ghazalKuch Alfaaz

صبح ہر اجالے پہ رات کا گماں کیوں ہے جل رہی ہے کیا دھرتی عرش پہ دھواں کیوں ہے خنجروں کی سازش پر کب تلک یہ خموشی روح کیوں ہے یخ بستہ نغمہ بے زبان کیوں ہے راستہ نہیں چلتے صرف خاک اڑاتے ہیں کارواں سے بھی آگے بزم مے نوشی کیوں ہے کچھ کمی نہیں لیکن کوئی کچھ تو بتلاؤ عشق ا سے ستم گر کا شوق کا زیاں کیوں ہے ہم تو گھر سے نکلے تھے جیتنے کو دل سب کا تیغ ہاتھ ہے وہ ہے وہ کیوں ہے دوش پر کماں کیوں ہے یہ ہے حساب ساقی ا سے ہے وہ ہے وہ سب برابر ہیں پھروں جعفری ہے وہ ہے وہ سود کیوں زیاں کیوں ہے دین ک سے نگہ کی ہے کن لبوں کی برکت ہے جاناں ہے وہ ہے وہ شوخی بیاں اتنی نامہ ہا شوق کیوں ہے

Related Ghazal

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

ج سے طرح سمے گزرنے کے لیے ہوتا ہے آدمی شکل پہ مرنے کے لیے ہوتا ہے تیری آنکھوں سے ملاقات ہوئی تب یہ کھلا ڈوبنے والا ابھرنے کے لیے ہوتا ہے عشق کیوں پیچھے ہٹا بات نبھانے سے میاں حسن تو خیر مکرنے کے لیے ہوتا ہے آنکھ ہوتی ہے کسی راہ کو تکنے کے لیے دل کسی پاؤں پہ دھرنے کے لیے ہوتا ہے دل کی دہلی کا چناؤ ہی ا پیش ہے صاحب جب بھی ہوتا ہے یہ ہَرنے کے لیے ہوتا ہے کوئی بستی ہوں اجڑنے کے لیے بستی ہے کوئی مجمع ہوں گزرا کے لیے ہوتا ہے

Ali Zaryoun

61 likes

کوئی حسین تو کوئی دردناک سمجھےگا میرا مزاج وہی ٹھیک ٹھاک سمجھےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے ساتھ کئی راتوں سے ہوں ا سے کا نام بتا تو دوں گا م گر تو مزاق سمجھےگا حقیقت ج سے حساب سے گاتا ہے ا سے سے لگتا ہے کہ مری دکھ کو تو ب سے لڑکھڑاتے پراک سمجھےگا

Kushal Dauneria

36 likes

بات کرنی ہے بات کون کرے درد سے دو دو ہاتھ کون کرے ہم ستارے تم تمہیں بلاتے ہیں چاند لگ ہوں تو رات کون کرے اب تجھے رب کہی یا بت سمجھیں عشق ہے وہ ہے وہ ذات پات کون کرے زندگی بھر کی تھے کمائی جاناں ا سے سے زیادہ زکات کون کرے

Kumar Vishwas

56 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

More from Ali Sardar Jafri

عقیدے بجھ رہے ہیں شم جاں گل ہوتی جاتی ہے م گر ذوق جنوں کی شعلہ سامانی نہیں جاتی خدا معلوم ک سے ک سے کے لہو کی لالا کاری ہے زمین کو جاناں آج بےبسی نہیں جاتی ا گر یوں ہے تو کیوں ہے یوں نہیں تو کیوں نہیں آخر یقین محکم ہے لیکن دل کی حیرانی نہیں جاتی لہو جتنا تھا سارا صرف مقتل ہوں گیا تو لیکن شہیدان وفا کے رکھ کی تابانی نہیں جاتی پریشاں روزگار آشفتہ حالاں کا مقدر ہے کہ ا سے زلف پریشاں کی پریشانی نہیں جاتی ہر اک اجازت اور مہنگی اور مہنگی ہوتی جاتی ہے ب سے اک خون بشر ہے ج سے کی ارزانی نہیں جاتی نئے خوابوں کے دل ہے وہ ہے وہ شعلہ خورشید محشر ہے ضمیر حضرت انسان کی سلطانی نہیں جاتی لگاتے ہیں لبوں پر مہر ارباب زبان بن گرا علی سردار کی شان غزل خوانی نہیں جاتی

Ali Sardar Jafri

0 likes

اک صبح ہے جو ہوئی نہیں ہے اک رات ہے جو کٹی نہیں ہے مقتولوں کا قحط پڑ لگ جائے قاتل کی کہی کمی نہیں ہے ویرانوں سے آ رہی ہے آواز تخلیق جنوں رکی نہیں ہے ہے اور ہی کاروبار مستی جی لینا تو زندگی نہیں ہے ساقی سے جو جام لے لگ بڑھ کر حقیقت تشنہ لبی تشنہ لبی نہیں ہے عاشق کشی و فریب کاری یہ شیوا دل بری نہیں ہے بھوکوں کی نگاہ ہے وہ ہے وہ ہے بجلی یہ برق ابھی گری نہیں ہے دل ہے وہ ہے وہ جو جلائی تھی کسی نے حقیقت شم طرب بجھی نہیں ہے اک دھوپ سی ہے جو زیر مژگاں حقیقت آنکھ ابھی اٹھی نہیں ہے ہیں کام بے حد ابھی کہ دنیا شائستہ آدمی نہیں ہے ہر رنگ کے آ چکے ہیں فرعون لیکن یہ جبیں جھکی نہیں ہے

Ali Sardar Jafri

0 likes

اب آ گیا تو ہے ج ہاں ہے وہ ہے وہ تو مسکراتا جا چمن کے پھول دلوں کے کنول کھلاتا جا عدم حیات سے پہلے عدم حیات کے بعد یہ ایک پل ہے اسے جاویداں بناتا جا بھٹک رہی ہے اندھیرے ہے وہ ہے وہ زندگی کی بارات کوئی چراغ سر رہگزر جلاتا جا گزر چمن سے مثال نسیم صبح بہار گلوں کو چھیڑ کے کانٹوں کو گدگداتا جا رہ دراز ہے اور دور شوق کی منزل گراں ہے مرحلہ عمر گیت گاتا جا بلا سے بزم ہے وہ ہے وہ گر ذوق نغمگی کم ہے نوا تلخ کو کچھ تلخ تر بناتا جا جو ہوں سکے تو بدل زندگی کو خود ور لگ نزاد نو کو طریق جنوں سکھاتا جا دکھا کے جلوہ فردا بنا دے دیوا لگ نئے زمانے کے رکھ سے نقاب اٹھاتا جا بے حد دنوں سے دل و جاں کی محفلیں ہیں ادا سے کوئی ترا لگ کوئی داستان سناتا جا

Ali Sardar Jafri

0 likes

ساقی و مینا لیے لغزش مستا لگ لیے آئی ہم بزم ہے وہ ہے وہ پھروں جرأت رندا لگ لیے عشق پہلو ہے وہ ہے وہ ہے پھروں حصار دل خود سر لیے زلف اک ہاتھ ہے وہ ہے وہ اک ہاتھ ہے وہ ہے وہ پیما لگ لیے یاد کرتا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ رونق مے خا لگ کا ہجوم اٹھ گئے تھے جو کبھی آفتاب رکھ محبوب لیے وصل کی صبح شب ہجر کے بعد آئی ہے دور عوام کا نذرا لگ لیے عصر حاضر کو مبارک ہوں نیا سر شوکت شاہا لگ اپنی ٹھوکر ہے وہ ہے وہ رقصا لیے

Ali Sardar Jafri

1 likes

کام اب کوئی لگ آئےگا ب سے اک دل کے سوا راستے بند ہیں سب برتوں کے سوا باعث رشک ہے تنہا روی رہ رو شوق ہم سفر کوئی نہیں دوری منزل کے سوا ہم نے دنیا کی ہر اک اجازت سے اٹھایا دل کو لیکن ایک شوخ کے ہنگامہ محفل کے سوا تیغ منصف ہوں ج ہاں دار و رسن ہوں شاہد بے گ لگ کون ہے ا سے شہر ہے وہ ہے وہ قاتل کے سوا جانے ک سے رنگ سے آئی ہے گلستاں ہے وہ ہے وہ بہار کوئی نغمہ ہی نہیں شور سلاسل کے سوا

Ali Sardar Jafri

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ali Sardar Jafri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ali Sardar Jafri's ghazal.