عشق سے بچ کر بھی بندہ کچھ نہیں ہوتا مغر یہ بھی سچ ہے عشق ہے وہ ہے وہ بندے کا اختیار کچھ نہیں جانے کیسے راز سینے ہے وہ ہے وہ لیے بیٹھا ہے حقیقت زہر کھا لیتا ہے پر منا سے اگلتا کچھ نہیں شکر ہے کہ ا سے نے مجھ سے کہ دیا کہ کچھ تو ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے کہنے ہی والا تھا کہ اچھا کچھ نہیں

Tehzeeb Hafi

105 likes

More from Aitbar Sajid

جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جو محبتوں کی احساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل وہی لوگ میرے ہیں ہم سفر مجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے مجھے گل آرزو کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے مری عمر بھر کی جو پیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے یہ خیال سارے ہیں عارضی یہ گلاب سارے ہیں کاغذی شریک راہ سفر کی جو باس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جنہیں کر سکا نہ قبول ہے وہ ہے وہ حقیقت خواب زار ہوئے جو مری طلب مری آس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے مری دھڑکنوں کے قریب تھے مری چاہ تھے میرا خواب تھے حقیقت جو روز و شب مری پاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

Aitbar Sajid

1 likes

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ لوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھ فیصلہ یہ تو بہر حال تجھے کرنا ہے ذہن کے ساتھ سلگنا ہے کہ جذبات کے ساتھ گفتگو دیر سے جاری ہے نتیجے کے بغیر اک نئی بات نکل آتی ہے ہر بات کے ساتھ اب کے یہ سوچ کے جاناں زخم جدائی دینا دل بھی بجھ جائےگا ڈھلتی ہوئی ای سے رات کے ساتھ جاناں وہی ہوں کہ جو پہلے تھے مری نظروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا اضافہ ہوا ان اطلَس و بانات کے ساتھ اتنا پسپا نہ ہوں دیوار سے لگ جائےگا اتنے سمجھوتے نہ کر صورت حالات کے ساتھ بھیجتا رہتا ہے گم نام خطوں ہے وہ ہے وہ کچھ پھول ای سے دودمان کہ سے کو محبت ہے مری ذات کے ساتھ

Aitbar Sajid

0 likes

میرا ہے کون دشمن مری چاہت کون رکھتا ہے اسی پر سوچتے رہنے کی فرصت کون رکھتا ہے مکینوں کے مقدم ہی سے یاد آتی ہے ہر بستی وگر لگ صرف بام و در سے الفت کون رکھتا ہے نہیں ہے نرخ کوئی مری ان اشعار تازہ کا یہ مری خواب ہیں خوابوں کی قیمت کون رکھتا ہے در خیمہ کھلا رکھا ہے گل کر کے دیا ہم نے سو اجازت عام ہے لو شوق رخصت کون رکھتا ہے مرے دشمن کا قد ا سے بھیڑ ہے وہ ہے وہ مجھ سے تو اونچا ہوں یہی ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہوں ایسی قامت کون رکھتا ہے ہمارے شہر کی رونق ہے کچھ مشہور لوگوں سے م گر سب جانتے ہیں کیسی شہرت کون رکھتا ہے

Aitbar Sajid

0 likes

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مری دل سے بوجھ اتار دو ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد دنوں سے ادا سے ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مری خال و خد مجھے اپنے رنگ ہے وہ ہے وہ رنگ دو مری سارے رنگ اتار دو کسی اور کو مری حال سے لگ غرض ہے کوئی لگ واسطہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بکھر گیا تو ہوں سمیٹ لو ہے وہ ہے وہ بگڑ گیا تو ہوں سنوارت دو

Aitbar Sajid

1 likes

مجھ سے مخلص تھا لگ واقف مری جذبات سے تھا ا سے کا رشتہ تو فقط اپنے مفادات سے تھا اب جو بچھڑا ہے تو کیا روئیں جدائی پہ تری یہی اندیشہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلی ملاقات سے تھا دل کے بجھنے کا ہواؤں سے گلہ کیا کرنا یہ دیا نزع کے عالم ہے وہ ہے وہ تو کل رات سے تھا مرکز شہر ہے وہ ہے وہ رہنے پہ مصر تھی خلقت اور ہے وہ ہے وہ وابستہ تری دل کے مضافات سے تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خرابوں کا جلوے اور تعلق میرا تری کم عقل کبھی خوابوں کے محلات سے تھا لب کشائی پہ کھلا ا سے کے سخن سے افلا سے کتنا آراستہ حقیقت اطل سے و بانات سے تھا

Aitbar Sajid

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Aitbar Sajid.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Aitbar Sajid's ghazal.