مری حال پر مہربانی کرے خدا سے کہو حکم ثانی کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک بوند پانی بڑی چیز ہوں سمندر مری پاسبانی کرے پڑھیں لوگ تحریر دیوار و در خلاصہ مری بے زبانی کرے ازل سے ہے وہ ہے وہ ا سے کے تعاقب ہے وہ ہے وہ ہوں جو لمحہ مجھے غیر فانی کرے حقیقت بخشی اجالے کسی صبح کو کوئی شام روشن سہانی کرے مری سائے ہے وہ ہے وہ سب ہیں مری سوا کوئی تو مری سایبانی کرے کوئی ہے جو بڑھ کے اٹھا لے امیر حقیقت تیشہ جو پتھر کو پانی کرے
Related Ghazal
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
گلے تو لگنا ہے ا سے سے کہو ابھی لگ جائے یہی لگ ہوں میرا ا سے کے بغیر جی لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ رہا ہوں تری پا سے یہ لگ ہوں کہ کہی تیرا مزاق ہوں اور مری زندگی لگ جائے ا گر کوئی تیری رفتار ماپنے نکلے دماغ کیا ہے جہانوں کی روشنی لگ جائے تو ہاتھ اٹھا نہیں سکتا تو میرا ہاتھ پکڑ تجھے دعا نہیں لگتی تو شاعری لگ جائے پتا کروں گا اندھیرے ہے وہ ہے وہ ک سے سے ملتا ہے اور ا سے عمل ہے وہ ہے وہ مجھے چاہے آگ بھی لگ جائے ہمارے ہاتھ ہی جلتے رہیں گے سگریٹ سے کبھی تمہارے بھی کپڑوں پہ استری لگ جائے ہر ایک بات کا زار نکالنے والوں تمہارے نام کے آگے لگ مطلبی لگ جائے کلا سے روم ہوں یا حشر کیسے ممکن ہے ہمارے ہوتے تیری غیر حاضری لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پچھلے بی سے بر سے سے تیری گرفت ہے وہ ہے وہ ہوں کے اتنے دیر ہے وہ ہے وہ تو کوئی آئی جی لگ جائے
Tehzeeb Hafi
124 likes
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے
Jaun Elia
88 likes
ہاں یہ سچ ہے کہ محبت نہیں کی دوست ب سے مری طبیعت نہیں کی ا سے لیے گاؤں ہے وہ ہے وہ سیلاب آیا ہم نے دریاو کی عزت نہیں کی جسم تک ا سے نے مجھے سونپ دیا دل نے ا سے پر بھی کنایت نہیں کی مری اعزاز ہے وہ ہے وہ رکھی گئی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ج سے بزم ہے وہ ہے وہ شراکت نہیں کی یاد بھی یاد سے رکھا اس کا کو بھول جانے ہے وہ ہے وہ بھی غفلت نہیں کی اس کا کا کو دیکھا تھا غضب حالت ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں کبھی ا سے کی حفاظت نہیں کی ہم ا گر فتح ہوئے ہے تو کیا عشق نے ک سے پہ حکومت نہیں کی
Tehzeeb Hafi
74 likes
More from Ameer Qazalbash
فکر غربت ہے لگ اندیشہ تنہائی ہے زندگی کتنے حوادث سے گزر آئی ہے لوگ ج سے حال ہے وہ ہے وہ مرنے کی دعا کرتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے حال ہے وہ ہے وہ جینے کی قسم کھائی ہے ہم لگ سقراط لگ منصور لگ عیسی لیکن جو بھی قاتل ہے ہمارا ہی تمنا ئی ہے زندگی اور ہیں کتنے تری چہرے یہ بتا تجھ سے اک عمر کی حالانکہ شنا سائی ہے کون ناواقف انجام تبسم ہے امیر مری حالات پہ یہ ک سے کو ہنسی آئی ہے
Ameer Qazalbash
2 likes
پائیں ہر ایک راہ گزر پر اداسیاں نکلی ہوئی ہیں کب سے سفر پر اداسیاں خوابیدہ شہر جاگنے والا ہے لوٹ آؤ بیٹھی ہوئی ہیں شام سے گھر پر اداسیاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوف سے لرزتا رہا پڑھ نہیں سکا پھیلی ہوئی تھیں ایک خبر پر اداسیاں سورج کے ہاتھ سبز قباؤں تک آ گئے اب ہیں ی ہاں ہر ایک شجر پر اداسیاں اپنے بھی خط و خال نگا ہوں ہے وہ ہے وہ اب نہیں ا سے طرح چھا گئی ہیں نظر پر اداسیاں پھیلا رہا ہے کون کبھی سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوابوں کے ایک ایک ن گر پر اداسیاں سب لوگ بن گئے ہیں ا گر اجنبی تو کیا چھوڑ آئیںگی مجھے مری در پر اداسیاں
Ameer Qazalbash
0 likes
ہر گام حادثہ ہے ٹھہر جائیے جناب رستہ ا گر ہوں یاد تو گھر جائیے جناب زندہ اوی سے کے تلاطم ہیں سامنے خوابوں کی کشتیوں سے اتر جائیے جناب انصاف کی صلیب ہوں سچائیوں کا زہر مجھ سے ملے بغیر گزر جائیے جناب دن کا سفر تو کٹ گیا تو سورج کے ساتھ ساتھ اب شب کی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ بکھر جائیے جناب کوئی چرا کے لے گیا تو صدیوں کا اعتقاد منبر کی سیڑھیوں سے اتر جائیے جناب
Ameer Qazalbash
2 likes
خوف بن کر یہ خیال آتا ہے 9 مجھ کو دشت کر جائےگا اک روز سمندر مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ سرپا ہوں خبر نامہ امروز جہاں کل بھلا دے نہ یہ دنیا کہیں پڑھ کر مجھ کو ہر نفس مجھ ہے وہ ہے وہ تغیر کی شفافیت لرزاں مرتسم کر نہ سکا کوئی بھی منظر مجھ کو اپنے ساحل پہ ہے وہ ہے وہ خود تشنا دہن بیٹھا ہوں دیکھ دریا کی ترائی سے نکل کر مجھ کو مری سائے ہے وہ ہے وہ بھی مجھ کو نہیں رہنے دےگا میرے ہی گھر ہے وہ ہے وہ رکھے گا کوئی بے گھر مجھ کو کارگر کوئی بھی تلخی تقریر نہ ہونے دےگا کیا مقدر ہے کہ لے جائےگا در در مجھ کو کام آوےگی عشق دل نہ بیدار نگاہی بھی امیر خواب کہ جائےگا اک دن میرا پیکر مجھ کو
Ameer Qazalbash
0 likes
دامن پہ لہو ہاتھ ہے وہ ہے وہ خنجر لگ ملےگا مل جائےگا پھروں بھی حقیقت ستم گر لگ ملےگا پتھر لیے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جسے ڈھونڈ رہا ہے حقیقت تجھ کو تری ذات سے باہر لگ ملےگا آنکھوں ہے وہ ہے وہ بسا لو یہ ابھرتا ہوا سورج دن ڈھلنے لگے گا تو یہ منظر لگ ملےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ہی گھر ہے وہ ہے وہ ہوں م گر سوچ رہا ہوں کیا مجھ کو مری گھر ہے وہ ہے وہ میرا گھر لگ ملےگا گزرو لگ کسی بستی سے ذرا بھی سے بدل کر نقشے ہے وہ ہے وہ تمہیں شہر ستم گر لگ ملےگا
Ameer Qazalbash
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ameer Qazalbash.
Similar Moods
More moods that pair well with Ameer Qazalbash's ghazal.







