ghazalKuch Alfaaz

khvab sarikha chhutpan savan pyaaz ki roti desi ghi amma ke sil-batte vaali dhaniye lahsan ki chatni kachchi mitti ke ghar jaise bachchon ko sahlate the gubri vaale dalanon par chot kabhi na lagti thi das-barah chhedon se paani favare sa padta tha ghar men tuuti tilli vaali ek purani si chhatri cycle thodi chaubis inchi uunt chalaya karte the vo bhi tiin charan men bhayya qainchi danda phir gaddi nekar vaali umron tak ham khaak samajhte the juthan tote ke katre amrudon ko khane ki hod rahi ghar ki khapdailon ke andar tap-tap megh baraste the amma baabu tankte rahte tiin men sabun ki tikki angan ke aghhosh men lete shab-bhar naam bigade the taron ko ishtar kahe the aur 'qamar' ko maama ji khwab sarikha chhutpan sawan pyaz ki roti desi ghi amma ke sil-batte wali dhaniye lahsan ki chatni kachchi mitti ke ghar jaise bachchon ko sahlate the gubri wale dalanon par chot kabhi na lagti thi das-barah chhedon se pani faware sa padta tha ghar mein tuti tilli wali ek purani si chhatri cycle thodi chaubis inchi unt chalaya karte the wo bhi tin charan mein bhayya qainchi danda phir gaddi nekar wali umron tak hum khak samajhte the juthan tote ke katre amrudon ko khane ki hod rahi ghar ki khapdailon ke andar tap-tap megh baraste the amma babu tankte rahte tin mein sabun ki tikki aangan ke aaghosh mein lete shab-bhar nam bigade the taron ko ishtar kahe the aur 'qamar' ko mama ji

Related Ghazal

چمچماتی کار ہے وہ ہے وہ اس کا کی بدائی ہو گئی پر یقین آتا نہیں ہے بےوفائی ہو گئی پارک ہے وہ ہے وہ سب دوست میرے راہ دیکھیں ہیں میری اب تو جانے دو مجھے اب تو پڑھائی ہو گئی آدمی کو اور بچوں کو پتا چلتا نہیں روٹی سبزی کب بنی اور کب صفائی ہو گئی آؤ بیٹھو اب سنو تعریف میری دوستوں جس نے چھوڑا ہے مجھے اس کا کی برائی ہو گئی آخری چوٹی سے گرکر ہم مرے ہیں عشق کی ہم سمجھتے تھے ہمالیہ کی چڑھائی ہو گئی

Tanoj Dadhich

13 likes

کچھ نے آنکھیں کچھ نے چہرہ دیکھا ہے سب نے تجھ کو تھوڑا تھوڑا دیکھا ہے جاناں پر پیا سے کے معنی کھلنے والے نہیں جاناں نے پانی پی کر دریا دیکھا ہے جن ہاتھوں کو چومنے آ جاتے تھے لوگ آج انہی ہاتھوں ہے وہ ہے وہ کاسا دیکھا ہے روتی آنکھیں یہ سن کر خاموش ہوئیں ملبے ہے وہ ہے وہ اک بے وجہ کو زندہ دیکھا ہے بابا بولا مری قسمت اچھی ہے ا سے نے شاید ہاتھ تمہارا دیکھا ہے لگتا ہے ہے وہ ہے وہ پیا سے سے مرنے والا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کل شب خواب ہے وہ ہے وہ صحرا دیکھا ہے اندھی دنیا کو ہے وہ ہے وہ کیسے سمجھاؤں ان آنکھوں سے ہے وہ ہے وہ نے کیا کیا دیکھا ہے قی گرا رات کو بھاگنے والا ہے تابش ا سے نے خواب ہے وہ ہے وہ خفیہ رستہ دیکھا ہے

Tousief Tabish

5 likes

سب کر لینا لمحے جایا مت کرنا غلط جگہ پر جذبے جایا مت کرنا عشق تو نیت کی سچائی دیکھتا ہے دل نا دکھے تو سجدے جایا مت کرنا سادہ ہوں اور برانڈز پسند نہیں مجھ کو مجھ پر اپنے پیسے جایا مت کرنا روزی روٹی دیش ہے وہ ہے وہ بھی مل سکتی ہے دور بھیج کے رشتے جایا مت کرنا

Ali Zaryoun

29 likes

لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے تیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سے ہاں یہ ا سے سمے کو کوسوں کہ دعا دوں یاروں ج سے نے ہر درد میرا چھین لیا ہے مجھ سے دل کا یہ حال کہ دھڑکے ہی چلا جاتا ہے ایسا لگتا ہے کوئی جرم ہوا ہے مجھ سے کھو گیا تو آج ک ہاں رزق کا دینے والا کوئی روٹی جو کھڑا مانگ رہا ہے مجھ سے اب مری قتل کی تلخی تقریر تو کرنی ہوں گی کون سا راز ہے تیرا جو چھپا ہے مجھ سے

Jaan Nisar Akhtar

1 likes

لگ چلتی ہے لگ رکتی ہے فقیرا تری دنیا بھی اچھی ہے فقیرا تمہیں ہٹنا پڑےگا راستے سے یہ جھونپڑیوں کی سواری ہے فقیرا ہمارے نا توان کندھوں پہ مت رکھ آئی لگ دار بھاری گٹھری ہے فقیرا تری گ گرا کو لے کر اتنے جھگڑے ابھی تو پہلی پیڑھی ہے فقیرا فقط یہ سوچ کر خاموش ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہاری روزی روٹی ہے فقیرا ہم ا سے کے آستاں تک کیسے پہنچے بڑی لمبی کہانی ہے فقیرا ہمارے ماننے والوں ہے وہ ہے وہ ہوں جا ہمارا فیض جاری ہے فقیرا

Zia Mazkoor

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Shaariq Qamar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Shaariq Qamar's ghazal.