ghazalKuch Alfaaz

ہوں گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کار گر عشق کا ا سے کو گماں ہم انی سے پر نہیں ضبط سے زار بجز وارستگی گرا گر نہیں دامن تمثال آب آئی لگ سے تر نہیں باعث ایذا ہے برہم خوردن بزم سرور لخت لخت شیشہ بشکاستہ پوچھوں نشتر نہیں دل کو اظہار سخن انداز فتح الباب ہے یاں سریر خامہ غیر از استحقاق در نہیں

Related Ghazal

تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے

Tehzeeb Hafi

262 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

بغیر اس کا کو بتائے نبھانا پڑتا ہے یہ عشق راز ہے اس کا کو چھپانا پڑتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ذہن کی ضد سے بے حد پریشاں ہوں تری خیال کی چوکھٹ پہ آنا پڑتا ہے تری بغیر ہی اچھے تھے کیا مصیبت ہے یہ کیسا پیار ہے ہر دن جتانا پڑتا ہے

Mehshar Afridi

73 likes

گلے تو لگنا ہے ا سے سے کہو ابھی لگ جائے یہی لگ ہوں میرا ا سے کے بغیر جی لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ رہا ہوں تری پا سے یہ لگ ہوں کہ کہی تیرا مزاق ہوں اور مری زندگی لگ جائے ا گر کوئی تیری رفتار ماپنے نکلے دماغ کیا ہے جہانوں کی روشنی لگ جائے تو ہاتھ اٹھا نہیں سکتا تو میرا ہاتھ پکڑ تجھے دعا نہیں لگتی تو شاعری لگ جائے پتا کروں گا اندھیرے ہے وہ ہے وہ ک سے سے ملتا ہے اور ا سے عمل ہے وہ ہے وہ مجھے چاہے آگ بھی لگ جائے ہمارے ہاتھ ہی جلتے رہیں گے سگریٹ سے کبھی تمہارے بھی کپڑوں پہ استری لگ جائے ہر ایک بات کا زار نکالنے والوں تمہارے نام کے آگے لگ مطلبی لگ جائے کلا سے روم ہوں یا حشر کیسے ممکن ہے ہمارے ہوتے تیری غیر حاضری لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پچھلے بی سے بر سے سے تیری گرفت ہے وہ ہے وہ ہوں کے اتنے دیر ہے وہ ہے وہ تو کوئی آئی جی لگ جائے

Tehzeeb Hafi

124 likes

More from Mirza Ghalib

दिल मिरा सोज़-ए-निहाँ से बे-मुहाबा जल गया आतिश-ए-ख़ामोश की मानिंद गोया जल गया दिल में ज़ौक़-ए-वस्ल ओ याद-ए-यार तक बाक़ी नहीं आग इस घर में लगी ऐसी कि जो था जल गया मैं अदम से भी परे हूँ वर्ना ग़ाफ़िल बार-हा मेरी आह-ए-आतिशीं से बाल-ए-अन्क़ा जल गया अर्ज़ कीजे जौहर-ए-अंदेशा की गर्मी कहाँ कुछ ख़याल आया था वहशत का कि सहरा जल गया दिल नहीं तुझ को दिखाता वर्ना दाग़ों की बहार इस चराग़ाँ का करूँँ क्या कार-फ़रमा जल गया मैं हूँ और अफ़्सुर्दगी की आरज़ू 'ग़ालिब' कि दिल देख कर तर्ज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया ख़ानमान-ए-आशिक़ाँ दुकान-ए-आतिश-बाज़ है शो'ला-रू जब हो गए गर्म-ए-तमाशा जल गया ता कुजा अफ़सोस-ए-गरमी-हा-ए-सोहबत ऐ ख़याल दिल बा-सोज़-ए-आतिश-ए-दाग़-ए-तमन्ना जल गया है 'असद' बेगाना-ए-अफ़्सुर्दगी ऐ बेकसी दिल ज़-अंदाज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया दूद मेरा सुंबुलिस्ताँ से करे है हम-सरी बस-कि शौक़-ए-आतिश-गुल से सरापा जल गया शम्अ-रूयाँ की सर-अंगुश्त-ए-हिनाई देख कर ग़ुंचा-ए-गुल पर-फ़िशाँ परवाना-आसा जल गया

Mirza Ghalib

0 likes

رفتار عمر قطع رہ اضطراب ہے ا سے سال کے حساب کو برق آفتاب ہے مینا مے ہے سرو نشاط بہار سے بال تدررو جلوہ موج شراب ہے اڑھائی ہوا ہے پاشنا پا ثبات کا نے بھاگنے کی گوں زیر مزار لگ اقامت کی تاب ہے جاداد بادہ نوشی رنداں ہے شش جہت غافل گماں کرے ہے کہ گیتی خراب ہے نہظارہ کیا حریف ہوں ا سے برق حسن کا جوش بہار رکے کو ج سے کے نقاب ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نامراد دل کی تسلی کو کیا کروں مانا کہ تری رکھ سے نگہ کامیاب ہے گزرا سرسری مسرت پیغام یار سے شکایت پہ مجھ کو رشک سوال و جواب ہے ظاہر ہے طرز قید سے صیاد کی غرض جو دا لگ دام ہے وہ ہے وہ ہے سو خوشی کباب ہے ب چشم دل لگ کر ہوں سے سیر لالہ زار زبان یہ ہر ورق ورق انتخاب ہے

Mirza Ghalib

1 likes

حضور شاہ ہے وہ ہے وہ دائم کی ستکار ہے چمن ہے وہ ہے وہ نیروے کی ستکار ہے قد و گیسو ہے وہ ہے وہ قی سے و کوہکن کی ستکار ہے ج ہاں ہم ہیں و ہاں دار و رسن کی ستکار ہے کریںگے کوہکن کے حوصلے کا امتحاں آخر ابھی ا سے خستہ کے نسیم مصر تن کی ستکار ہے شکیب و دل پامال اہل انجمن کو کیا بو پیرہن کی بد خواں اسے یوسف کی خون کوہکن کی ستکار ہے حقیقت آیا بزم ہے وہ ہے وہ دیکھو لگ کہ یوں پھروں کہ غافل تھے شست بت ناوک فگن کی ستکار ہے رہے دل ہی ہے وہ ہے وہ تیر اچھا ج گر کے پار ہوں بہتر غرض دل وابستہ کی ستکار ہے نہیں کچھ صبحا و زنار کے فندے ہے وہ ہے وہ گیرائی وفاداری ہے وہ ہے وہ شیخ و برہمن کی ستکار ہے پڑا رہ اے تاب زلف پر شکن بے تابی سے کیا حاصل م گر پھروں تلخی کام و دہن کی ستکار ہے رگ و پہ ہے وہ ہے وہ جب اترے زہر غم تب دیکھیے کیا ہوں ابھی تو حاجت مند کی ستکار ہے حقیقت آویں گے مری گھر وعدہ کیسا دیکھنا تاکتے نئے فتنوں ہے وہ ہے وہ اب چرخ کہن کی ستکار ہے

Mirza Ghalib

0 likes

حسد سے دل ا گر افسردہ ہے گرم تماشا ہوں کہ چشم تنگ شاید کثرت نظارہ سے وا ہوں بقدر حسرت دل چاہیے ذوق معاصی بھی بھروں یک گوشہ دامن گر آب ہفت دریا ہوں ا گر حقیقت بے گل مراد گرم خرام ناز آ جاوے کف ہر خاک گلشن شکل قمری نالہ فرسا ہوں بہم بالیدن سنگ و گل صحرا یہ چاہے ہے کہ تار زادہ بھی کوہسار کو زنار مینا ہوں حریف وحشت ناز نسیم عشق جب آؤں کہ مثل غنچہ ساز یک گلستاں دل مہیا ہوں بجائے دا لگ خرمن فرش پا انداز بیضا قمری میرا حاصل حقیقت نسخہ ہے کہ ج سے سے خاک پیدا ہوں کرے کیا ساز بینش حقیقت شہید درد آگاہی جسے مو دماغ بے خو گرا خواب زلیخا ہوں دل جوں شمع بہر دعوت نظارہ لایانی نگہ لبریز خوشی و سینا معمور تمنا ہوں لگ دیکھیں رو یک دل سرد غیر از شمع کافوری خدایا ا سے دودمان بزم قسمیں گرم تماشا ہوں

Mirza Ghalib

0 likes

ہوں سے کو ہے نشاط کار کیا کیا لگ ہوں مرنا تو جینے کا مزہ کیا تجاہل پیشگی سے مدعا کیا ک ہاں تک اے سرپا ناز کیا کیا نوازش ہا بے جا دیکھتا ہوں شکایت ہا رنگیں کا گلہ کیا نگاہ بے مہابا چاہتا ہوں ت غافل ہا تمکین آزما کیا فروغ شعلہ خ سے یک نف سے ہے ہوں سے کو پا سے نامو سے وفا کیا نف سے موج محیط بے خو گرا ہے ت غافل ہا ساقی کا گلہ کیا دماغ عطر پیراہن نہیں ہے غم آوارگی ہا صبا کیا دل ہر قطرہ ہے ساز انل بحر ہم ا سے کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا مہابا کیا ہے ہے وہ ہے وہ ضامن ادھر دیکھ شہیدان نگہ کا خوں بہا کیا سن اے غارت گر جن سے وفا سن شکست شیشہ دل کی صدا کیا کیا ک سے نے ج گر داری کا دعویٰ شکیب خاطر عاشق بھلا کیا یہ قاتل وعدہ دل پامال آزما کیوں یہ کافر فت لگ طاقت ربا کیا بلا جاں ہے تاکتے ا سے کی ہر بات عبارت کیا اشارت کیا ادا کیا

Mirza Ghalib

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Mirza Ghalib.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Mirza Ghalib's ghazal.