meri tanhai badhate hain chale jaate hain hans talab pe aate hain chale jaate hain is liye ab main kisi ko nahin jaane deta jo mujhe chhod ke jaate hain chale jaate hain meri ankhon se baha karti hai un ki khushbu raftagan khvab men aate hain chale jaate hain shadi-e-marg ka mahaul bana rahta hai aap aate hain rulate hain chale jaate hain kab tumhen ishq pe majbur kiya hai ham ne ham to bas yaad dilate hain chale jaate hain aap ko kaun tamashai samajhta hai yahan aap to aag lagate hain chale jaate hain haath patthar ko badhaun to sagan-e-duniya hairati ban ke dikhate hain chale jaate hain meri tanhai badhate hain chale jate hain hans talab pe aate hain chale jate hain is liye ab main kisi ko nahin jaane deta jo mujhe chhod ke jate hain chale jate hain meri aankhon se baha karti hai un ki khushbu raftagan khwab mein aate hain chale jate hain shadi-e-marg ka mahaul bana rahta hai aap aate hain rulate hain chale jate hain kab tumhein ishq pe majbur kiya hai hum ne hum to bas yaad dilate hain chale jate hain aap ko kaun tamashai samajhta hai yahan aap to aag lagate hain chale jate hain hath patthar ko badhaun to sagan-e-duniya hairati ban ke dikhate hain chale jate hain
Related Ghazal
تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
Dagh Dehlvi
84 likes
آنکھ کو آئی لگ سمجھتے ہوں جاناں بھی سب کی طرح سمجھتے ہوں دوست اب کیوں نہیں سمجھتے جاناں جاناں تو کہتے تھے نا سمجھتے ہوں اپنا غم جاناں کو کیسے سمجھاؤں سب سے ہارا ہوا سمجھتے ہوں مری دنیا اجڑ گئی ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں اسے حادثہ سمجھتے ہوں آخری راستہ تو باقی ہے آخری راستہ سمجھتے ہوں
Himanshi babra KATIB
76 likes
پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں
Ali Zaryoun
158 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے
Khumar Barabankvi
95 likes
More from Abbas Tabish
کوئی ٹکرا کے جمال دنیا بھی تو ہوں سکتا ہے مری تعمیر ہے وہ ہے وہ پتھر بھی تو ہوں سکتا ہے کیوں لگ اے بے وجہ تجھے ہاتھ لگا کر دیکھوں تو مری وہم سے بڑھ کر بھی تو ہوں سکتا ہے تو ہی تو ہے تو پھروں اب جملہ خیرو تیرا شک اور کسی پر بھی تو ہوں سکتا ہے یہ جو ہے پھول ہتھیلی پہ اسے پھول لگ جان میرا دل جسم سے باہر بھی تو ہوں سکتا ہے شاخ پر بیٹھے پرندے کو اڑانے والے پیڑ کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ پتھر بھی تو ہوں سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ باہر ہی نمو ہوں مری میرا کھلنا مری اندر بھی تو ہوں سکتا ہے یہ جو ہے ریت کا ٹیلا مری قدموں کے تلے کوئی دم ہے وہ ہے وہ مری اوپر بھی تو ہوں سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ ہم ہار کے جیتیں تابش عشق کا کھیل برابر بھی تو ہوں سکتا ہے
Abbas Tabish
8 likes
ٹوٹتے عشق ہے وہ ہے وہ کچھ ہاتھ بٹاتے جاتے سارا ملبا مری اوپر لگ گراتے جاتے اتنی عجلت ہے وہ ہے وہ بھی کیا آنکھ سے اوجھل ہونا جا رہے تھے تو مجھے جاناں نظر آتے جاتے کم سے کم رکھتا پلٹنے کی توقع جاناں سے ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہاتھ لیا تھا تو دباتے جاتے کن اندھیروں ہے وہ ہے وہ مجھے چھوڑ دیا ہے جاناں نے ا سے سے بہتر تھا مجھے آگ لگاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ہوتا تری رستے کے درختوں ہے وہ ہے وہ درخت ا سے طرح دیکھ تو لیتا تجھے آتے جاتے
Abbas Tabish
12 likes
یہ بتا یوم محبت کا سماں ہے کہ نہیں شہر کا شہر گلابوں کی دکان ہے کہ نہیں عادتن ا سے کے لیے پھول خریدے ورنا نہیں معلوم حقیقت ا سے بار ی ہاں ہے کہ نہیں یہ تری بعد جو لیتا ہوں ہے وہ ہے وہ لمبی سانسیں مجھ کو یہ جاننا ہے جسم ہے وہ ہے وہ جاں ہے کہ نہیں ہم تو پھولوں کے عوض پھول لیا کرتے ہیں کیا خبر ا سے رواج آپ کے ی ہاں ہے کہ نہیں ا سے گلی کا تو پتا ٹھیک بتایا تو نے یہ بتا ا سے ہے وہ ہے وہ حقیقت دلدار مکان ہے کہ نہیں پہلے تو مجھ کو دلاتے ہے حقیقت غصہ تابش اور پھروں پوچھتے ہے منا ہے وہ ہے وہ زبان ہے کہ نہیں
Abbas Tabish
13 likes
جدائی کا زما لگ یوں ٹھکانے لگ گیا تو تھا بچھڑ کر ا سے سے ہے وہ ہے وہ لکھنے لکھانے لگ گیا تو تھا تبھی تو زنگ آلودہ ہوئی تلوار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ دشمن پر محبت لگ گیا تو تھا ابھی سمجھا رہا تھا حقیقت مجھے بوسے کا زار کہ ہے وہ ہے وہ شہتوت کے ر سے ہے وہ ہے وہ نہانے لگ گیا تو تھا محبت ہوں نہیں پائی تو ا سے کا کیا کروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ ہے وہ ہے وہ تو ا سے گلی ہے وہ ہے وہ آنے جانے لگے گیا تو تھا تبھی تو مری آنکھوں کو نہیں رونے کی عادت ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوٹی عمر ہے وہ ہے وہ آنسو چھپانے لگ گیا تو تھا
Abbas Tabish
19 likes
لگ پوچھ کتنے ہے بیتاب دیکھنے کے لیے ہم ایک ساتھ کئیں خواب دیکھنے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ سے باہر نکل کے بیٹھ گیا تو کہ آج آئیں گے احباب دیکھنے کے لیے زمانے بعد بل آخر حقیقت رات آ گئی ہے کہ لوگ نکلے ہے مہتاب دیکھنے کے لیے سنہری لڑ کیوں ان کو ملو ملو لگ ملو غریب ہوتے ہے ب سے خواب دیکھنے کے لیے مجھے یقی ہے کہ جاناں آئی لگ بھی دیکھوگے مری شکست کے اسباب دیکھنے کے لیے
Abbas Tabish
16 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Abbas Tabish.
Similar Moods
More moods that pair well with Abbas Tabish's ghazal.







