kahin log tanha kahin ghar akele kahan tak main dekhun ye manzar akele gali men havaon ki sargoshiyan hain gharon men magar sab sanobar akele numaish hazaron nigahon ne dekhi magar phuul pahle se badh kar akele ab ik tiir bhi ho liya saath varna parinda chala tha safar par akele jo dekho to ik lahr men ja rahe hain jo socho to saare shanavar akele tiri yaad ki barf-bari ka mausam sulagta raha dil ke andar akele irada tha ji lunga tujh se bichhad kar guzarta nahin ik december akele zamane se 'qasir' khafa to nahin hain ki dekhe gae hain vo aksar akele kahin log tanha kahin ghar akele kahan tak main dekhun ye manzar akele gali mein hawaon ki sargoshiyan hain gharon mein magar sab sanobar akele numaish hazaron nigahon ne dekhi magar phul pahle se badh kar akele ab ek tir bhi ho liya sath warna parinda chala tha safar par akele jo dekho to ek lahr mein ja rahe hain jo socho to sare shanawar akele teri yaad ki barf-bari ka mausam sulagta raha dil ke andar akele irada tha ji lunga tujh se bichhad kar guzarta nahin ek december akele zamane se 'qasir' khafa to nahin hain ki dekhe gae hain wo aksar akele
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا
Tehzeeb Hafi
241 likes
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
More from Ghulam Mohammad Qasir
اکیلا دن ہے کوئی اور لگ تنہا رات ہوتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے پل سے گزرتا ہوں محبت ساتھ ہوتی ہے تری آواز کو ا سے شہر کی لہریں مشین ہیں غلط نمبر ملاتا ہوں تو پہروں بات ہوتی ہے سروں پر خوف رسوائی کی چادر تان لیتے ہوں تمہارے واسطے رنگوں کی جب برسات ہوتی ہے کہی چڑیاں چہکتی ہیں کہی مصروف چٹکتی ہیں م گر مری مکان سے آ سماں تک رات ہوتی ہے کسے آباد سمجھوں ک سے کا شہر آشوب لکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں شہروں کی یکساں صورت حالات ہوتی ہے
Ghulam Mohammad Qasir
2 likes
بن ہے وہ ہے وہ ویراں تھی نظر شہر ہے وہ ہے وہ دل روتا ہے زندگی سے یہ میرا دوسرا سمجھوتا ہے لہلہاتے ہوئے خوابوں سے مری آنکھوں تک رتجگے کاشت لگ کر لے تو حقیقت کب سوتا ہے ج سے کو ا سے توڑے ہے وہ ہے وہ ہونا ہے برابر کا شریک مری احسا سے ہے وہ ہے وہ تنہائیاں کیوں بوتا ہے نام لکھ لکھ کے ترا پھول بنانے والا آج پھروں شبنمی آنکھوں سے ورق دھوتا ہے تری بخشی ہوئے اک غم کا کرشمہ ہے کہ اب جو بھی غم ہوں مری گاہے سے کم ہوتا ہے سو گئے شہر محبت کے سبھی داغ و چراغ ایک سایہ پ سے دیوار ابھی روتا ہے یہ بھی اک رنگ ہے شاید مری چھپتے کا کوئی ہن سے دے تو محبت کا گماں ہوتا ہے
Ghulam Mohammad Qasir
1 likes
پہلے اک بے وجہ مری ذات بنا اور پھروں پوری کائنات بنا حسن نے خود کہا مصور سے پاؤں پر مری کوئی ہاتھ بنا پیا سے کی سلطنت نہیں مٹتی لاکھ دجلے بنا فرات بنا غم کا سورج حقیقت دے گیا تو تجھ کو چاہے اب دن بنا کہ رات بنا شعر اک مشغلہ تھا سینکڑوں کا اب یہی مقصد حیات بنا
Ghulam Mohammad Qasir
2 likes
کشتی بھی نہیں جستجو دل شکستہ دریا بھی نہیں بدلا اور ڈوبنے والوں کا طیسے بھی نہیں بدلا تصویر نہیں جستجو دل شکستہ شیشہ بھی نہیں بدلا نظریں بھی سلامت ہیں چہرہ بھی نہیں بدلا ہے شوق سفر ایسا اک عمر سے یاروں نے منزل بھی نہیں پائی رستہ بھی نہیں بدلا بیکار گیا تو بن ہے وہ ہے وہ سونا میرا صدیوں کا ا سے شہر ہے وہ ہے وہ تو اب تک سکہ بھی نہیں بدلا بے سمت ہواؤں نے ہر لہر سے سازش کی خوابوں کے جزیرے کا نقشہ بھی نہیں بدلا
Ghulam Mohammad Qasir
10 likes
نظر نظر ہے وہ ہے وہ ادا جمال رکھتے تھے ہم ایک بے وجہ کا کتنا خیال رکھتے تھے جبیں پہ آنے لگ دیتے تھے اک شکن بھی کبھی اگرچہ دل ہے وہ ہے وہ ہزاروں ملال رکھتے تھے خوشی اسی کی ہمیشہ نظر ہے وہ ہے وہ رہتی تھی اور اپنی قوت غم بھی بحال رکھتے تھے ب سے اشتیاق تکلم ہے وہ ہے وہ بارہا ہم لوگ جواب دل ہے وہ ہے وہ زبان پر سوال رکھتے تھے اسی سے کرتے تھے ہم روز و شب کا اندازہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ رہ کے حقیقت سورج کی چال رکھتے تھے جنوں کا جام محبت کی مے خرد کا خمار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے حقیقت جو یہ سارے غصہ رکھتے تھے چھپا کے اپنی سسکتی سلگتی سوچوں سے محبتوں کے عروج و زوال رکھتے تھے کچھ ان کا حسن بھی تھا ماورا مثالوں سے کچھ اپنا عشق بھی ہم بے مثال رکھتے تھے غلطیاں نہیں جو کھلے پھول راہ سرسر ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جرم ہے کہ حقیقت فکر مآل رکھتے تھے
Ghulam Mohammad Qasir
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ghulam Mohammad Qasir.
Similar Moods
More moods that pair well with Ghulam Mohammad Qasir's ghazal.







