mohabbat tark ki main ne gareban si liya main ne zamane ab to khush ho zahr ye bhi pi liya main ne love i have renounced and sewn the collar that was ripped o world now you be happy for this poison i have sipped abhi zinda huun lekin sochta rahta huun khalvat men ki ab tak kis tamanna ke sahare ji liya main ne though i am alive, i often think, when there is no throng based on what desire, tell me, have i lived this long unhen apna nahin sakta magar itna bhi kya kam hai ki kuchh muddat hasin khvabon men kho kar ji liya main ne though i cannot possess her, it's of major consequence that for a while, her in my dreams, i did experience bas ab to daman-e-dil chhod do bekar ummido bahut dukh sah liye main ne bahut din ji liya main ne the vestment of my heart o helpless hopes now leave alone i've lived far too long and sorrows ample have i borne mohabbat tark ki main ne gareban si liya main ne zamane ab to khush ho zahr ye bhi pi liya main ne love i have renounced and sewn the collar that was ripped o world now you be happy for this poison i have sipped abhi zinda hun lekin sochta rahta hun khalwat mein ki ab tak kis tamanna ke sahaare ji liya main ne though i am alive, i often think, when there is no throng based on what desire, tell me, have i lived this long unhen apna nahin sakta magar itna bhi kya kam hai ki kuchh muddat hasin khwabon mein kho kar ji liya main ne though i cannot possess her, it's of major consequence that for a while, her in my dreams, i did experience bas ab to daman-e-dil chhod do bekar ummido bahut dukh sah liye main ne bahut din ji liya main ne the vestment of my heart o helpless hopes now leave alone i've lived far too long and sorrows ample have i borne
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
More from Sahir Ludhianvi
فن جو نادار تک نہیں پہنچا ابھی گاہے تک نہیں پہنچا ا سے نے بر سمے بے رکھ برتی شوق آزار تک نہیں پہنچا عک سے مے ہوں کہ جلوہ گل ہوں رنگ رخسار تک نہیں پہنچا حرف انکار سر بلند رہا ضعف اقرار تک نہیں پہنچا حکم سرکار کی پہنچ مت پوچھ اہل سرکار تک نہیں پہنچا عدل گاہیں تو دور کی اجازت ہیں قتل ذائقہ تک نہیں پہنچا انقلابات دہر کی بنیاد حق جو حق دار تک نہیں پہنچا حقیقت مسیحا نف سے نہیں ج سے کا سلسلہ دار تک نہیں پہنچا
Sahir Ludhianvi
2 likes
محبت ترک کی ہے وہ ہے وہ نے گریباں سی لیا ہے وہ ہے وہ نے زمانے اب تو خوش ہوں زہر یہ بھی پی لیا ہے وہ ہے وہ نے ابھی زندہ ہوں لیکن سوچتا رہتا ہوں خلوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ اب تک ک سے تمنا کے سہارے جی لیا ہے وہ ہے وہ نے ا نہیں اپنا نہیں سکتا م گر اتنا بھی کیا کم ہے کہ کچھ مدت حسین خوابوں ہے وہ ہے وہ کھو کر جی لیا ہے وہ ہے وہ نے ب سے اب تو دامن دل چھوڑ دو بیکار امیدو بے حد دکھ سہ لیے ہے وہ ہے وہ نے بے حد دن جی لیا ہے وہ ہے وہ نے
Sahir Ludhianvi
0 likes
اب آئیں یا لگ آئیں ادھر پوچھتے چلو کیا چاہتی ہے ان کی نظر پوچھتے چلو ہم سے ا گر ہے ترک تعلق تو کیا ہوا یاروں کوئی تو ان کی خبر پوچھتے چلو جو خود کو کہ رہے ہیں کہ منزل شنا سے ہیں ان کو بھی کیا خبر ہے م گر پوچھتے چلو ک سے منزل مراد کی جانب رواں ہیں ہم اے رہ روان خاک بسر پوچھتے چلو
Sahir Ludhianvi
1 likes
مری تقدیر ہے وہ ہے وہ جلنا ہے تو جل جاؤں گا تیرا وعدہ تو نہیں ہوں جو بدل جاؤں گا سوز بھر دو مری سپنے ہے وہ ہے وہ غم الفت کا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی موم نہیں ہوں جو پگھل جاؤں گا درد کہتا ہے یہ نزدیک تر کے شب فرقت ہے وہ ہے وہ ہے وہ آہ بن کر تری پہلو سے نکل جاؤں گا مجھ کو سمجھاؤ لگ ساحر ہے وہ ہے وہ اک دن خود ہی ٹھوکریں کھا کے محبت ہے وہ ہے وہ سنبھل جاؤں گا
Sahir Ludhianvi
25 likes
صدیوں سے انسان یہ سنتا آیا ہے دکھ کی دھوپ کے آگے سکھ کا سایہ ہے ہم کو ان سستی خوشیوں کا لوبھ لگ دو ہم نے سوچ سمجھ کر غم اپنایا ہے جھوٹ تو قاتل ٹھہرا ا سے کا کیا رونا سچ نے بھی انساں کا خوں بہایا ہے پیدائش کے دن سے موت کی زد ہے وہ ہے وہ ہیں ا سے مقتل ہے وہ ہے وہ کون ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لے آیا ہے اول اول ج سے دل نے برباد کیا آخر آخر حقیقت دل ہی کام آیا ہے اتنے دن احسان کیا دیوانوں پر جتنے دن لوگوں نے ساتھ نبھایا ہے
Sahir Ludhianvi
14 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Sahir Ludhianvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Sahir Ludhianvi's ghazal.







