کتنی ہی بے ضرر صحیح تیری خرابیاں باسر خرابیاں تو ہیں پھروں بھی خرابیاں حالت جگہ بدلنے سے جستجو دل شکستہ نہیں مری ہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں تو چاہتا ہے اپنی نئی خوبیوں کی داد مجھ کو عزیز تیری پرانی خرابیاں جوں ہی تعلقات کسی سے ہوئے خراب سارے جہاں کی اس میں ملیںگی خرابیاں سرکار کا ہے اپنا ہی معیار انتخاب یاروں کہاں کی خوبیاں کیسی خرابیاں آدم اعتباری کا پتلا ہے گر مان لیں یہ بات نکلیںگی اس خرابی سے کتنی خرابیاں ان ہستیوں کی راہ پہ سر و ساماں چل کے ہم جن میں نہ تھیں کسی بھی طرح کی خرابیاں بوئیں گے اپنے باغ میں سب خوبیوں کے بیج جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے ساری خرابیاں باسر کی شخصیت بھی عجب ہے کہ اس میں ہیں کچھ خوبیاں خراب کچھ اچھی خرابیاں
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
دل کو تیری خواہش پہلی بار ہوئی ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ بارش پہلی بار ہوئی مانگنے والے ہیرے اندھیرا مانگتے ہیں اشکوں کی فرمائش پہلی بار ہوئی ڈوبنے والے اک اک کر کے آ جائیں دریا ہے وہ ہے وہ گنجائش پہلی بار ہوئی
Abrar Kashif
46 likes
More from Basir Sultan Kazmi
ہم جیسے تیغ ظلم سے ڈر بھی گئے تو کیا کچھ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں سر بھی گئے تو کیا اٹھتی رہیں گی درد کی ٹیسیں تمام عمر ہیں زخم تیرے ہاتھ کے بھر بھی گئے تو کیا ہیں کون سے بہار کے دن اپنے منتظر یہ دن کسی طرح سے گزر بھی گئے تو کیا اک مکر ہی تھا آپ کا ایفا عہد بھی اپنے کہے سے آج مکر بھی گئے تو کیا ہم تو اسی طرح سے پھریں گے خراب حال یہ شعر تیرے دل میں اتر بھی گئے تو کیا باسر تمہیں یہاں کا ابھی تجربہ نہیں بیمار ہو پڑے رہو مر بھی گئے تو کیا
Basir Sultan Kazmi
1 likes
یہ نہیں ہے کہ تجھے ہے وہ ہے وہ نے پکارا کم ہے میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے اس کا کا دودمان ہجر ہے وہ ہے وہ کی نظم شماری ہم نے جان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارہ کم ہے دوستی ہے وہ ہے وہ تو کوئی شک نہیں اس کا کی پر حقیقت دوست دشمن کا زیادہ ہے ہمارا کم ہے صاف اظہار ہوں اور حقیقت بھی کم از کم دو بار ہم حقیقت حیات بزم ہیں جنہیں ایک اشارہ کم ہے ایک رخسار پہ دیکھا ہے حقیقت تل ہم نے بھی ہوں سمرقند مقابل کہ بخارا کم ہے اتنی جلدی نہ بنا رائے مری بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم نے ہمراہ ابھی وقت گزارا کم ہے باغ اک ہم کو ملا تھا مگر اس کا کو افسوس ہم نے جی بھر کے بگاڑا ہے سنوارا کم ہے آج تک اپنی سمجھ ہے وہ ہے وہ نہیں آیا باسر کون سا کام ہے حقیقت جس ہے وہ ہے وہ خسارہ کم ہے
Basir Sultan Kazmi
0 likes
زخم تمہارے بھر جائیں گے تھوڑی دیر لگےگی بے صبری سے کام لیا تو اور بھی دیر لگےگی صاحب آج تو اپنا کام کرا کے جائیں گے ہم ساری شرطیں پوری ہیں پھروں کیسی دیر لگےگی یوں بےحال لگ ہوں اے دل ب سے آتے ہی ہوں گے حقیقت کل بھی دیر لگی تھی ان کو آج بھی دیر لگےگی سیکھ لیا ہے ہے وہ ہے وہ نے اپنے آپ سے باتیں کرنا فکر نہیں ان کو آنے ہے وہ ہے وہ کتنی دیر لگےگی کون گردشیں اب ا سے کے در پر شام ہوئی گھر جائیں اتنا ضروری کام نہیں ہے جتنی دیر لگےگی اتنی دیر ہے وہ ہے وہ کچھ کے کچھ ہوں جائیں گے حالات خط لکھنے سے خط ملنے تک جتنی دیر لگےگی مار گزیدہ کون بچا ہے باسر شکر کروں جاناں ٹھیک بھی ہوں جاؤگے لیکن ہنگاموں دیر لگےگی
Basir Sultan Kazmi
3 likes
ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے اوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے مل ان سے کبھی جاگتے ہیں جن کے مقدر تیری طرح ہر وقت وہ سوئے نہیں ہوتے دن میں جو پھرا کرتے ہیں ہوشیار و خبر دار وہ میری طرح رات کو جاگے نہیں ہوتے ہم ان کی طرف سے کبھی ہوتے نہیں غافل رشتے وہی پکے ہیں جو پکے نہیں ہوتے اغیار نے مدت سے جو روکے ہوئے تھے کام اب ہم بھی یہ سر و ساماں وہ کیسے نہیں ہوتے ناکامی کی صورت میں ملے مہ و انجم اب کام مری اتنے بھی کچے نہیں ہوتے شب اہل ہوس ایسے پریشان تھے باسر جیسے بیسیوں کبھی دیکھے نہیں ہوتے
Basir Sultan Kazmi
2 likes
کر لیا دن ہے وہ ہے وہ کام آٹھ سے پانچ اب چلے گوارا آٹھ سے پانچ چاند ہے اور آسمان ہے صاف رہیے شیخ و محتسب آٹھ سے پانچ اب تو ہم بن گئے ہیں ایک قید ہستی اب ہمارا ہے نام آٹھ سے پانچ شعر کیا شاعری کے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوچنا بھی حرام آٹھ سے پانچ کچھ خریدیں تو بھاو پانچ کے آٹھ اور بیچیں تو دام آٹھ سے پانچ حقیقت ملے بھی تو ب سے یہ پوچھیں گے کچھ ملا کام وام آٹھ سے پانچ صحبت اہل ذوق ہے باسر اب سناؤ چھوؤں گا آٹھ سے پانچ
Basir Sultan Kazmi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Basir Sultan Kazmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Basir Sultan Kazmi's ghazal.







