ghazalKuch Alfaaz

کر لیا دن ہے وہ ہے وہ کام آٹھ سے پانچ اب چلے گوارا آٹھ سے پانچ چاند ہے اور آسمان ہے صاف رہیے شیخ و محتسب آٹھ سے پانچ اب تو ہم بن گئے ہیں ایک قید ہستی اب ہمارا ہے نام آٹھ سے پانچ شعر کیا شاعری کے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سوچنا بھی حرام آٹھ سے پانچ کچھ خریدیں تو بھاو پانچ کے آٹھ اور بیچیں تو دام آٹھ سے پانچ حقیقت ملے بھی تو ب سے یہ پوچھیں گے کچھ ملا کام وام آٹھ سے پانچ صحبت اہل ذوق ہے باسر اب سناؤ چھوؤں گا آٹھ سے پانچ

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

More from Basir Sultan Kazmi

ہم جیسے تیغ ظلم سے ڈر بھی گئے تو کیا کچھ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں سر بھی گئے تو کیا اٹھتی رہیں گی درد کی ٹیسیں تمام عمر ہیں زخم تیرے ہاتھ کے بھر بھی گئے تو کیا ہیں کون سے بہار کے دن اپنے منتظر یہ دن کسی طرح سے گزر بھی گئے تو کیا اک مکر ہی تھا آپ کا ایفا عہد بھی اپنے کہے سے آج مکر بھی گئے تو کیا ہم تو اسی طرح سے پھریں گے خراب حال یہ شعر تیرے دل میں اتر بھی گئے تو کیا باسر تمہیں یہاں کا ابھی تجربہ نہیں بیمار ہو پڑے رہو مر بھی گئے تو کیا

Basir Sultan Kazmi

1 likes

یہ نہیں ہے کہ تجھے ہے وہ ہے وہ نے پکارا کم ہے میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے اس کا کا دودمان ہجر ہے وہ ہے وہ کی نظم شماری ہم نے جان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارہ کم ہے دوستی ہے وہ ہے وہ تو کوئی شک نہیں اس کا کی پر حقیقت دوست دشمن کا زیادہ ہے ہمارا کم ہے صاف اظہار ہوں اور حقیقت بھی کم از کم دو بار ہم حقیقت حیات بزم ہیں جنہیں ایک اشارہ کم ہے ایک رخسار پہ دیکھا ہے حقیقت تل ہم نے بھی ہوں سمرقند مقابل کہ بخارا کم ہے اتنی جلدی نہ بنا رائے مری بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم نے ہمراہ ابھی وقت گزارا کم ہے باغ اک ہم کو ملا تھا مگر اس کا کو افسوس ہم نے جی بھر کے بگاڑا ہے سنوارا کم ہے آج تک اپنی سمجھ ہے وہ ہے وہ نہیں آیا باسر کون سا کام ہے حقیقت جس ہے وہ ہے وہ خسارہ کم ہے

Basir Sultan Kazmi

0 likes

کتنی ہی بے ضرر صحیح تیری خرابیاں باسر خرابیاں تو ہیں پھروں بھی خرابیاں حالت جگہ بدلنے سے جستجو دل شکستہ نہیں مری ہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں تو چاہتا ہے اپنی نئی خوبیوں کی داد مجھ کو عزیز تیری پرانی خرابیاں جوں ہی تعلقات کسی سے ہوئے خراب سارے جہاں کی اس میں ملیںگی خرابیاں سرکار کا ہے اپنا ہی معیار انتخاب یاروں کہاں کی خوبیاں کیسی خرابیاں آدم اعتباری کا پتلا ہے گر مان لیں یہ بات نکلیںگی اس خرابی سے کتنی خرابیاں ان ہستیوں کی راہ پہ سر و ساماں چل کے ہم جن میں نہ تھیں کسی بھی طرح کی خرابیاں بوئیں گے اپنے باغ میں سب خوبیوں کے بیج جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے ساری خرابیاں باسر کی شخصیت بھی عجب ہے کہ اس میں ہیں کچھ خوبیاں خراب کچھ اچھی خرابیاں

Basir Sultan Kazmi

0 likes

زخم تمہارے بھر جائیں گے تھوڑی دیر لگےگی بے صبری سے کام لیا تو اور بھی دیر لگےگی صاحب آج تو اپنا کام کرا کے جائیں گے ہم ساری شرطیں پوری ہیں پھروں کیسی دیر لگےگی یوں بےحال لگ ہوں اے دل ب سے آتے ہی ہوں گے حقیقت کل بھی دیر لگی تھی ان کو آج بھی دیر لگےگی سیکھ لیا ہے ہے وہ ہے وہ نے اپنے آپ سے باتیں کرنا فکر نہیں ان کو آنے ہے وہ ہے وہ کتنی دیر لگےگی کون گردشیں اب ا سے کے در پر شام ہوئی گھر جائیں اتنا ضروری کام نہیں ہے جتنی دیر لگےگی اتنی دیر ہے وہ ہے وہ کچھ کے کچھ ہوں جائیں گے حالات خط لکھنے سے خط ملنے تک جتنی دیر لگےگی مار گزیدہ کون بچا ہے باسر شکر کروں جاناں ٹھیک بھی ہوں جاؤگے لیکن ہنگاموں دیر لگےگی

Basir Sultan Kazmi

3 likes

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے اوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے مل ان سے کبھی جاگتے ہیں جن کے مقدر تیری طرح ہر وقت وہ سوئے نہیں ہوتے دن میں جو پھرا کرتے ہیں ہوشیار و خبر دار وہ میری طرح رات کو جاگے نہیں ہوتے ہم ان کی طرف سے کبھی ہوتے نہیں غافل رشتے وہی پکے ہیں جو پکے نہیں ہوتے اغیار نے مدت سے جو روکے ہوئے تھے کام اب ہم بھی یہ سر و ساماں وہ کیسے نہیں ہوتے ناکامی کی صورت میں ملے مہ و انجم اب کام مری اتنے بھی کچے نہیں ہوتے شب اہل ہوس ایسے پریشان تھے باسر جیسے بیسیوں کبھی دیکھے نہیں ہوتے

Basir Sultan Kazmi

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Basir Sultan Kazmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Basir Sultan Kazmi's ghazal.