ghazalKuch Alfaaz

ہم جیسے تیغ ظلم سے ڈر بھی گئے تو کیا کچھ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں سر بھی گئے تو کیا اٹھتی رہیں گی درد کی ٹیسیں تمام عمر ہیں زخم تیرے ہاتھ کے بھر بھی گئے تو کیا ہیں کون سے بہار کے دن اپنے منتظر یہ دن کسی طرح سے گزر بھی گئے تو کیا اک مکر ہی تھا آپ کا ایفا عہد بھی اپنے کہے سے آج مکر بھی گئے تو کیا ہم تو اسی طرح سے پھریں گے خراب حال یہ شعر تیرے دل میں اتر بھی گئے تو کیا باسر تمہیں یہاں کا ابھی تجربہ نہیں بیمار ہو پڑے رہو مر بھی گئے تو کیا

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

More from Basir Sultan Kazmi

کتنی ہی بے ضرر صحیح تیری خرابیاں باسر خرابیاں تو ہیں پھروں بھی خرابیاں حالت جگہ بدلنے سے جستجو دل شکستہ نہیں مری ہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں تو چاہتا ہے اپنی نئی خوبیوں کی داد مجھ کو عزیز تیری پرانی خرابیاں جوں ہی تعلقات کسی سے ہوئے خراب سارے جہاں کی اس میں ملیںگی خرابیاں سرکار کا ہے اپنا ہی معیار انتخاب یاروں کہاں کی خوبیاں کیسی خرابیاں آدم اعتباری کا پتلا ہے گر مان لیں یہ بات نکلیںگی اس خرابی سے کتنی خرابیاں ان ہستیوں کی راہ پہ سر و ساماں چل کے ہم جن میں نہ تھیں کسی بھی طرح کی خرابیاں بوئیں گے اپنے باغ میں سب خوبیوں کے بیج جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے ساری خرابیاں باسر کی شخصیت بھی عجب ہے کہ اس میں ہیں کچھ خوبیاں خراب کچھ اچھی خرابیاں

Basir Sultan Kazmi

0 likes

زخم تمہارے بھر جائیں گے تھوڑی دیر لگےگی بے صبری سے کام لیا تو اور بھی دیر لگےگی صاحب آج تو اپنا کام کرا کے جائیں گے ہم ساری شرطیں پوری ہیں پھروں کیسی دیر لگےگی یوں بےحال لگ ہوں اے دل ب سے آتے ہی ہوں گے حقیقت کل بھی دیر لگی تھی ان کو آج بھی دیر لگےگی سیکھ لیا ہے ہے وہ ہے وہ نے اپنے آپ سے باتیں کرنا فکر نہیں ان کو آنے ہے وہ ہے وہ کتنی دیر لگےگی کون گردشیں اب ا سے کے در پر شام ہوئی گھر جائیں اتنا ضروری کام نہیں ہے جتنی دیر لگےگی اتنی دیر ہے وہ ہے وہ کچھ کے کچھ ہوں جائیں گے حالات خط لکھنے سے خط ملنے تک جتنی دیر لگےگی مار گزیدہ کون بچا ہے باسر شکر کروں جاناں ٹھیک بھی ہوں جاؤگے لیکن ہنگاموں دیر لگےگی

Basir Sultan Kazmi

3 likes

یہ نہیں ہے کہ تجھے ہے وہ ہے وہ نے پکارا کم ہے میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے اس کا کا دودمان ہجر ہے وہ ہے وہ کی نظم شماری ہم نے جان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارہ کم ہے دوستی ہے وہ ہے وہ تو کوئی شک نہیں اس کا کی پر حقیقت دوست دشمن کا زیادہ ہے ہمارا کم ہے صاف اظہار ہوں اور حقیقت بھی کم از کم دو بار ہم حقیقت حیات بزم ہیں جنہیں ایک اشارہ کم ہے ایک رخسار پہ دیکھا ہے حقیقت تل ہم نے بھی ہوں سمرقند مقابل کہ بخارا کم ہے اتنی جلدی نہ بنا رائے مری بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم نے ہمراہ ابھی وقت گزارا کم ہے باغ اک ہم کو ملا تھا مگر اس کا کو افسوس ہم نے جی بھر کے بگاڑا ہے سنوارا کم ہے آج تک اپنی سمجھ ہے وہ ہے وہ نہیں آیا باسر کون سا کام ہے حقیقت جس ہے وہ ہے وہ خسارہ کم ہے

Basir Sultan Kazmi

0 likes

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے اوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے مل ان سے کبھی جاگتے ہیں جن کے مقدر تیری طرح ہر وقت وہ سوئے نہیں ہوتے دن میں جو پھرا کرتے ہیں ہوشیار و خبر دار وہ میری طرح رات کو جاگے نہیں ہوتے ہم ان کی طرف سے کبھی ہوتے نہیں غافل رشتے وہی پکے ہیں جو پکے نہیں ہوتے اغیار نے مدت سے جو روکے ہوئے تھے کام اب ہم بھی یہ سر و ساماں وہ کیسے نہیں ہوتے ناکامی کی صورت میں ملے مہ و انجم اب کام مری اتنے بھی کچے نہیں ہوتے شب اہل ہوس ایسے پریشان تھے باسر جیسے بیسیوں کبھی دیکھے نہیں ہوتے

Basir Sultan Kazmi

2 likes

کر لیا دن ہے وہ ہے وہ کام آٹھ سے پانچ اب چلے گوارا آٹھ سے پانچ چاند ہے اور آسمان ہے صاف رہیے شیخ و محتسب آٹھ سے پانچ اب تو ہم بن گئے ہیں ایک قید ہستی اب ہمارا ہے نام آٹھ سے پانچ شعر کیا شاعری کے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوچنا بھی حرام آٹھ سے پانچ کچھ خریدیں تو بھاو پانچ کے آٹھ اور بیچیں تو دام آٹھ سے پانچ حقیقت ملے بھی تو ب سے یہ پوچھیں گے کچھ ملا کام وام آٹھ سے پانچ صحبت اہل ذوق ہے باسر اب سناؤ چھوؤں گا آٹھ سے پانچ

Basir Sultan Kazmi

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Basir Sultan Kazmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Basir Sultan Kazmi's ghazal.