کب حقیقت سنتا ہے کہانی مری اور پھروں حقیقت بھی زبانی مری خلش غمزہ خوں ریز لگ پوچھ دیکھ خوں نابہ فشانی مری کیا بیاں کر کے میرا روئیںگے یار م گر آشفتہ بیانی مری ہوں ز خود نشینی رفتہ بیدا خیال بھول جانا ہے نشانی مری متقابل ہے مقابل میرا رک گیا تو دیکھ روانی مری دودمان سنگ سر رہ رکھتا ہوں سخت ارزاں ہے گرانی مری گرد باد رہ بیتابی ہوں سرسر شوق ہے بانی مری دہن ا سے کا جو لگ معلوم ہوا کھل گئی بریدش انفا سے مدانی مری کر دیا زوف نے عاجز تاکتے نگ پیر ہے جوانی مری
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
آنکھ کو آئی لگ سمجھتے ہوں جاناں بھی سب کی طرح سمجھتے ہوں دوست اب کیوں نہیں سمجھتے جاناں جاناں تو کہتے تھے نا سمجھتے ہوں اپنا غم جاناں کو کیسے سمجھاؤں سب سے ہارا ہوا سمجھتے ہوں مری دنیا اجڑ گئی ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں اسے حادثہ سمجھتے ہوں آخری راستہ تو باقی ہے آخری راستہ سمجھتے ہوں
Himanshi babra KATIB
76 likes
مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو
Fazil Jamili
73 likes
More from Mirza Ghalib
दिल मिरा सोज़-ए-निहाँ से बे-मुहाबा जल गया आतिश-ए-ख़ामोश की मानिंद गोया जल गया दिल में ज़ौक़-ए-वस्ल ओ याद-ए-यार तक बाक़ी नहीं आग इस घर में लगी ऐसी कि जो था जल गया मैं अदम से भी परे हूँ वर्ना ग़ाफ़िल बार-हा मेरी आह-ए-आतिशीं से बाल-ए-अन्क़ा जल गया अर्ज़ कीजे जौहर-ए-अंदेशा की गर्मी कहाँ कुछ ख़याल आया था वहशत का कि सहरा जल गया दिल नहीं तुझ को दिखाता वर्ना दाग़ों की बहार इस चराग़ाँ का करूँँ क्या कार-फ़रमा जल गया मैं हूँ और अफ़्सुर्दगी की आरज़ू 'ग़ालिब' कि दिल देख कर तर्ज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया ख़ानमान-ए-आशिक़ाँ दुकान-ए-आतिश-बाज़ है शो'ला-रू जब हो गए गर्म-ए-तमाशा जल गया ता कुजा अफ़सोस-ए-गरमी-हा-ए-सोहबत ऐ ख़याल दिल बा-सोज़-ए-आतिश-ए-दाग़-ए-तमन्ना जल गया है 'असद' बेगाना-ए-अफ़्सुर्दगी ऐ बेकसी दिल ज़-अंदाज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया दूद मेरा सुंबुलिस्ताँ से करे है हम-सरी बस-कि शौक़-ए-आतिश-गुल से सरापा जल गया शम्अ-रूयाँ की सर-अंगुश्त-ए-हिनाई देख कर ग़ुंचा-ए-गुल पर-फ़िशाँ परवाना-आसा जल गया
Mirza Ghalib
0 likes
جھمکے تھی یہ شکل تجلی کو نور کی قسمت کھلی تری قد و رکھ سے ظہور کی اک خوں چکاں کفن ہے وہ ہے وہ کروڑوں حرف حکایات ہیں پڑتی ہے آنکھ تری شہیدوں پہ حور کی واعظ لگ جاناں پ یوں لگ کسی کو پلا سکو کیا بات ہے تمہاری شراب طہور کی لڑتا ہے مجھ سے حشر ہے وہ ہے وہ قاتل کہ کیوں اٹھا گویا ابھی سنی نہیں آواز شوق دید کی آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی گو واں نہیں بچیں واں کے نکالے ہوئے تو ہیں کعبہ سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب آؤ لگ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی گرمی صحیح چھوؤں گا ہے وہ ہے وہ لیکن لگ ا سے دودمان کی ج سے سے بات ا سے نے شکایت ضرور کی تاکتے گر ا سے سفر ہے وہ ہے وہ مجھے ساتھ لے چلیں حج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی
Mirza Ghalib
0 likes
دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا بارے اپنی بےکسی کی ہم نے پائی داد یاں ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام مہر گردوں ہے چراغ رہگزار باد یاں ہے ترحم آفریں آرائش بے داد یاں اشک چشم دام ہے ہر دانہ صیاد یاں ہے گداز موم انداز چکیدن ہا خون نیش زنبور اصل ہے نشتر فساد یاں ناگوارا ہے ہمیں احسان صاحب دولتاں ہے زر گل بھی نظر میں جوہر فولاد یاں جنبش دل سے ہوئے ہیں عقدہ ہا کار وا کم ترین مزدور سنگیں دست ہے فرہاد یاں قطرہ ہا خون بسمل زیب داماں ہیں سرسری ہے تماشا تاب شوخی دیدار دوست گل چینی جلاد یاں
Mirza Ghalib
1 likes
ا سے بزم ہے وہ ہے وہ مجھے نہیں بنتی حیا کیے بیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیے دل ہی تو ہے سیاست درباں سے ڈر گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور جاؤں در سے تری بن صدا کیے رکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجادہ رہن مے مدت ہوئی ہے دعوت آب و ہوا کیے کنج طبیعت ہی گزرتی ہے ہوں گرچہ خیرو حضرت بھی کل کہی گے کہ ہم کیا کیا کیے مقدور ہوں تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم تو نے حقیقت گنج ہا گراں مایہ کیا کیے ک سے روز تہمتیں لگ تراشا کیے عدو ک سے دن ہمارے سر پہ لگ آرے چلا کیے صحبت ہے وہ ہے وہ غیر کی لگ پڑی ہوں کہی یہ پربھاکر دینے لگا ہے بوسہ بغیر التجا کیے ضد کی ہے اور بات م گر پربھاکر بری نہیں بھولے سے ا سے نے سیکڑوں نازکی وفا کیے تاکتے تمہیں کہو کہ ملےگا جواب کیا مانا کہ جاناں کہا کیے اور حقیقت سنا کیے
Mirza Ghalib
1 likes
لگ ہوگا فرش پا انداز ماندگی سے ذوق کم میرا حباب موجہ رفتار ہے نقش قدم میرا محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے کہ موج بو گل سے ناک ہے وہ ہے وہ آتا ہے دم میرا رہ خوابیدہ تھی گردن کش یک در سے آگاہی ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو سیلی استاد ہے نقش قدم میرا سراغ آوارہ عرض دو عالم شور محشر ہوں پر افشاں ہے غمدیدہ آں سو صحرا عدم میرا ہوا صبح یک عالم گریباں چاکی گل ہے پہنچتی پیدا کر ا گر تقاضا ہے غم میرا لگ ہوں وحشت کش در سے سراب سطر آگاہی ہے وہ ہے وہ ہے وہ گرد راہ ہوں بے مدعا ہے پیچ و خم میرا سرسری وحشت پرست گوشہ تنہائی دل ہے ب رنگ موج مے خمیازہ ساغر ہے رم میرا
Mirza Ghalib
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mirza Ghalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Mirza Ghalib's ghazal.







