duniya men huun duniya ka talabgar nahin huun bazar se guzra huun kharidar nahin huun zinda huun magar ziist ki lazzat nahin baaqi har-chand ki huun hosh men hushyar nahin huun is khana-e-hasti se guzar jaunga be-laus saaya huun faqat naqsh-ba-divar nahin huun afsurda huun ibrat se dava ki nahin hajat ghham ka mujhe ye zoaf hai bimar nahin huun vo gul huun khizan ne jise barbad kiya hai uljhun kisi daman se main vo khaar nahin huun ya rab mujhe mahfuz rakh us but ke sitam se main us ki inayat ka talabgar nahin huun go dava-e-taqva nahin dargah-e-khuda men but jis se hon khush aisa gunahgar nahin huun afsurdagi o zoaf ki kuchh had nahin 'akbar' kafir ke muqabil men bhi din-dar nahin huun duniya mein hun duniya ka talabgar nahin hun bazar se guzra hun kharidar nahin hun zinda hun magar zist ki lazzat nahin baqi har-chand ki hun hosh mein hushyar nahin hun is khana-e-hasti se guzar jaunga be-laus saya hun faqat naqsh-ba-diwar nahin hun afsurda hun ibrat se dawa ki nahin hajat gham ka mujhe ye zoaf hai bimar nahin hun wo gul hun khizan ne jise barbaad kiya hai uljhun kisi daman se main wo khar nahin hun ya rab mujhe mahfuz rakh us but ke sitam se main us ki inayat ka talabgar nahin hun go dawa-e-taqwa nahin dargah-e-khuda mein but jis se hon khush aisa gunahgar nahin hun afsurdagi o zoaf ki kuchh had nahin 'akbar' kafir ke muqabil mein bhi din-dar nahin hun
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
More from Akbar Allahabadi
ضد ہے ا نہیں پورا میرا ارمان لگ کریںگے منا سے جو نہیں نکلی ہے اب ہاں لگ کریںگے کیوں زلف کا بوسہ مجھے لینے نہیں دیتے کہتے ہیں کہ واللہ پریشاں لگ کریںگے ہے ذہن ہے وہ ہے وہ اک بات تمہارے متعلق خلوت ہے وہ ہے وہ جو پوچھوگے تو پن ہاں لگ کریںگے واعظ تو بناتے ہیں مسلمان کو کافر افسو سے یہ کافر کو مسلماناں لگ کریںگے کیوں شکر گزاری کا مجھے شوق ہے اتنا سنتا ہوں حقیقت مجھ پر کوئی احسان لگ کریںگے دیوا لگ لگ سمجھے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت سمجھے شرابی اب چاک کبھی جیب و گریباں لگ کریںگے حقیقت جانتے ہیں غیر مری گھر ہے وہ ہے وہ ہے مہمان آئیں گے تو مجھ پر کوئی احسان لگ کریںگے
Akbar Allahabadi
2 likes
تری زلفوں ہے وہ ہے وہ دل الجھا ہوا ہے بلا کے پیچ ہے وہ ہے وہ آیا ہوا ہے لگ کیونکر بو خوں نامے سے آئی اسی جلاد کا لکھا ہوا ہے چلے دنیا سے ج سے کی یاد ہے وہ ہے وہ ہم غضب ہے حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھولا ہوا ہے ک ہوں کیا حال اگلی عشرتوں کا حقیقت تھا اک خواب جو بھولا ہوا ہے کہوں ہوں یا وفا ہم سب ہے وہ ہے وہ خوش ہیں کریں کیا اب تو دل اٹکا ہوا ہے ہوئی ہے عشق ہی سے حسن کی دودمان ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے آپ کا اشہدو ان لا الہ ہوا ہے بتوں پر رہتی ہے مائل ہمیشہ طبیعت کو خدایا کیا ہوا ہے پریشاں رہتے ہوں دن رات یاد خدا یہ ک سے کی زلف کا سودا ہوا ہے
Akbar Allahabadi
0 likes
ہنگامہ ہے کیا برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے مباحثے تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے نا غضب کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں ا سے رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے ا سے مے سے نہیں زار دل ج سے سے ہے بیگا لگ مقصود ہے ا سے مے سے دل ہی ہے وہ ہے وہ جو کھینچتی ہے واں دل ہے وہ ہے وہ کہ صدمے دو یاں جی ہے وہ ہے وہ کہ سب سہ لو ان کا بھی غضب دل ہے میرا بھی غضب جی ہے ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الہی سے ہر سان سے یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے سورج ہے وہ ہے وہ لگے دھبہ فطرت کے کرشمے ہیں بت ہم کو کہی کافر اللہ کی مرضی ہے سچ کہتے ہیں شیخ یاد خدا ہے طاعت حق لازم ہاں ترک مے و شاہد یہ ان کی بزرگی ہے
Akbar Allahabadi
1 likes
پھروں گئی آپ کی دو دن ہے وہ ہے وہ طبیعت کیسی یہ وفا کیسی تھی صاحب یہ مروت کیسی دوست احباب سے ہن سے بول کے کٹ جائے گی رات رند آزاد ہیں ہم کو شب فرقت کیسی ج سے حسین سے ہوئی الفت وہی معشوق اپنا عشق ک سے چیز کو کہتے ہیں طبیعت کیسی ہے جو قسمت ہے وہ ہے وہ وہی ہوگا لگ کچھ کم لگ سوا آرزو کہتے ہیں ک سے چیز کو حسرت کیسی حال کھلتا نہیں کچھ دل کے دھڑکنے کا مجھے آج رہ رہ کے بھر آتی ہے طبیعت کیسی کوچہ یار ہے وہ ہے وہ جاتا تو نظارہ کرتا قی سے آوارہ ہے جنگل ہے وہ ہے وہ یہ وحشت کیسی
Akbar Allahabadi
1 likes
اپنی گرہ سے کچھ لگ مجھے آپ دیجیے ذائقہ ہے وہ ہے وہ تو نام میرا چھاپ دیجیے دیکھو جسے حقیقت پائنیئر آف سے ہے وہ ہے وہ ہے ڈٹا بہر خدا مجھے بھی کہی چھاپ دیجیے چشم ج ہاں سے حالت اصلی چھپی نہیں ذائقہ ہے وہ ہے وہ جو چاہیے حقیقت چھاپ دیجیے دعویٰ بے حد بڑا ہے ریاضی ہے وہ ہے وہ آپ کو طول شب فراق کو تو ناپ دیجیے سنتے نہیں ہیں شیخ نئی روشنی کی بات انجن کی ان کے کان ہے وہ ہے وہ اب بھاپ دیجیے ا سے بت کے در پہ غیر سے یاد خدا نے کہ دیا زر ہی ہے وہ ہے وہ دینے لایا ہوں جان آپ دیجیے
Akbar Allahabadi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Akbar Allahabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Akbar Allahabadi's ghazal.







