یہ نہیں ہے کہ تجھے ہے وہ ہے وہ نے پکارا کم ہے میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے اس کا کا دودمان ہجر ہے وہ ہے وہ کی نظم شماری ہم نے جان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارہ کم ہے دوستی ہے وہ ہے وہ تو کوئی شک نہیں اس کا کی پر حقیقت دوست دشمن کا زیادہ ہے ہمارا کم ہے صاف اظہار ہوں اور حقیقت بھی کم از کم دو بار ہم حقیقت حیات بزم ہیں جنہیں ایک اشارہ کم ہے ایک رخسار پہ دیکھا ہے حقیقت تل ہم نے بھی ہوں سمرقند مقابل کہ بخارا کم ہے اتنی جلدی نہ بنا رائے مری بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم نے ہمراہ ابھی وقت گزارا کم ہے باغ اک ہم کو ملا تھا مگر اس کا کو افسوس ہم نے جی بھر کے بگاڑا ہے سنوارا کم ہے آج تک اپنی سمجھ ہے وہ ہے وہ نہیں آیا باسر کون سا کام ہے حقیقت جس ہے وہ ہے وہ خسارہ کم ہے
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
More from Basir Sultan Kazmi
ہم جیسے تیغ ظلم سے ڈر بھی گئے تو کیا کچھ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں سر بھی گئے تو کیا اٹھتی رہیں گی درد کی ٹیسیں تمام عمر ہیں زخم تیرے ہاتھ کے بھر بھی گئے تو کیا ہیں کون سے بہار کے دن اپنے منتظر یہ دن کسی طرح سے گزر بھی گئے تو کیا اک مکر ہی تھا آپ کا ایفا عہد بھی اپنے کہے سے آج مکر بھی گئے تو کیا ہم تو اسی طرح سے پھریں گے خراب حال یہ شعر تیرے دل میں اتر بھی گئے تو کیا باسر تمہیں یہاں کا ابھی تجربہ نہیں بیمار ہو پڑے رہو مر بھی گئے تو کیا
Basir Sultan Kazmi
1 likes
کتنی ہی بے ضرر صحیح تیری خرابیاں باسر خرابیاں تو ہیں پھروں بھی خرابیاں حالت جگہ بدلنے سے جستجو دل شکستہ نہیں مری ہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں تو چاہتا ہے اپنی نئی خوبیوں کی داد مجھ کو عزیز تیری پرانی خرابیاں جوں ہی تعلقات کسی سے ہوئے خراب سارے جہاں کی اس میں ملیںگی خرابیاں سرکار کا ہے اپنا ہی معیار انتخاب یاروں کہاں کی خوبیاں کیسی خرابیاں آدم اعتباری کا پتلا ہے گر مان لیں یہ بات نکلیںگی اس خرابی سے کتنی خرابیاں ان ہستیوں کی راہ پہ سر و ساماں چل کے ہم جن میں نہ تھیں کسی بھی طرح کی خرابیاں بوئیں گے اپنے باغ میں سب خوبیوں کے بیج جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے ساری خرابیاں باسر کی شخصیت بھی عجب ہے کہ اس میں ہیں کچھ خوبیاں خراب کچھ اچھی خرابیاں
Basir Sultan Kazmi
0 likes
زخم تمہارے بھر جائیں گے تھوڑی دیر لگےگی بے صبری سے کام لیا تو اور بھی دیر لگےگی صاحب آج تو اپنا کام کرا کے جائیں گے ہم ساری شرطیں پوری ہیں پھروں کیسی دیر لگےگی یوں بےحال لگ ہوں اے دل ب سے آتے ہی ہوں گے حقیقت کل بھی دیر لگی تھی ان کو آج بھی دیر لگےگی سیکھ لیا ہے ہے وہ ہے وہ نے اپنے آپ سے باتیں کرنا فکر نہیں ان کو آنے ہے وہ ہے وہ کتنی دیر لگےگی کون گردشیں اب ا سے کے در پر شام ہوئی گھر جائیں اتنا ضروری کام نہیں ہے جتنی دیر لگےگی اتنی دیر ہے وہ ہے وہ کچھ کے کچھ ہوں جائیں گے حالات خط لکھنے سے خط ملنے تک جتنی دیر لگےگی مار گزیدہ کون بچا ہے باسر شکر کروں جاناں ٹھیک بھی ہوں جاؤگے لیکن ہنگاموں دیر لگےگی
Basir Sultan Kazmi
3 likes
کر لیا دن ہے وہ ہے وہ کام آٹھ سے پانچ اب چلے گوارا آٹھ سے پانچ چاند ہے اور آسمان ہے صاف رہیے شیخ و محتسب آٹھ سے پانچ اب تو ہم بن گئے ہیں ایک قید ہستی اب ہمارا ہے نام آٹھ سے پانچ شعر کیا شاعری کے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوچنا بھی حرام آٹھ سے پانچ کچھ خریدیں تو بھاو پانچ کے آٹھ اور بیچیں تو دام آٹھ سے پانچ حقیقت ملے بھی تو ب سے یہ پوچھیں گے کچھ ملا کام وام آٹھ سے پانچ صحبت اہل ذوق ہے باسر اب سناؤ چھوؤں گا آٹھ سے پانچ
Basir Sultan Kazmi
0 likes
ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے اوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے مل ان سے کبھی جاگتے ہیں جن کے مقدر تیری طرح ہر وقت وہ سوئے نہیں ہوتے دن میں جو پھرا کرتے ہیں ہوشیار و خبر دار وہ میری طرح رات کو جاگے نہیں ہوتے ہم ان کی طرف سے کبھی ہوتے نہیں غافل رشتے وہی پکے ہیں جو پکے نہیں ہوتے اغیار نے مدت سے جو روکے ہوئے تھے کام اب ہم بھی یہ سر و ساماں وہ کیسے نہیں ہوتے ناکامی کی صورت میں ملے مہ و انجم اب کام مری اتنے بھی کچے نہیں ہوتے شب اہل ہوس ایسے پریشان تھے باسر جیسے بیسیوں کبھی دیکھے نہیں ہوتے
Basir Sultan Kazmi
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Basir Sultan Kazmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Basir Sultan Kazmi's ghazal.







