ghazalKuch Alfaaz

جب کبھی پھولوں نے خوشبو کی تجارت کی ہے پتی پتی نے ہواؤں سے شکایت کی ہے یوں لگا چنو کوئی عطر فضا ہے وہ ہے وہ گھل جائے جب کسی بچے نے ہوشیاروں کی تلاوت کی ہے جا نمازوں کی طرح نور ہے وہ ہے وہ اجلائی سحر رات بھر چنو فرشتوں نے عبادت کی ہے سر اٹھائے تھیں بے حد سرخ ہوا ہے وہ ہے وہ پھروں بھی ہم نے پلکوں کے چراغوں کی حفاظت کی ہے مجھے طوفان حوادث سے ڈرانے والو حادثوں نے تو مری ہاتھ پہ بیعت کی ہے آج اک دا لگ گندم کے بھی حق دار نہیں ہم نے صدیوں انہی کھیتوں پہ حکومت کی ہے یہ ضروری تھا کہ ہم دیکھتے قلعوں کے جلال عمر بھر ہم نے مزاروں کی زیارت کی ہے

Related Ghazal

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

زبان کہ عشق اپنا مکمل نہیں ہوا گر ہے وہ ہے وہ تمہارے ہجر ہے وہ ہے وہ پاگل نہیں ہوا حقیقت بے وجہ سالو بعد بھی کتنا حسین ہے حقیقت رنگ کینو سے پہ کبھی ڈل نہیں ہوا ا سے گود جیسی نیند میسر لگ ہوں سکی اتنا تو مخملی کبھی مخمل نہیں ہوا دو چار رابطوں نے ہی پاگل کیا مجھے اچھا ہوا جو ربط مسلسل نہیں ہوا ا سے بار مری حال پہ کھلکر نہیں ہنسی ا سے بار تری گال پہ ڈمپل نہیں ہوا اندھا حقیقت کیوں ہوا پتا لگنے کے بعد ہے وہ ہے وہ ہے وہ تا عمر ا سے کی آنکھ سے اوجھل نہیں ہوا یوں کھینچتی ہے تیر حقیقت اپنے نشانے پر ہر اک شکار مر گیا تو غائل نہیں ہوا

Kushal Dauneria

34 likes

یہ پیار تیری بھول ہے قبول ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سنگ ہوں تو پھول ہے قبول ہے دغا بھی دوں گا پیار ہے وہ ہے وہ کبھی کبھی کہ یہ میرا اصول ہے قبول ہے تجھے ج ہاں عزیز ہے تو چھوڑ جا مجھے یہ اجازت فضول ہے قبول ہے تو روٹھے گی تو ہے وہ ہے وہ مناؤںگا نہیں جو رول ہے حقیقت رول ہے قبول ہے لپٹ اے شاخے گل م گر یہ سوچ کر میرا بدن ببول ہے قبول ہے یہی ہے گر تری رضا تو بول پھروں قبول ہے قبول ہے قبول ہے

Varun Anand

42 likes

کہی اکیلے ہے وہ ہے وہ مل کر جھنجھوڑ دوں گا اسے ج ہاں ج ہاں سے حقیقت ٹوٹا ہے جوڑ دوں گا اسے مجھے حقیقت چھوڑ گیا تو یہ غصہ ہے ا سے کا ارادہ ہے وہ ہے وہ نے کیا تھا کہ چھوڑ دوں گا اسے بدن چرا کے حقیقت چلتا ہے مجھ سے شیشہ بدن اسے یہ ڈر ہے کہ ہے وہ ہے وہ توڑ پھوڑ دوں گا اسے پسینے بانٹتا پھرتا ہے ہر طرف سورج کبھی جو ہاتھ لگا تو نچوڑ دوں گا اسے مزہ چکھا کے ہی مانا ہوں ہے وہ ہے وہ بھی دنیا کو سمجھ رہی تھی کہ ایسے ہی چھوڑ دوں گا اسے

Rahat Indori

32 likes

اب ب سے ا سے کے دل کے اندر داخل ہونا باقی ہے چھہ دروازے چھوڑ چکا ہوں ایک دروازہ باقی ہے دولت شہرت بیوی بچے اچھا گھر اور اچھے دوست کچھ تو ہے جو ان کے بعد بھی حاصل کرنا باقی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ برسوں سے کھول رہا ہوں ایک عورت کی ساڑی کو آدھی دنیا گھوم چکا ہوں آدھی دنیا باقی ہے کبھی کبھی تو دل کرتا ہے چلتی ریل سے کود پڑوں پھروں کہتا ہوں پاگل اب تو تھوڑا رستہ باقی ہے ا سے کی خاطر بازاروں ہے وہ ہے وہ بھیڑ بھی ہے اور رونق بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ گم ہونے والا ہوں ب سے ہاتھ چھڑانا باقی ہے

Zia Mazkoor

28 likes

More from Rahat Indori

چہروں کی دھوپ آنکھوں کی گہرائی لے گیا تو آئی لگ سارے شہر کی بینائی لے گیا تو ڈوبے ہوئے جہاز پہ کیا تبصرہ کریں یہ حادثہ تو سوچ کی گہرائی لے گیا تو حالانکہ بے زبان تھا لیکن عجیب تھا جو بے وجہ مجھ سے چھین کے گویائی لے گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج اپنے گھر سے نکلنے لگ پاؤں گا ب سے اک قمیص تھی جو میرا بھائی لے گیا تو تاکتے تمہارے واسطے اب کچھ نہیں رہا گلیوں کے سارے سنگ تو سودائی لے گیا تو

Rahat Indori

19 likes

یوں صدا دیتے ہوئے تری خیال آتے ہیں چنو کعبہ کی کھلی چھت پہ بلال آتے ہیں روز ہم اشکوں سے دھو آتے ہیں دیوار حرم پگڑیاں روز فرشتوں کی اچھال آتے ہیں ہاتھ ابھی پیچھے بندھے رہتے ہیں چپ رہتے ہیں دیکھنا یہ ہے تجھے کتنے غصہ آتے ہیں چاند سورج مری چوکھٹ پہ کئی صدیوں سے روز لکھے ہوئے چہرے پہ سوال آتے ہیں بے حسی مردہ دلی رقص شرابیں نغمے ب سے اسی راہ سے قوموں پہ زوال آتے ہیں

Rahat Indori

3 likes

اسے سامان سفر جان یہ جگنو رکھ لے راہ ہے وہ ہے وہ تیرگی ہوں گی مری آنسو رکھ لے تو جو چاہے تو ترا جھوٹ بھی بک سکتا ہے شرط اتنی ہے کہ سونے کی ترازو رکھ لے حقیقت کوئی جسم نہیں ہے کہ اسے چھو بھی سکیں ہاں ا گر نام ہی رکھنا ہے تو خوشبو رکھ لے تجھ کو اندیکھی بلن گرا ہے وہ ہے وہ سفر کرنا ہے احتیاطاً مری ہمت مری بازو رکھ لے مری خواہش ہے کہ آنگن ہے وہ ہے وہ لگ دیوار اٹھے مری بھائی مری حصے کی ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رکھ لے

Rahat Indori

0 likes

یہ صد رنگی افلاک جو رہتے ہیں بے زبان پڑے اشارہ کر دیں تو سورج ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ آن پڑے سکوت زیست کو آمادہ بغاوت کر لہو اچھال کہ کچھ زندگی ہے وہ ہے وہ جان پڑے ہمارے شہر کی بینائیوں پہ روتے ہیں تمام شہر کے منظر لہو لہان پڑے اٹھے ہیں ہاتھ مری حرمت ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے لیے مزہ جب آئی کہ اب پاؤں آسمان پڑے کسی مکین کی آمد کے انتظار ہے وہ ہے وہ ہیں مری باندی ہے وہ ہے وہ خالی کئی مکان پڑے

Rahat Indori

7 likes

جو منصبوں کے پجاری پہن کے آتے ہیں کلاہ طوق سے بھاری پہن کے آتے ہیں امیر شہر تری طرح قیمتی پوشاک مری گلی ہے وہ ہے وہ بھکاری پہن کے آتے ہیں یہی عقیق تھے جھونپڑیوں کے تاج کی ظفر جو انگلیوں ہے وہ ہے وہ مداری پہن کے آتے ہیں ہمارے جسم کے داغوں پہ تبصرہ کرنے قمیصیں لوگ ہماری پہن کے آتے ہیں عبادتوں کا تحفظ بھی ان کے زممے ہے جو مسجدوں ہے وہ ہے وہ صفاری پہن کے آتے ہیں

Rahat Indori

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Rahat Indori.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Rahat Indori's ghazal.