شام سے آنکھ ہے وہ ہے وہ نمی سی ہے آج پھروں آپ کی کمی سی ہے دفن کر دو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ سان سے آئی نبض کچھ دیر سے تھمی سی ہے کون پتھرا گیا تو ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ برف پلکوں پہ کیوں جمی سی ہے سمے رہتا نہیں کہی ٹک کر عادت ا سے کی بھی آدمی سی ہے آئیے راستے ا پیش کر لیں یہ ضرورت بھی باہمی سی ہے
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
کب پانی گرنے سے خوشبو فوٹی ہے مٹی کو بھی علم ہے بارش جھوٹی ہے ایک رشتے کو لاپرواہی لے ڈوبی ایک رسی ڈھیلی پڑھنے لگیں پر ٹوٹی ہے ہاتھ ملانے پر بھی ا سے پہ کھلا نہیں یہ انگلی پر زخم ہے یا انگوٹھی ہے ا سے کا ہنسنا ناممکن تھا یوں سمجھو سیمنٹ کی دیوار سے کوپل فوٹی ہے ہم نے ان پر شعر نہیں لکھے حافی ہم نے ان پیڑوں کی عزت لوٹی ہے یوں لگتا ہے دین و دنیا چھوٹ گئے مجھ سے تری شہر کی ب سے کیا چھوٹی ہے
Tehzeeb Hafi
90 likes
کسے خبر ہے کہ عمر ب سے ا سے پہ غور کرنے ہے وہ ہے وہ کٹ رہی ہے کہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے ک سے خوشی ہے وہ ہے وہ لپٹ رہی ہے عجیب دکھ ہے ہم ا سے کے ہوکر بھی ا سے کو چھونے سے ڈر رہے ہیں عجیب دکھ ہے ہمارے حصے کی آگ اوروں ہے وہ ہے وہ بٹ رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو ہر روز ب سے یہی ایک جھوٹ سننے کو فون کرتا سنو ی ہاں کوئی م سے’ألا ہے تمہاری آواز کٹ رہی ہے مجھ ایسے پیڑوں کے سوکھنے اور سبز ہونے سے کیا کسی کو یہ بیل شاید کسی مصیبت ہے وہ ہے وہ ہے جو مجھ سے لپٹ رہی ہے یہ سمے آنے پہ اپنی اولاد اپنے اضداد بیچ دےگی جو فوج دشمن کو اپنا سالار گروی رکھ کر پلٹ رہی ہے سو ا سے تعلق ہے وہ ہے وہ جو غلط فہ میاں تھیں اب دور ہوں رہی ہیں رکی ہوئی گاڑیاں کے چلنے کا سمے ہے دھند چھٹ رہی ہے
Tehzeeb Hafi
88 likes
More from Gulzar
ऐसा ख़ामोश तो मंज़र न फ़ना का होता मेरी तस्वीर भी गिरती तो छनाका होता यूँँ भी इक बार तो होता कि समुंदर बहता कोई एहसास तो दरिया की अना का होता साँस मौसम की भी कुछ देर को चलने लगती कोई झोंका तिरी पलकों की हवा का होता काँच के पार तिरे हाथ नज़र आते हैं काश ख़ुशबू की तरह रंग हिना का होता क्यूँँ मिरी शक्ल पहन लेता है छुपने के लिए एक चेहरा कोई अपना भी ख़ुदा का होता
Gulzar
3 likes
تنکہ تنکہ کانٹے گرفت ساری رات کٹائی کی کیوں اتنی لمبی ہوتی ہے چاندنی رات جدائی کی نیند ہے وہ ہے وہ کوئی اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ہے کال کوئیں ہے وہ ہے وہ گونجتی ہے آواز کسی سودائی کی سینے ہے وہ ہے وہ دل کی آہٹ چنو کوئی جاسو سے چلے ہر سائے کا پیچھا کرنا عادت ہے ہر جائی کی آنکھوں اور کانوں ہے وہ ہے وہ کچھ سناٹے سے بھر جاتے ہیں کیا جاناں نے اڑتی دیکھی ہے ریت کبھی تنہائی کی تاروں کی روشن فصلیں اور چاند کی ایک درانتی تھی ساہو نے گروی رکھ لی تھی مری رات کٹائی کی
Gulzar
0 likes
ہر ایک غم نچوڑ کے ہر اک بر سے جیے دو دن کی زندگی ہے وہ ہے وہ ہزاروں بر سے جیے صدیوں پہ اختیار نہیں تھا ہمارا دوست دو چار لمحے ب سے ہے وہ ہے وہ تھے دو چار ب سے جیے صحرا کے ا سے طرف سے گئے سارے کارواں سن سن کے ہم تو صرف صدائے جر سے جیے ہونٹوں ہے وہ ہے وہ لے کے رات کے آنچل کا اک سرا آنکھوں پہ رکھ کے چاند کے ہونٹوں کا م سے جیے محدود ہیں دعائیں مری اختیار ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر سان سے پر سکون ہوں تو سو بر سے جیے
Gulzar
3 likes
کوئی اٹکا ہوا ہے پل شاید سمے ہے وہ ہے وہ پڑ گیا تو ہے بل شاید لب پہ آئی مری غزل شاید حقیقت اکیلے ہیں آج کل شاید دل ا گر ہے تو درد بھی ہوگا ا سے کا کوئی نہیں ہے حل شاید جانتے ہیں ثواب رحم و کرم ان سے ہوتا نہیں عمل شاید آ رہی ہے جو چاپ قدموں کی کھیل رہے ہیں کہی کنول شاید راکھ کو بھی کورید کر دیکھو ابھی جلتا ہوں کوئی پل شاید چاند ڈوبے تو چاند ہی نکلے آپ کے پا سے ہوگا حل شاید
Gulzar
9 likes
کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی تینوں تھے ہم حقیقت بھی تھے اور ہے وہ ہے وہ بھی تھا تنہائی بھی یادوں کی بوچھاروں سے جب پلکیں بھیگنے لگتی ہیں سوندھی سوندھی لگتی ہے تب ماضی کی رسوائی بھی دو دو شکلیں دکھتی ہیں ا سے بہکے سے آئینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری ساتھ چلا آیا ہے آپ کا اک سودائی بھی کتنی جل گرا میلی کرتا ہے پوشاکیں روز فلک صبح ہی رات اتاری تھی اور شام کو شب پہنائی بھی خموشی کا حاصل بھی اک لمبی سی خموشی تھی ان کی بات سنی بھی ہم نے اپنی بات سنائی بھی کل ساحل پر لیٹے لیٹے کتنی ساری باتیں کیں آپ کا ہنکارا لگ آیا چاند نے بات سکونت بھی
Gulzar
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Gulzar.
Similar Moods
More moods that pair well with Gulzar's ghazal.







