ghazalKuch Alfaaz

ek hi rang rachaun sab insanon men daud raha huun duniya ki shiryanon men nafrat ki taid nahin main kar sakta naam mira bhi likh lo na-farmanon men bahar to har su hai raaj darindon ka amn ka hai mahaul faqat zindanon men pauda pauda paal ke vaqt na zaae' kar kaghhaz ke kuchh phuul saja guldanon men is be-kar ke jiine se bezar huun main shamil kar lo mujh ko bhi parvanon men yaaro main to yuun bhi gaali kha lunga chhodo bhi kya rakkha hai yaranon men insanon ka khuun hi tum ko piina hai khopdiyon men pi lo ya paimanon men raat ki chup men dil ki dhadkan tez karo koi to avaz padegi kanon men pahle hi ye gora hai ye kaala hai aur hamen bantoge kitne khanon men sirf hava ki chaap sunai deti hai jazbon ki yalghhar nahin tufanon men mujh ko apne des ki mitti kaafi hai kya rakkha hai naslon aur zabanon men aaj ke suraj un ke zehn pe dastak de soe hain jo maazi ke afsanon men kab tak dhoka khaae apni pyaas 'qatil' khali jaam khanakte hain mai-khanon men ek hi rang rachaun sab insanon mein daud raha hun duniya ki shiryanon mein nafrat ki taid nahin main kar sakta nam mera bhi likh lo na-farmanon mein bahar to har su hai raj darindon ka amn ka hai mahaul faqat zindanon mein pauda pauda pal ke waqt na zae' kar kaghaz ke kuchh phul saja guldanon mein is be-kar ke jine se bezar hun main shamil kar lo mujh ko bhi parwanon mein yaro main to yun bhi gali kha lunga chhodo bhi kya rakkha hai yaranon mein insanon ka khun hi tum ko pina hai khopdiyon mein pi lo ya paimanon mein raat ki chup mein dil ki dhadkan tez karo koi to aawaz padegi kanon mein pahle hi ye gora hai ye kala hai aur hamein bantoge kitne khanon mein sirf hawa ki chap sunai deti hai jazbon ki yalghaar nahin tufanon mein mujh ko apne des ki mitti kafi hai kya rakkha hai naslon aur zabanon mein aaj ke suraj un ke zehn pe dastak de soe hain jo mazi ke afsanon mein kab tak dhoka khae apni pyas 'qatil' khali jam khanakte hain mai-khanon mein

Related Ghazal

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

یہ ک سے طرح کا تعلق ہے آپ کا مری ساتھ مجھے ہی چھوڑ کے جانے کا مشورہ مری ساتھ یہی کہی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ رستوں نے بد دعا دی تھی م گر ہے وہ ہے وہ بھول گیا تو اور کون تھا مری ساتھ حقیقت جھانکتا نہیں کھڑکی سے دن نکلتا ہے تجھے یقین نہیں آ رہا تو آ مری ساتھ

Tehzeeb Hafi

92 likes

خوشی ضائع ہوں رہے تھے دیکھ کر روتا لگ تھا ج سے جگہ بنتا تھا رونا ہے وہ ہے وہ و ہاں روتا لگ تھا صرف تیری چپ نے مری گال گیلے کر دیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو حقیقت ہوں جو کسی کی موت پر روتا لگ تھا مجھ پر کتنے احسان ہے گزرے پر ان آنکھوں کو کیا میرا دکھ یہ ہے کے میرا ہم سفر روتا لگ تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کے وصل ہے وہ ہے وہ بھی ہجر کٹا ہے کہی حقیقت مری کندھے پہ رکھ لیتا تھا سر روتا لگ تھا پیار تو پہلے بھی ا سے سے تھا م گر اتنا نہیں تب ہے وہ ہے وہ اس کا کو چھو تو لیتا تھا م گر روتا لگ تھا گر یوں جاری کو بھی ایک خاص موسم چاہیے مری آنکھیں دیکھ لو ہے وہ ہے وہ سمے پر روتا لگ تھا

Tehzeeb Hafi

85 likes

شور کروں گا اور لگ کچھ بھی بولوںگا خموشی سے اپنا رونا رو لوں گا ساری عمر اسی خواہش ہے وہ ہے وہ گزری ہے دستک ہوں گی اور دروازہ کھولوںگا تنہائی ہے وہ ہے وہ خود سے باتیں کرنی ہیں مری منا ہے وہ ہے وہ جو آئےگا بولوںگا رات بے حد ہے جاناں چاہو تو سو جاؤ میرا کیا ہے ہے وہ ہے وہ دن ہے وہ ہے وہ بھی سو لوں گا جاناں کو دل کی بات بتانی ہے لیکن آنکھیں بند کروں تو مٹھی کھولوںگا

Tehzeeb Hafi

84 likes

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

More from Qateel Shifai

تتلیوں کا رنگ ہوں یا جھومتے بادل کا رنگ ہم نے ہر اک رنگ کو جانا تری آنچل کا رنگ تیری آنکھوں کی چمک ہے یا ستاروں کی ضیا رات کا ہے غپ اندھیرا یا تری کاجل کا رنگ دھڑکنوں کے تال پر حقیقت حال اپنے دل کا ہے چنو گوری کے تھرکتے پاؤں ہے وہ ہے وہ پائل کا رنگ پھینکنا جاناں سوچ کر لفظوں کا یہ کڑوا گلال پھیل جاتا ہے کبھی صدیوں پہ بھی اک پل کا رنگ آہ یہ رنگین موسم خون کی برسات کا چھا رہا ہے عقل پر جذبات کی ہلچل کا رنگ اب تو شبنم کا ہر اک اندھیرا ہے کنکر کی طرح ہاں اسی گلشن پہ چھایا تھا کبھی مخمل کا رنگ پھروں رہے ہیں لوگ ہاتھوں ہے وہ ہے وہ لیے خنجر کھلے کوچے کوچے ہے وہ ہے وہ اب آتا ہے نظر مقتل کا رنگ چار جانب ج سے کی رعنائی کے چرچے ہیں قتیل جانے کب سر و ساماں ہم ا سے آنے والی کل کا رنگ

Qateel Shifai

1 likes

اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں آ تجھے ہے وہ ہے وہ گنگنانا چاہتا ہوں کوئی آنسو تری دامن پر گرا کر بوند کو اندھیرا بنانا چاہتا ہوں تھک گیا تو ہے وہ ہے وہ کرتے کرتے یاد تجھ کو اب تجھے ہے وہ ہے وہ یاد آنا چاہتا ہوں چھا رہا ہے ساری بستی ہے وہ ہے وہ اندھیرا روشنی کو گھر جلانا چاہتا ہوں آخری ہچکی تری زانو پہ آئی موت بھی ہے وہ ہے وہ شاعرا لگ چاہتا ہوں

Qateel Shifai

6 likes

اپنے ہاتھوں کی لکیروں ہے وہ ہے وہ سجا لے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں گر پھول تو جوڑے ہے وہ ہے وہ سجا لے مجھ کو ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی یہ تری سادہ دلی مار لگ ڈالے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمندر بھی ہوں اندھیرا بھی ہوں غوطہ زن بھی کوئی بھی نام میرا لے کے بلا لے مجھ کو تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی خود پرستی ہے وہ ہے وہ کہی تو لگ گنوا لے مجھ کو باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقاب کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو خود کو ہے وہ ہے وہ بانٹ لگ ڈالوں کہی دامن دامن کر دیا تو نے ا گر مری حوالے مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلے در کے کسی گھر کا ہوں سامان پیاری تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو کل کی بات اور ہے ہے وہ ہے وہ اب سا ر ہوں یا لگ ر ہوں جتنا جی چاہے ترا آج ستاتا لے مجھ کو وعدہ پھروں وعد

Qateel Shifai

6 likes

کھلا ہے جھوٹ کا بازار آؤ سچ بولیں لگ ہوں بلا سے خریدار آؤ سچ بولیں سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر یہی ہے موقع اظہار آؤ سچ بولیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ گواہ بنایا ہے سمے نے اپنا ب نام عظمت کردار آؤ سچ بولیں سنا ہے سمے کا حاکم بڑا ہی منصف ہے پکار کر سر دربار آؤ سچ بولیں تمام شہر ہے وہ ہے وہ کیا ایک بھی نہیں منصور کہی گے کیا رسن و دار آؤ سچ بولیں بجا کہ خو وفا ایک بھی حسین ہے وہ ہے وہ نہیں ک ہاں کے ہم بھی وفادار آؤ سچ بولیں جو وصف ہم ہے وہ ہے وہ نہیں کیوں کریں کسی ہے وہ ہے وہ تلاش ا گر ضمیر ہے منجملہ و اسباب ماتم آؤ سچ بولیں چھپائے سے کہی سیاہ بخت ہیں داغ چہرے کے نظر ہے آئی لگ بردار آؤ سچ بولیں قتیل جن پہ صدا پتھروں کو پیار آیا کدھر گئے حقیقت گنہگار آؤ سچ بولیں

Qateel Shifai

0 likes

کیا ہے پیار جسے ہم نے زندگی کی طرح حقیقت آشنا بھی ملا ہم سے اجنبی کی طرح کسے خبر تھی بڑھےگی کچھ اور تاریکی چھپےگا حقیقت کسی جستجو دل شکستہ ہے وہ ہے وہ چاندنی کی طرح بڑھا کے پیا سے مری ا سے نے ہاتھ چھوڑ دیا حقیقت کر رہا تھا مروت بھی دل لگی کی طرح ستم تو یہ ہے کہ حقیقت بھی لگ بن سکا اپنا قبول ہم نے کیے ج سے کے غم خوشی کی طرح کبھی لگ سوچا تھا ہم نے قتیل ا سے کے لیے کرےگا ہم پہ ستم حقیقت بھی ہر کسی کی طرح

Qateel Shifai

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Qateel Shifai.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Qateel Shifai's ghazal.