ghazalKuch Alfaaz

main zindagi ka saath nibhata chala gaya har fikr ko dhuen men udata chala gaya barbadiyon ka sog manana fuzul tha barbadiyon ka jashn manata chala gaya jo mil gaya usi ko muqaddar samajh liya jo kho gaya main us ko bhulata chala gaya ghham aur khushi men farq na mahsus ho jahan main dil ko us maqam pe laata chala gaya main zindagi ka sath nibhata chala gaya har fikr ko dhuen mein udata chala gaya barbaadiyon ka sog manana fuzul tha barbaadiyon ka jashn manata chala gaya jo mil gaya usi ko muqaddar samajh liya jo kho gaya main us ko bhulata chala gaya gham aur khushi mein farq na mahsus ho jahan main dil ko us maqam pe lata chala gaya

Related Ghazal

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

ایک اور بے وجہ چھوڑ کر چلا گیا تو تو کیا ہوا ہمارے ساتھ کون سا یہ پہلی مرتبہ ہوا ازل سے ان ہتھیلیوں ہے وہ ہے وہ ہجر کی لکیر تھی تمہارا دکھ تو چنو مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑا ہوا مری خلاف دشمنوں کی صف ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد برا لگوںگا ا سے پر تیر کھینچتا ہوا

Tehzeeb Hafi

77 likes

مجھ سے مت پوچھو کہ مجھ کو اور کیا کیا یاد ہے حقیقت مری نزدیک آیا تھا ب سے اتنا یاد ہے یوں تو دشت دل ہے وہ ہے وہ کتنوں نے قدم رکھے مغر بھول جانے پر بھی ایک نقش کف پا یاد ہے ا سے بدن کی گھاٹیاں تک نقش ہیں دل پر مری نشان نقش پا سے سمندر تک کو دریا یاد ہے مجھ سے حقیقت کافر مسلماناں تو لگ ہوں پایا کبھی لیکن اس کا کو حقیقت ترجمے کے ساتھ کلمہ یاد ہے

Tehzeeb Hafi

73 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

More from Sahir Ludhianvi

فن جو نادار تک نہیں پہنچا ابھی گاہے تک نہیں پہنچا ا سے نے بر سمے بے رکھ برتی شوق آزار تک نہیں پہنچا عک سے مے ہوں کہ جلوہ گل ہوں رنگ رخسار تک نہیں پہنچا حرف انکار سر بلند رہا ضعف اقرار تک نہیں پہنچا حکم سرکار کی پہنچ مت پوچھ اہل سرکار تک نہیں پہنچا عدل گاہیں تو دور کی اجازت ہیں قتل ذائقہ تک نہیں پہنچا انقلابات دہر کی بنیاد حق جو حق دار تک نہیں پہنچا حقیقت مسیحا نف سے نہیں ج سے کا سلسلہ دار تک نہیں پہنچا

Sahir Ludhianvi

2 likes

محبت ترک کی ہے وہ ہے وہ نے گریباں سی لیا ہے وہ ہے وہ نے زمانے اب تو خوش ہوں زہر یہ بھی پی لیا ہے وہ ہے وہ نے ابھی زندہ ہوں لیکن سوچتا رہتا ہوں خلوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ اب تک ک سے تمنا کے سہارے جی لیا ہے وہ ہے وہ نے ا نہیں اپنا نہیں سکتا م گر اتنا بھی کیا کم ہے کہ کچھ مدت حسین خوابوں ہے وہ ہے وہ کھو کر جی لیا ہے وہ ہے وہ نے ب سے اب تو دامن دل چھوڑ دو بیکار امیدو بے حد دکھ سہ لیے ہے وہ ہے وہ نے بے حد دن جی لیا ہے وہ ہے وہ نے

Sahir Ludhianvi

0 likes

اب آئیں یا لگ آئیں ادھر پوچھتے چلو کیا چاہتی ہے ان کی نظر پوچھتے چلو ہم سے ا گر ہے ترک تعلق تو کیا ہوا یاروں کوئی تو ان کی خبر پوچھتے چلو جو خود کو کہ رہے ہیں کہ منزل شنا سے ہیں ان کو بھی کیا خبر ہے م گر پوچھتے چلو ک سے منزل مراد کی جانب رواں ہیں ہم اے رہ روان خاک بسر پوچھتے چلو

Sahir Ludhianvi

1 likes

مری تقدیر ہے وہ ہے وہ جلنا ہے تو جل جاؤں گا تیرا وعدہ تو نہیں ہوں جو بدل جاؤں گا سوز بھر دو مری سپنے ہے وہ ہے وہ غم الفت کا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی موم نہیں ہوں جو پگھل جاؤں گا درد کہتا ہے یہ نزدیک تر کے شب فرقت ہے وہ ہے وہ ہے وہ آہ بن کر تری پہلو سے نکل جاؤں گا مجھ کو سمجھاؤ لگ ساحر ہے وہ ہے وہ اک دن خود ہی ٹھوکریں کھا کے محبت ہے وہ ہے وہ سنبھل جاؤں گا

Sahir Ludhianvi

25 likes

صدیوں سے انسان یہ سنتا آیا ہے دکھ کی دھوپ کے آگے سکھ کا سایہ ہے ہم کو ان سستی خوشیوں کا لوبھ لگ دو ہم نے سوچ سمجھ کر غم اپنایا ہے جھوٹ تو قاتل ٹھہرا ا سے کا کیا رونا سچ نے بھی انساں کا خوں بہایا ہے پیدائش کے دن سے موت کی زد ہے وہ ہے وہ ہیں ا سے مقتل ہے وہ ہے وہ کون ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لے آیا ہے اول اول ج سے دل نے برباد کیا آخر آخر حقیقت دل ہی کام آیا ہے اتنے دن احسان کیا دیوانوں پر جتنے دن لوگوں نے ساتھ نبھایا ہے

Sahir Ludhianvi

14 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Sahir Ludhianvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Sahir Ludhianvi's ghazal.