ghazalKuch Alfaaz

شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہی جوڑے کی گندھاوٹ قہر خدا بالوں کی مہک پھر ویسی ہی آنکھیں ہیں کٹورا سی وہ ستم گردن ہے صراحی دار غضب اور اسی میں شراب سرخی پاں رکھتی ہے جھلک پھر ویسی ہی ہر بات میں اس کی گرمی ہے ہر ناز میں اس کے شوخی ہے قامت ہے قیامت چال پری چلنے میں پھڑک پھر ویسی ہی گر رنگ بھبوکا آتش ہے اور بینی شعلۂ سرکش ہے تو بجلی سی کوندے ہے پری عارض کی چمک پھر ویسی ہی نوخیز کچیں دو غنچہ ہیں ہے نرم شکم اک خرمن گل باریک کمر جو شاخ گل رکھتی ہے لچک پھر ویسی ہی ہے ناف کوئی گرداب بلا اور گول سریں رانیں ہیں صفا ہے ساق بلوریں شمع ضیا پاؤں کی کفک پھر ویسی ہی محرم ہے حباب آب رواں سورج کی کرن ہے اس پہ لپٹ جالی کی کرتی ہے وہ بلا گوٹے کی دھنک پھر ویسی ہی وہ گائے تو آفت لائے ہے ہر تال میں لیوے جان نکال ناچ اس کا اٹھائے سو فتنے گھنگرو کی جھنک پھر ویسی ہی ہر بات پہ ہم سے وہ جو ظفرؔ کرتا ہے لگاوٹ مدت سے اور اس کی چاہت رکھتے ہیں ہم آج تلک پھر ویسی ہی

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

پھروں مری یاد آ رہی ہوں گی پھروں حقیقت دیپک بجھا رہی ہوں گی پھروں مری فی سے بک پہ آ کر حقیقت خود کو بینر بنا رہی ہوں گی اپنے بیٹے کا چوم کر ماتھا مجھ کو بتاشا لگا رہی ہوں گی پھروں اسی نے اسے چھوا ہوگا پھروں اسی سے نبھا رہی ہوں گی جسم چادر سا بچھ گیا تو ہوگا روح سلوٹ ہٹا رہی ہوں گی پھروں سے اک رات کٹ گئی ہوں گی پھروں سے اک رات آ رہی ہوں گی

Kumar Vishwas

53 likes

تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے

Tehzeeb Hafi

262 likes

More from Bahadur Shah Zafar

ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا تو بھی لگ ہوا یار اور اک یار بھی چھوڑا کیا ہوگا رفو گر سے رفو میرا گریبان اے دست جنوں تو نے نہیں تار بھی چھوڑا دیں دے کے گیا تو کفر کے بھی کام سے عاشق تسبیح کے ساتھ ا سے نے تو زنار بھی چھوڑا گوشے ہے وہ ہے وہ تری چشم سیاہ مست کے دل نے کی جب سے جگہ خا لگ خمّار بھی چھوڑا ا سے سے ہے غریبوں کو تسلی کہ اجل نے مفل سے کو جو مارا تو لگ منصفی بھی چھوڑا ٹیڑھے لگ ہوں ہم سے رکھو اخلاص تو سیدھا جاناں پیار سے رکتے ہوں تو لو پیار بھی چھوڑا کیا چھوڑیں اسیران محبت کو حقیقت ج سے نے صدقے ہے وہ ہے وہ لگ اک پر اعتباری بھی چھوڑا پہنچی مری رسوائی کی کیونکر خبر ا سے کو ا سے شوخ نے تو دیکھنا ذائقہ بھی چھوڑا کرتا تھا جو یاں آنے کا جھوٹا کبھی اقرار مدت سے وقار ا سے نے حقیقت اقرار بھی چھوڑا

Bahadur Shah Zafar

0 likes

کیونکر لگ خاکسار رہیں اہل کین سے دور دیکھو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ فلک سے فلک ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے دور پروا لگ وصل شمع پہ دیتا ہے اپنی جاں کیونکر رہے دل ا سے کے رکھ آتشیں سے دور مضمون وصل و ہجر جو نامے ہے وہ ہے وہ ہے رقم ہے حرف بھی کہی سے ملے اور کہی سے دور گو تیر بے گماں ہے مری پا سے پر ابھی جائے نکل کے سی لگ چرخ بریں سے دور حقیقت کون ہے کہ جاتے نہیں آپ ج سے کے پا سے لیکن ہمیشہ بھاگتے ہوں جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے دور حیران ہوں کہ ا سے کے مقابل ہوں آئی لگ جو پر غرور کھینچتا ہے ماہ مبیں سے دور یاں تک عدو کا پا سے ہے ان کو کہ بزم ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت بیٹھتے بھی ہیں تو مری ہم نشین سے دور جھمکے ہوں جو دید تجھے دل کی آنکھ سے پہنچے تری نظر نگہ دور بیں سے دور دنیا دوں کی دے لگ محبت خدا وقار انساں کو پھینک دے ہے یہ ایمان و دیں سے دور

Bahadur Shah Zafar

1 likes

जिगर के टुकड़े हुए जल के दिल कबाब हुआ ये इश्क़ जान को मेरे कोई अज़ाब हुआ किया जो क़त्ल मुझे तुम ने ख़ूब काम किया कि मैं अज़ाब से छूटा तुम्हें सवाब हुआ कभी तो शेफ़्ता उस ने कहा कभी शैदा ग़रज़ कि रोज़ नया इक मुझे ख़िताब हुआ पि यूँँ न रश्क से ख़ूँ क्यूँँकि दम-ब-दम अपना कि साथ ग़ैर के वो आज हम-शराब हुआ तुम्हारे लब के लब-ए-जाम ने लिए बोसे लब अपने काटा किया मैं न कामयाब हुआ गली गली तिरी ख़ातिर फिरा ब-चश्म-ए-पुर-आब लगा के तुझ से दिल अपना बहुत ख़राब हुआ तिरी गली में बहाए फिरे है सैल-ए-सरिश्क हमारा कासा-ए-सर क्या हुआ हबाब हुआ जवाब-ए-ख़त के न लिखने से ये हुआ मालूम कि आज से हमें ऐ नामा-बर जवाब हुआ मँगाई थी तिरी तस्वीर दिल की तस्कीं को मुझे तो देखते ही और इज़्तिराब हुआ सितम तुम्हारे बहुत और दिन हिसाब का एक मुझे है सोच ये ही किस तरह हिसाब हुआ 'ज़फ़र' बदल के रदीफ़ और तू ग़ज़ल वो सुना कि जिस का तुझ से हर इक शे'र इंतिख़ाब हुआ

Bahadur Shah Zafar

1 likes

بھری ہے دل ہے وہ ہے وہ جو حسرت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں سنے ہے کون مصیبت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں جو تو ہوں صاف تو کچھ ہے وہ ہے وہ بھی صاف تجھ سے ک ہوں تری ہے دل ہے وہ ہے وہ کدورت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں لگ کوہکن ہے لگ مجنوں کہ تھے مری ہمدرد ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا درد محبت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں دل ا سے کو آپ دیا آپ ہی پشیمان ہوں کہ سچ ہے اپنی ندامت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں ک ہوں ہے وہ ہے وہ ج سے سے اسے ہووے سنتے ہی وحشت پھروں اپنا قصہ وحشت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں رہا ہے تو ہی تو غم خوار اے دل غمگیں تری سوا غم فرقت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں جو دوست ہوں تو ک ہوں تجھ سے دوستی کی بات تجھے تو مجھ سے ناتے ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں لگ مجھ کو کہنے کی طاقت ک ہوں تو کیا احوال لگ ا سے کو سننے کی فرصت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں کسی کو دیکھتا اتنا نہیں حقیقت ہے وہ ہے وہ ہے وہ وقار ہے وہ ہے وہ اپنی حقیقت ک ہوں تو ک سے سے ک ہوں

Bahadur Shah Zafar

0 likes

اتنا لگ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل دنیا ہے چل چلاو کا رستہ سنبھل پائےگی کے چل اوروں کے بل پہ بل لگ کر اتنا لگ چل نکل بل ہے تو بل کے بل پہ تو کچھ اپنے بل کے چل انساں کو کل کا پتلا بنایا ہے ا سے نے آپ اور آپ ہی حقیقت کہتا ہے پتلے کو کل کے چل پھروں آنکھیں بھی تو دیں ہیں کہ رکھ دیکھ کر قدم کہتا ہے کون تجھ کو لگ چل چل سنبھل پائےگی کے چل کیا چل سکےگا ہم سے کہ پہچانتے ہیں ہم تو لاکھ اپنی چال کو ظالم بدل کے چل ہے شمع سر کے بل جو محبت ہے وہ ہے وہ گرم ہوں پروا لگ اپنے دل سے یہ کہتا ہے جل کے چل بلبل کے ہوش نکہت گل کی طرح ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ گلشن ہے وہ ہے وہ مری ساتھ ذرا عطر مل کے چل گر قصد سو دل ہے ترا اے نگاہ یار دو چار تیر پیک سے آگے اجل کے چل جو امتحاں تباہ کرے اپنا اے وقار تو کہ دو ا سے کو طور پہ تو ا سے غزل کے چل

Bahadur Shah Zafar

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Bahadur Shah Zafar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Bahadur Shah Zafar's ghazal.