زخم تمہارے بھر جائیں گے تھوڑی دیر لگےگی بے صبری سے کام لیا تو اور بھی دیر لگےگی صاحب آج تو اپنا کام کرا کے جائیں گے ہم ساری شرطیں پوری ہیں پھروں کیسی دیر لگےگی یوں بےحال لگ ہوں اے دل ب سے آتے ہی ہوں گے حقیقت کل بھی دیر لگی تھی ان کو آج بھی دیر لگےگی سیکھ لیا ہے ہے وہ ہے وہ نے اپنے آپ سے باتیں کرنا فکر نہیں ان کو آنے ہے وہ ہے وہ کتنی دیر لگےگی کون گردشیں اب ا سے کے در پر شام ہوئی گھر جائیں اتنا ضروری کام نہیں ہے جتنی دیر لگےگی اتنی دیر ہے وہ ہے وہ کچھ کے کچھ ہوں جائیں گے حالات خط لکھنے سے خط ملنے تک جتنی دیر لگےگی مار گزیدہ کون بچا ہے باسر شکر کروں جاناں ٹھیک بھی ہوں جاؤگے لیکن ہنگاموں دیر لگےگی
Related Ghazal
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
یہ سات آٹھ پڑوسی ک ہاں سے آئی مری تمہارے دل ہے وہ ہے وہ تو کوئی لگ تھا سوائے مری کسی نے پا سے بٹھایا ب سے آگے یاد نہیں مجھے تو دوست و ہاں سے اٹھا کے لائے مری یہ سوچ کر لگ کیے اپنے درد ا سے کے سپرد حقیقت لالچی ہے اساسے لگ بیچ کھائے مری ادھر کدھر تو نیا ہے ی ہاں کہ پاگل ہے کسی نے کیا تجھے قصے نہیں سنائے مری حقیقت آزمائے مری دوست کو ضرور م گر اسے کہو کہ طریقے لگ آزمائے مری
Umair Najmi
59 likes
حقیقت زما لگ گزر گیا تو کب کا تھا جو دیوا لگ مر گیا تو کب کا ڈھونڈتا تھا جو اک نئی دنیا لوٹ کے اپنے گھر گیا تو کب کا حقیقت جو لایا تھا ہم کو دریا تک پار اکیلے اتر گیا تو کب کا ا سے کا جو حال ہے وہی جانے اپنا تو زخم بھر گیا تو کب کا خواب در خواب تھا جو شیرازہ اب ک ہاں ہے بکھر گیا تو کب کا
Javed Akhtar
62 likes
جھک کے چلتا ہوں کہ قد ا سے کے برابر لگ لگے دوسرا یہ کہ اسے راہ ہے وہ ہے وہ ٹھوکر لگ لگے یہ تری ساتھ تعلق کا بڑا فائدہ ہے آدمی ہوں بھی تو اوقات سے باہر لگ لگے نیم تاریک سا ماحول ہے درکار مجھے ایسا ماحول ج ہاں آنکھ لگے ڈر لگ لگے ماو نے چومنا ہوتے ہیں بریدا سر بھی ا سے سے کہنا کہ کوئی زخم جبیں پر لگ لگے یہ طلبگار نگا ہوں کے تقاضے ہر سو کوئی تو ایسی جگہ ہوں جو مجھے گھر لگ لگے یہ جو آئی لگ ہے دیکھوں تو خلا دکھتا ہے ا سے جگہ کچھ بھی لگ لگواؤں تو بہتر لگ لگے جاناں نے چھوڑا تو کسی اور سے ٹکراؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے ممکن ہے کہ اندھے کا کہی سر لگ لگے
Umair Najmi
46 likes
More from Basir Sultan Kazmi
ہم جیسے تیغ ظلم سے ڈر بھی گئے تو کیا کچھ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں سر بھی گئے تو کیا اٹھتی رہیں گی درد کی ٹیسیں تمام عمر ہیں زخم تیرے ہاتھ کے بھر بھی گئے تو کیا ہیں کون سے بہار کے دن اپنے منتظر یہ دن کسی طرح سے گزر بھی گئے تو کیا اک مکر ہی تھا آپ کا ایفا عہد بھی اپنے کہے سے آج مکر بھی گئے تو کیا ہم تو اسی طرح سے پھریں گے خراب حال یہ شعر تیرے دل میں اتر بھی گئے تو کیا باسر تمہیں یہاں کا ابھی تجربہ نہیں بیمار ہو پڑے رہو مر بھی گئے تو کیا
Basir Sultan Kazmi
1 likes
کتنی ہی بے ضرر صحیح تیری خرابیاں باسر خرابیاں تو ہیں پھروں بھی خرابیاں حالت جگہ بدلنے سے جستجو دل شکستہ نہیں مری ہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں تو چاہتا ہے اپنی نئی خوبیوں کی داد مجھ کو عزیز تیری پرانی خرابیاں جوں ہی تعلقات کسی سے ہوئے خراب سارے جہاں کی اس میں ملیںگی خرابیاں سرکار کا ہے اپنا ہی معیار انتخاب یاروں کہاں کی خوبیاں کیسی خرابیاں آدم اعتباری کا پتلا ہے گر مان لیں یہ بات نکلیںگی اس خرابی سے کتنی خرابیاں ان ہستیوں کی راہ پہ سر و ساماں چل کے ہم جن میں نہ تھیں کسی بھی طرح کی خرابیاں بوئیں گے اپنے باغ میں سب خوبیوں کے بیج جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے ساری خرابیاں باسر کی شخصیت بھی عجب ہے کہ اس میں ہیں کچھ خوبیاں خراب کچھ اچھی خرابیاں
Basir Sultan Kazmi
0 likes
کر لیا دن ہے وہ ہے وہ کام آٹھ سے پانچ اب چلے گوارا آٹھ سے پانچ چاند ہے اور آسمان ہے صاف رہیے شیخ و محتسب آٹھ سے پانچ اب تو ہم بن گئے ہیں ایک قید ہستی اب ہمارا ہے نام آٹھ سے پانچ شعر کیا شاعری کے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوچنا بھی حرام آٹھ سے پانچ کچھ خریدیں تو بھاو پانچ کے آٹھ اور بیچیں تو دام آٹھ سے پانچ حقیقت ملے بھی تو ب سے یہ پوچھیں گے کچھ ملا کام وام آٹھ سے پانچ صحبت اہل ذوق ہے باسر اب سناؤ چھوؤں گا آٹھ سے پانچ
Basir Sultan Kazmi
0 likes
یہ نہیں ہے کہ تجھے ہے وہ ہے وہ نے پکارا کم ہے میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے اس کا کا دودمان ہجر ہے وہ ہے وہ کی نظم شماری ہم نے جان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارہ کم ہے دوستی ہے وہ ہے وہ تو کوئی شک نہیں اس کا کی پر حقیقت دوست دشمن کا زیادہ ہے ہمارا کم ہے صاف اظہار ہوں اور حقیقت بھی کم از کم دو بار ہم حقیقت حیات بزم ہیں جنہیں ایک اشارہ کم ہے ایک رخسار پہ دیکھا ہے حقیقت تل ہم نے بھی ہوں سمرقند مقابل کہ بخارا کم ہے اتنی جلدی نہ بنا رائے مری بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم نے ہمراہ ابھی وقت گزارا کم ہے باغ اک ہم کو ملا تھا مگر اس کا کو افسوس ہم نے جی بھر کے بگاڑا ہے سنوارا کم ہے آج تک اپنی سمجھ ہے وہ ہے وہ نہیں آیا باسر کون سا کام ہے حقیقت جس ہے وہ ہے وہ خسارہ کم ہے
Basir Sultan Kazmi
0 likes
ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے اوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے مل ان سے کبھی جاگتے ہیں جن کے مقدر تیری طرح ہر وقت وہ سوئے نہیں ہوتے دن میں جو پھرا کرتے ہیں ہوشیار و خبر دار وہ میری طرح رات کو جاگے نہیں ہوتے ہم ان کی طرف سے کبھی ہوتے نہیں غافل رشتے وہی پکے ہیں جو پکے نہیں ہوتے اغیار نے مدت سے جو روکے ہوئے تھے کام اب ہم بھی یہ سر و ساماں وہ کیسے نہیں ہوتے ناکامی کی صورت میں ملے مہ و انجم اب کام مری اتنے بھی کچے نہیں ہوتے شب اہل ہوس ایسے پریشان تھے باسر جیسے بیسیوں کبھی دیکھے نہیں ہوتے
Basir Sultan Kazmi
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Basir Sultan Kazmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Basir Sultan Kazmi's ghazal.







