hairan hai jabin aaj kidhar sajda rava hai sar par hain khudavand sar-e-arsh khuda hai kab tak ise sinchoge tamanna-e-samar men ye sabr ka pauda to na phula na phala hai milta hai khiraj us ko tiri nan-e-javin se har badshah-e-vaqt tire dar ka gada hai har ek uqubat se hai talkhi men sava-tar vo rang jo na-karda gunahon ki saza hai ehsan liye kitne masiha-nafason ke kya kijiye dil ka na jala hai na bujha hai hairan hai jabin aaj kidhar sajda rawa hai sar par hain khudawand sar-e-arsh khuda hai kab tak ise sinchoge tamanna-e-samar mein ye sabr ka pauda to na phula na phala hai milta hai khiraj us ko teri nan-e-jawin se har baadshah-e-waqt tere dar ka gada hai har ek uqubat se hai talkhi mein sawa-tar wo rang jo na-karda gunahon ki saza hai ehsan liye kitne masiha-nafason ke kya kijiye dil ka na jala hai na bujha hai
Related Ghazal
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
More from Faiz Ahmad Faiz
دربار ہے وہ ہے وہ اب سطوت شاہی کی علامت دربان کا اسا ہے کہ مصنف کا ہے آوارہ ہے پھروں کوہ ندا پر جو ناروا تمہید مسرت ہے کہ طول شب غم ہے ج سے دھجی کو گلیوں ہے وہ ہے وہ لیے پھرتے ہیں طفلاں یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا الم ہے ج سے نور سے ہے شہر کی دیوار درخشاں یہ خون شہیداں ہے کہ زر خا لگ جم ہے حلقہ کیے بیٹھے رہو اک شمع کو یاروں کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
رہ خزاں ہے وہ ہے وہ تلاش بہار کرتے رہے شب سیاہ سے طلب حسن یار کرتے رہے خیال یار کبھی ذکر یار کرتے رہے اسی متاع پہ ہم روزگار کرتے رہے نہیں شکایت ہجران کہ ا سے وسیلے سے ہم ان سے رشتہ دل چارہ ساز کرتے رہے حقیقت دن کہ کوئی بھی جب وجہ انتظار لگ تھی ہم ان ہے وہ ہے وہ تیرا سوا انتظار کرتے رہے ہم اپنے راز پہ نازاں تھے شرمسار لگ تھے ہر ایک سے سخن راز دار کرتے رہے ضیا بزم ج ہاں بار بار ماند ہوئی حدیث شعلہ رخاں بار بار کرتے رہے انہی کے فیض سے بازار عقل روشن ہے جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
لگ اب رقیب لگ ناصح لگ غم گسار کوئی جاناں آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا جدا تھے ہم تو میسر تھیں رنگیں کتنی بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا پہنچ کے در پہ تری کتنے معتبر ٹھہرے اگرچہ رہ ہے وہ ہے وہ ہوئیں جگ ہنسائیاں کیا کیا ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز من گرا سے بتوں نے کی ہیں ج ہاں ہے وہ ہے وہ خدائیاں کیا کیا ستم پہ خوش کبھی لطف و کرم سے رنجیدہ سکھائیں جاناں نے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کج ادائیاں کیا کیا
Faiz Ahmad Faiz
1 likes
سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیں کبھی صحبتیں کبھی فرقتیں کبھی دوریاں کبھی رنگیں یہ سخن جو ہم نے رقم کیے یہ ہیں سب ورق تری یاد کے کوئی لمحہ حساب آرز کا کوئی شام ہجر کی مدتیں جو تمہاری مان لیں ناصحا تو رہے گا دامن دل ہے وہ ہے وہ کیا لگ کسی عدو کی عداوتیں لگ کسی صنم کی مروتیں چلو آؤ جاناں کو دکھائیں ہم جو بچا ہے مقتل شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ مزار اہل صفا کے ہیں یہ ہیں اہل صدق کی تربتیں مری جان آج کا غم لگ کر کہ لگ جانے کاتب سمے نے کسی اپنے کل ہے وہ ہے وہ بھی بھول کر کہی لکھ رکھی ہوں مسرتیں
Faiz Ahmad Faiz
4 likes
آج یوں موج در موج غم تھم گیا تو ا سے طرح غم زدوں کو قرار آ گیا تو چنو خوش بو زلف بہار آ گئی چنو پیغام دیدار یار آ گیا تو ج سے کی دید و طلب وہم سمجھے تھے ہم رو برو پھروں سر رہ گزاری آ گیا تو صبح فردا کو پھروں دل ترسنے لگا عمر رفتہ ترا اعتبار آ گیا تو رت بدلنے لگی رنگ دل دیکھنا رنگ گلشن سے اب حال کھلتا نہیں زخم چھلکا کوئی یا کوئی گل کھلا خوشی امڈے کہ ابر بہار آ گیا تو خوں عشاق سے جام بھرنے لگے دل سلگنے لگے داغ جلنے لگے محفل درد پھروں رنگ پر آ گئی پھروں شب آرزو پر نکھار آ گیا تو سرفروشی کے انداز بدلے گئے دعوت قتل پر مقتل شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ڈال کر کوئی گردن ہے وہ ہے وہ طوق آ گیا تو لاد کر کوئی کندھے پہ دار آ گیا تو فیض کیا جانیے یار ک سے آ سے پر منتظر ہیں کہ لائےگا کوئی خبر مے کشوں پر ہوا محاسب مہرباں دل فگاروں پہ قاتل کو پیار آ گیا تو
Faiz Ahmad Faiz
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.
Similar Moods
More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's ghazal.







