insani darinde aur is asani se mar jaaen ye sochne baithen to pareshani se mar jaaen vo jin ko mayassar thi har ik chiz-e-digar bhi mumkin hai suhulat ki faravani se mar jaaen kashti pe the kashti ko jalate hue hazrat ab aag se bach jaaen bhale paani se mar jaaen aine ka ye kaun sa session hai hamen kya divar ko takte hue hairani se mar jaaen 'babar' koi jazbati kronon se ye puchhe kis khate men ham aap ki nadani se mar jaaen ai dost mukammal nazar-andaz hi kar dekh aisa na ho ham niim nigahbani se mar jaaen bach jaaen to akhir kise kya farq padega dushman na sahi dost pashemani se mar jaaen ankhon men utarte hue itraen sitare suraj hon to jal kar tiri peshani se mar jaaen ranjhe ko to phir hiir ki tasvir bahut hai ji karta tha lag kar usi marjani se mar jaaen insani darinde aur is aasani se mar jaen ye sochne baithen to pareshani se mar jaen wo jin ko mayassar thi har ek chiz-e-digar bhi mumkin hai suhulat ki farawani se mar jaen kashti pe the kashti ko jalate hue hazraat ab aag se bach jaen bhale pani se mar jaen aaine ka ye kaun sa session hai hamein kya diwar ko takte hue hairani se mar jaen 'babar' koi jazbaati kronon se ye puchhe kis khate mein hum aap ki nadani se mar jaen ai dost mukammal nazar-andaz hi kar dekh aisa na ho hum nim nigahbani se mar jaen bach jaen to aakhir kise kya farq padega dushman na sahi dost pashemani se mar jaen aankhon mein utarte hue itraen sitare suraj hon to jal kar teri peshani se mar jaen ranjhe ko to phir hir ki taswir bahut hai ji karta tha lag kar usi marjaani se mar jaen
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
70 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
More from Idris Babar
تری گلی سے گزرنے کو سر جھکائے ہوئے مختلف حجرہ ہفت آسمان اٹھائے ہوئے کوئی درخت سرائے کہ ج سے ہے وہ ہے وہ جا بیٹھیں پرندے اپنی پریشانیاں بھلائے ہوئے مری سوال وہی ٹوٹ پھوٹ کی زد ہے وہ ہے وہ ہے وہ جواب ان کے وہی ہیں بنے بنائے ہوئے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو دیکھتے تھے جن کو دیکھتے تھے ہم حقیقت خواب خاک ہوئے اور حقیقت لوگ سائے ہوئے شکاریوں سے مری احتجاج ہے وہ ہے وہ بابر درخت آج بھی شامل تھے ہاتھ اٹھائے ہوئے
Idris Babar
1 likes
ایک دن خواب ن گر جانا ہے اور یوںہی خاک بسر جانا ہے عمر بھر کی یہ جو ہے بے خوابی یہ اسی خواب کا ہرجا لگ ہے گھر سے ک سے سمے چلے تھے ہم لوگ خیر اب کون سا گھر جانا ہے موت کی پہلی علامت صاحب یہی احسا سے کا مر جانا ہے کسی تقریب جدائی کے بغیر ٹھیک ہے جاؤ ا گر جانا ہے شور کی دھول ہے وہ ہے وہ گم گلیوں سے دل کو چپ چاپ گزر جانا ہے
Idris Babar
2 likes
اب مسافت ہے وہ ہے وہ تو آرام نہیں آ سکتا یہ ستارہ بھی مری کام نہیں آ سکتا یہ مری سلطنت خواب ہے آباد رہو ای سے کے اندر کوئی بہرام نہیں آ سکتا جانے کھلتے ہوئے پھولوں کو خبر ہے کہ نہیں باغ ہے وہ ہے وہ کوئی سیاہ فام نہیں آ سکتا ہر ہوا خواہ یہ کہتا تھا کہ ہری ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بجھنے والوں ہے وہ ہے وہ میرا نام نہیں آ سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جنہیں یاد ہوں اب تک یہی کہتے ہوں گے شہزادہ کبھی ناکام نہیں آ سکتا ڈر ہی لگتا ہے کہ رستے ہے وہ ہے وہ نہ رہ جاؤں کہیں کہلواؤ دیجیے ہے وہ ہے وہ شام نہیں آ سکتا
Idris Babar
0 likes
وہ گل وہ خواب شار بھی نہیں رہا سو دل یہ خاکسار بھی نہیں رہا یہ دل تو اس کے نام کا پڑاو ہے جہاں وہ ایک بار بھی نہیں رہا پڑا ہے خود سے واسطہ اور اس کے بعد کسی کا اعتبار بھی نہیں رہا یہ رنج اپنی اصل شکل میں ہے دوست کہ میں اسے سنوارت بھی نہیں رہا یہ وقت بھی گزر نہیں رہا ہے اور میں خود اسے گزار بھی نہیں رہا
Idris Babar
0 likes
دیکھا نہیں چاند نے پلٹ کر ہم سو گئے خواب سے لپٹ کر اب دل ہے وہ ہے وہ حقیقت سب ک ہاں ہے دیکھو بغداد کہانیوں سے ہٹ کر شاید یہ شجر وہی ہوں ج سے پر دیکھو تو ذرا ورق الٹ کر اک خوف زدہ سا بے وجہ گھر تک پہنچا کئی راستوں ہے وہ ہے وہ بٹ کر کاغذ پہ حقیقت نجم کھیل اٹھی ہے اگ آیا ہے پھروں درخت کٹ کر بابر یہ پرند تھک گئے تھے بیٹھے ہیں جو خاک پر سمٹ کر
Idris Babar
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Idris Babar.
Similar Moods
More moods that pair well with Idris Babar's ghazal.







