ghazalKuch Alfaaz

ایک اللہ ری خوشی کا چھلکا تو دریا کر دیا ایک مشت خاک جو بکھری تو صحرا کر دیا مری ٹوٹے حوصلے کے پر نکلتے دیکھ کر ا سے نے دیواروں کو اپنی اور اونچا کر دیا واردات قلب لکھی ہم نے حرامی نام سے اور ہاتھوں ہاتھ ا سے کو خود ہی لے جا کر دیا ا سے کی نہاراज़ی کا سورج جب سوا نیزے پہ تھا اپنے حرف عزت ہی نے سر پہ سایہ کر دیا دنیا بھر کی خاک کوئی چھانتا پھرتا ہے اب آپ نے در سے اٹھا کر کیسا رسوا کر دیا اب لگ کوئی خوف دل ہے وہ ہے وہ اور لگ آنکھوں ہے وہ ہے وہ امید تو نے مرگ ناگ ہاں بیمار اچھا کر دیا بھول جا یہ کل تری نقش قدم تھے چاند پر دیکھ ان ہاتھوں کو ک سے نے آج کاسا کر دیا ہم تو کہنے جا رہے تھے حمزہ یہ وسسلام بیچ ہے وہ ہے وہ ا سے نے اچانک نون غ لگ کر دیا ہم کو گالی کے لیے بھی لب ہلا سکتے نہیں غیر کو بوسہ دیا تو منا سے دکھلا کر دیا تیرگی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے آخر میاں سرخ پرچم کو جلا کر ہی اجالا کر دیا بزم ہے وہ ہے وہ دائم تقطیع فرماتے رہے اور ہم نے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا جانے ک سے کے من

Related Ghazal

ا گر تو بےوفا ہے دھیان رکھنا مجھے سب کچھ پتا ہے دھیان رکھنا بچھڑتے سمے ہم نے کہ دیا تھا ہمارا دل دکھا ہے دھیان رکھنا خدا ج سے کی محبت ہے وہ ہے وہ بنی ہوں حقیقت کئیوں کا خدا ہے دھیان رکھنا جسے جاناں دوست کیول جانتی ہوں حقیقت جاناں کو چاہتا ہے دھیان رکھنا

Anand Raj Singh

54 likes

تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے

Tehzeeb Hafi

262 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے

Tehzeeb Hafi

220 likes

خالی بیٹھے ہوں تو اک کام میرا کر دو نا مجھ کو اچھا سا کوئی زخم ادا کر دو نا دھیان سے پنچھیوں کو دیتے ہوں دا لگ پانی اتنے اچھے ہوں تو پنجرے سے رہا کر دو نا جب قریب آ ہی گئے ہوں تو اداسی کیسی جب دیا دے ہی رہے ہوں تو جلا کر دو نا

Zubair Ali Tabish

102 likes

More from Adil Mansuri

ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوڑ کر ہے وہ ہے وہ کدھر جاؤں گا اندھیروں کے اندر اتر جاؤں گا مری پتیاں ساری سوکھی ہوئیں نئے موسموں ہے وہ ہے وہ بکھر جاؤں گا ا گر آ گیا تو آئی لگ سامنے تو اپنے ہی چہرے سے ڈر جاؤں گا حقیقت اک آنکھ جو مری اپنی بھی ہے لگ آئی نظر تو کدھر جاؤں گا حقیقت اک بے وجہ آواز دےگا ا گر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خالی سڑک پر ٹھہر جاؤں گا پلٹ کر لگ پایا کسی کو ا گر تو اپنی ہی آہٹ سے ڈر جاؤں گا تری ذات ہے وہ ہے وہ سان سے لی ہے صدا تجھے چھوڑ کر ہے وہ ہے وہ کدھر جاؤں گا

Adil Mansuri

4 likes

دروازہ بند دیکھ کے میرے مکان کا جھونکا ہوا کا کھڑکی کے پردے ہلا گیا تو حقیقت جان نو بہار جدھر سے گزر گیا تو پیڑوں نے پھول پتوں سے رستہ چھپا لیا اس کا کا کے قریب جانے کا انجام یہ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ سے بھی بہت دور جا پڑا انگڑائی لے رہی تھی گلستاں ہے وہ ہے وہ جب بہار ہر پھول اپنے رنگ کی آتش ہے وہ ہے وہ جل گیا تو کانٹے سے ٹوٹتے ہیں مری انگ انگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ رگ رگ ہے وہ ہے وہ چاند جلتا ہوا زہر بھر گیا تو آنکھوں نے اس کا کو دیکھا نہیں اس کا کے باوجود دل اس کا کی یاد سے کبھی غافل نہیں رہا دروازہ کھٹکھٹا کے ستارے تم چلے گئے خوابوں کی شال اوڑھ کے ہے وہ ہے وہ اونگھتا رہا شب چاندنی کی آنچ ہے وہ ہے وہ تپ کر نکھر گئی سورج کی جلتی آگ ہے وہ ہے وہ دن خاک ہوں گیا تو سڑکیں تمام دھوپ سے انگارا ہوں گئیں اندھی ہوائیں چلتی ہیں ان پر برہنہ پا حقیقت آئی تھوڑی دیر گردشیں اور چلے گئے عادل ہے وہ ہے وہ سر جھکائے ہوئے چپ کھڑا رہا

Adil Mansuri

0 likes

چہرے پہ چمچماتی ہوئی دھوپ مر گئی سورج کو ڈھلتا دیکھ کے پھروں شام ڈر گئی مبہوت سے کھڑے رہے سب ب سے کی لائن ہے وہ ہے وہ ہے وہ کولہے اچھالتی ہوئی بجلی گزر گئی سورج وہی تھا دھوپ وہی شہر بھی وہی کیا چیز تھی جو جسم کے اندر ٹھٹھرا گئی خواہش سخانے رکھی تھی کوٹھے پہ دوپہر اب شام ہوں چلی میاں دیکھو کدھر گئی تہلیل ہوں گئی ہے ہوا ہے وہ ہے وہ اداسیاں خالی جگہ جو رہ گئی تنہائی بھر گئی چہرے بغیر نکلا تھا ا سے کے مکان سے رسوائیوں کی حد سے بھی آگے خبر گئی رنگوں کی سرخ نافر داخلہ گل آفتاب اندھی ہوائیں بچھاؤ خٹک کان بھر گئی

Adil Mansuri

0 likes

چاروں طرف سے موت نے گھیرا ہے آب و زیست کو اور ا سے کے ساتھ حکم کہ اب زندگی کروں باہر گلی ہے وہ ہے وہ شور ہے برسات کا سنو کنڈی لگا کے آج تو گھر ہے وہ ہے وہ پڑے رہو چھوڑ آئی ک سے کی چھت پہ جواں سال چاند کو خاموش ک سے لیے ہوں ستارو جواب دو کیوں چلتے چلتے رک گئے ویران راستہ تنہا ہوں آج ہے وہ ہے وہ ذرا گھر تک تو ساتھ دو ج سے نے بھی مڑ کے دیکھا حقیقت پتھر کا ہوں گیا تو نظریں جھکائے دوستو چپ چپ چلے چلو اللہ رکھے تیری سحر جیسی کم سنی دل گوا ہوں ہے جب بھی تو آتی ہے شام کو ویراں چمن پہ روئی ہے شبنم تمام رات ایسے ہے وہ ہے وہ کوئی ننھی کلی مسکرائے تو عادل ہوائیں کب سے بھی دیتی ہیں دستکیں جل گرا سے اٹھ کے کمرے کا دروازہ کھول دو

Adil Mansuri

0 likes

عاشق تھے شہر ہے وہ ہے وہ جو پرانی شراب کے ہیں ان کے دل ہے وہ ہے وہ رلا اب فسانے کے حقیقت جو تمہارے ہاتھ سے آ کر نکل گیا تو ہم بھی قتیل ہیں اسی خا لگ خراب کے پھولوں کی سیج پر ذرا آرام کیا کیا ا سے احتساب پہ نقش اٹھ آئی گلاب کے سوئے تو دل ہے وہ ہے وہ ایک ج ہاں جاگنے لگا جاگے تو اپنی آنکھ ہے وہ ہے وہ خا لگ خراب تھے خواب کے ب سے تشنہ لبی کی آنکھ سے دیکھا کروں ا نہیں دریا رواں دواں ہیں چمکتے سراب کے ک سے طرح جمع کیجیے اب اپنے آپ کو کاغذ بکھر رہے ہیں پرانی کتاب کے

Adil Mansuri

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Adil Mansuri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Adil Mansuri's ghazal.