ghazalKuch Alfaaz

کبھی کہا لگ کسی سے تری فسانے کو لگ جانے کیسے خبر ہوں گئی زمانے کو دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے کہی جگہ لگ رہی مری آشیانے کو مری لحد پہ پتنگوں کا خون ہوتا ہے حضور شمع لگ لایا کریں جلانے کو سنا ہے غیر کی محفل ہے وہ ہے وہ جاناں لگ جاؤگے کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو دبا کے قبر ہے وہ ہے وہ سب چل دیے دعا لگ سلام بخیر ذرا سی دیر ہے وہ ہے وہ کیا ہوں گیا تو زمانے کو اب آگے ا سے ہے وہ ہے وہ تمہارا بھی نام آئےگا جو حکم ہوں تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو قمر ذرا بھی نہیں جاناں کو خوف رسوائی چلے ہوں چاندنی شب ہے وہ ہے وہ ا نہیں بلانے کو

Related Ghazal

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

More from Qamar Jalalvi

کبھی جو آنکھ پہ گیسو یار ہوتا ہے شراب خانے پہ ابر بہار ہوتا ہے کسی کا غم ہوں مری دل پہ بار ہوتا ہے اسی کا نام غرق دریا ہوتا ہے الہی خیر ہوں ان بے زبان اسیروں کی قف سے کے سامنے ذکر بہار ہوتا ہے چمن ہے وہ ہے وہ ایسے بھی دو چار ہیں چمن والے کہ جن کو تہذیب ناگوار ہوتا ہے سوال جام تری مختلف ہے وہ ہے وہ اے ساقی جواب گردش لیل و نہار ہوتا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وفا پہ وفا آج تک لگ را سے آئی ا نہیں ستم پہ ستم سازگار ہوتا ہے لبوں پہ آ گیا تو دم بند ہوں چکیں آنکھیں چلے بھی آؤ کہ ختم انتظار ہوتا ہے ک ہاں حقیقت وصل کی راتیں ک ہاں یہ ہجر کے دن خیال گردش لیل و نہار ہوتا ہے جنوں تو ایک بڑی چیز ہے محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ذرا سے خوشی سے راز آشکار ہوتا ہے مری جنازے کو دیکھا تو یا سے سے بولے ی ہاں پہ آدمی بے اختیار ہوتا ہے خدا رکھے تمہیں کیا کوئی جور بھول گئے جو اب تلاش ہمارا مزار ہوتا ہے ہمارا زور ہے کیا باغباں اٹھا لیںگے یہ آشیاں جو تجھے ناگوار ہوتا ہے عجیب کش مکش بحر غم ہے وہ ہے وہ دل

Qamar Jalalvi

1 likes

اب تو منہ سے بول مجھ کو دیکھ دن بھر ہوں گیا تو اے بت خاموش کیا سچ مچ کا پتھر ہوں گیا تو اب تو چپ ہوں باغ ہے وہ ہے وہ نالوں سے محشر ہوں گیا تو یہ بھی اے بلبل کوئی صیاد کا گھر ہوں گیا تو التماس قتل پر کہتے ہوں فرصت ہی نہیں اب تمہیں اتنا غرور اللہ اکبر ہوں گیا تو محفل دشمن ہے وہ ہے وہ جو گزری حقیقت میرے دل سے پوچھ ہر اشارہ جنبش ابرو کا خنجر ہوں گیا تو آشیانے کا بتائیں کیا پتا خانہ بدوش چار تنکے رکھ لیے جس شاخ پر گھر ہوں گیا تو حرص تو دیکھو فلک بھی مجھ پہ کرتا ہے ستم کوئی پوچھے تو بھی کیا ان کے برابر ہوں گیا تو سوختہ دل ہے وہ ہے وہ نہ ملتا تیر کو خوں اے قمر یہ بھی کچھ مہمان کی قسمت سے میسر ہوں گیا تو

Qamar Jalalvi

1 likes

سرخیاں کیوں ڈھونڈ کر لاؤں فسانے کے لیے ب سے تمہارا نام کافی ہے زمانے کے لیے ہے ساحل سے ہٹاتی ہیں حبابوں کا ہجوم حقیقت چلے آئی ہیں ساحل پر نہانے کے لیے سوچتا ہوں اب کہی بجلی گری تو کیوں گری تنکے لایا تھا ک ہاں سے آشیانے کے لیے چھوڑ کر بستی یہ دیوانے ک ہاں سے آ گئے دشت کی بیٹھی بٹھائی خاک اڑانے کے لیے ہن سے کے کہتے ہوں زما لگ بھر مجھہی پر جان دے رہ گئے ہوں کیا تمہیں سارے زمانے کے لیے شام کو آوگے جاناں اچھا ابھی ہوتی ہے شام گیسوؤں کو کھول دو سورج چھپانے کے لیے کائنات عشق اک دل کے سوا کچھ بھی نہیں حقیقت ہی آنے کے لیے ہے حقیقت ہی جانے کے لیے اے زمانے بھر کو خوشیاں دینے والے یہ بتا کیا قمر ہی رہ گیا تو ہے غم اٹھانے کے لیے

Qamar Jalalvi

0 likes

باغ عالم ہے وہ ہے وہ رہے شا گرا و ماتم کی طرح پھول کی طرح ہنسے رو دیے شبنم کی طرح شکوہ کرتے ہوں خوشی جاناں سے منائی لگ گئی ہم سے غم بھی تو منایا لگ گیا تو غم کی طرح روز محفل سے اٹھاتے ہوں تو دل دکھتا ہے اب نکلواو تو پھروں حضرت آدم کی طرح لاکھ ہم رند صحیح حضرت واعظ لیکن آج تک ہم نے لگ پی قبلہ عالم کی طرح تری انداز جراحت کے نثار اے قاتل خون زخموں پہ نظر آتا ہے مرہم کی طرح خوف دل سے لگ گیا تو صبح کے ہونے کا قمر وصل کی رات گزاری ہے شب غم کی طرح

Qamar Jalalvi

0 likes

میرا خاموش رہ کر بھی ا نہیں سب کچھ سنا دینا زبان سے کچھ لگ کہنا دیکھ کر آنسو بہا دینا نشمن ہوں لگ ہوں یہ تو فلک کا مشغلہ ٹھہرا کہ دو تنکے ج ہاں پر دیکھنا بجلی گرا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے حالت سے پہنچا حشر والے خود پکار اٹھے کوئی پڑنا والا آ رہا ہے راستہ دینا اجازت ہوں تو کہ دوں قصہ الفت سر محفل مجھے کچھ تو فسا لگ یاد ہے کچھ جاناں سنا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجرم ہوں مجھے اقرار ہے جرم محبت کا م گر پہلے تو خط پر غور کر لو پھروں سزا دینا ہٹا کر رکھ سے گیسو صبح کر دینا تو ممکن ہے م گر سرکار کے ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں تارے چھپا دینا یہ تہذیب چمن جستجو دل شکستہ ہے بیرونی ہواؤں نے گریباں چاک پھولوں پر کلی کا مسکرا دینا قمر حقیقت سب سے چھپ کر آ رہے ہیں فاتحہ پڑھنے ک ہوں ک سے سے کہ مری شمع تربت کو بجھا دینا

Qamar Jalalvi

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Qamar Jalalvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Qamar Jalalvi's ghazal.