subh ka jharna hamesha hansne vaali aurten jhutpute ki naddiyan khamosh gahri aurten moatadil kar deti hain ye sard mausam ka mizaj barf ke tilon pe chadhti dhuup jaisi aurten sabz naranji sunahri khatti mithi ladkiyan bhari jismon vaali tapke aam jaisi aurten sadkon bazaron makanon daftaron men raat din laal niili sabz niili jalti bujhti aurten shahr men ik baaghh hai aur baaghh men talab hai tairti hain is men saton rang vaali aurten saikdon aisi dukanen hain jahan mil jaengi dhaat ki patthar ki shishe ki rabad ki aurten munjamid hain barf men kuchh aag ke paikar abhi maqbaron ki chadaren hain phuul jaisi aurten un ke andar pak raha hai vaqt ka atish-fishan jin pahadon ko dhake hain barf jaisi aurten ansuon ki tarah taare gir rahe hain arsh se ro rahi hain asmanon ki akeli aurten ghhaur se suraj nikalte vaqt dekho asman chumti hain kis ka matha ujli lambi aurten sabz sone ke pahadon par qatar-andar-qatar sar se sar jode khadi hain lambi sidhi aurten vaqai donon bahut mazlum hain naqqad aur maan kahe jaane ki hasrat men sulagti aurten subh ka jharna hamesha hansne wali aurten jhutpute ki naddiyan khamosh gahri aurten moatadil kar deti hain ye sard mausam ka mizaj barf ke tilon pe chadhti dhup jaisi aurten sabz naranji sunahri khatti mithi ladkiyan bhaari jismon wali tapke aam jaisi aurten sadkon bazaron makanon daftaron mein raat din lal nili sabz nili jalti bujhti aurten shahr mein ek bagh hai aur bagh mein talab hai tairti hain is mein saton rang wali aurten saikdon aisi dukanen hain jahan mil jaengi dhat ki patthar ki shishe ki rabad ki aurten munjamid hain barf mein kuchh aag ke paikar abhi maqbaron ki chadaren hain phul jaisi aurten un ke andar pak raha hai waqt ka aatish-fishan jin pahadon ko dhake hain barf jaisi aurten aansuon ki tarah tare gir rahe hain arsh se ro rahi hain aasmanon ki akeli aurten ghaur se suraj nikalte waqt dekho aasman chumti hain kis ka matha ujli lambi aurten sabz sone ke pahadon par qatar-andar-qatar sar se sar jode khadi hain lambi sidhi aurten waqai donon bahut mazlum hain naqqad aur man kahe jaane ki hasrat mein sulagti aurten
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
عمر گزرےگی امتحاں ہے وہ ہے وہ کیا داغ ہی دیں گے مجھ کو دان ہے وہ ہے وہ کیا مری ہر بات نبھے گی ہی رہی نقص ہے کچھ مری نقص ہے وہ ہے وہ کیا مجھ کو تو کوئی ٹوکنا بھی نہیں یہی ہوتا ہے خاندان ہے وہ ہے وہ کیا اپنی محرو میاں چھپاتے ہیں ہم غریبوں کی آن بان ہے وہ ہے وہ کیا خود کو جانا جدا زمانے سے آ گیا تو تھا مری گمان ہے وہ ہے وہ کیا شام ہی سے دکان دید ہے بند نہیں نقصان تک دکان ہے وہ ہے وہ کیا اے مری صبح و شام دل کی شفق تو نہاتی ہے اب بھی بان ہے وہ ہے وہ کیا بولتے کیوں نہیں مری حق ہے وہ ہے وہ ہے وہ آبلے پڑ گئے زبان ہے وہ ہے وہ کیا خموشی کہ رہی ہے کان ہے وہ ہے وہ کیا آ رہا ہے مری گمان ہے وہ ہے وہ کیا دل کہ آتے ہیں ج سے کو دھیان بے حد خود بھی آتا ہے اپنے دھیان ہے وہ ہے وہ کیا حقیقت ملے تو یہ پوچھنا ہے مجھے اب بھی ہوں ہے وہ ہے وہ تری امان ہے وہ ہے وہ کیا یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو کوئی رہتا ہے آسمان ہے وہ ہے وہ کیا ہے نسیم بہار گرد آلود خاک اڑتی ہے ا سے مکان ہے وہ ہے وہ کیا
Jaun Elia
61 likes
کسی دن زندگانی ہے وہ ہے وہ کرشمہ کیوں نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر دن جاگ تو جاتا ہوں زندہ کیوں نہیں ہوتا مری اک زندگی کے کتنے حصے دار ہیں لیکن کسی کی زندگی ہے وہ ہے وہ میرا حصہ کیوں نہیں ہوتا ج ہاں ہے وہ ہے وہ یوں تو ہونے کو بے حد کچھ ہوتا رہتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جیسا سوچتا ہوں کچھ بھی ویسا کیوں نہیں ہوتا ہمیشہ طنز کرتے ہیں طبیعت پوچھنے والے جاناں اچھا کیوں نہیں کرتے ہے وہ ہے وہ اچھا کیوں نہیں ہوتا زمانے بھر کے لوگوں کو کیا ہے مبتلا تو نے جو تیرا ہوں گیا تو تو بھی اسی کا کیوں نہیں ہوتا
Rajesh Reddy
15 likes
اب نئے سپنے سجانا آپ کو شا گرا مبارک رات دن ب سے مسکرانا آپ کو شا گرا مبارک یاد کروائی تھی ہے وہ ہے وہ نے جو غزل مری کبھی حقیقت ہوں سکے تو بھول جانا آپ کو شا گرا مبارک جانتا ہوں من کرےگا بات کرلیں اک دفع ب سے فون لیکن مت لگانا آپ کو شا گرا مبارک دور اب ماں باپ سے گھر سے ہمیشہ ہی رہوگے سمے پر کھا لینا خا لگ آپ کو شا گرا مبارک آپ سے یہ التجا ہے وہ ہے وہ جب کبھی ٹی وی پہ آؤں آپ چینل مت ہٹانا آپ کو شا گرا مبارک پوچھ لے کوئی سہیلی کیا ہوا ا سے عشق کا تو دوست مجھ پر ہی لگانا آپ کو شا گرا مبارک آپنے شا گرا رچائی تو مری امید ٹوٹی شکریہ کرتا دیوا لگ آپ کو شا گرا مبارک
Tanoj Dadhich
22 likes
سمے سے پہلے بھلے شام زندگی آئی کسی طرح بھی اداسی کا گھاو بھر جائے جو شعر سمجھے مجھے داد واد دیتا رہے گلے لگائے جسے غم سمجھ ہے وہ ہے وہ آ جائے ہم ادا سے نہیں سر ب سر اداسی ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چراغ نہیں روشنی کہا جائے کسی کے ہنسنے سے روشن ہوئی تھی باد صبا کوئی ادا سے ہوا تو گلاب مرجھائے
Balmohan Pandey
8 likes
More from Bashir Badr
پتھر کے ج گر والو غم ہے وہ ہے وہ حقیقت روانی ہے خود راہ بنا لےگا بہتا ہوا پانی ہے اک ذہن پریشاں ہے وہ ہے وہ خواب غزلستاں ہے پتھر کی حفاظت ہے وہ ہے وہ شیشے کی جوانی ہے دل سے جو چھٹے بادل تو آنکھ ہے وہ ہے وہ ساون ہے ٹھہرا ہوا دریا ہے بہتا ہوا پانی ہے ہم رنگ دل پر خوں ہر لالہ صحرائی گیسو کی طرح مضطر اب رات کی رانی ہے ج سے سنگ پہ نظریں کیں خورشید حقیقت ہے ج سے چاند سے منا موڑا پتھر کی کہانی ہے اے پیر خرد مند دل کی بھی ضرورت ہے یہ شہر غزالاں ہے یہ ملک جوانی ہے غم وجہ فگار دل غم وجہ قرار دل آنسو کبھی شیشہ ہے آنسو کبھی پانی ہے ا سے حوصلہ دل پر ہم نے بھی کفن پہنا ہنسکر کوئی پوچھےگا کیا جان گنوائی ہے دن تلخ حقائق کے صحراؤں کا سورج ہے شب گیسو افسا لگ یادوں کی کہانی ہے حقیقت حسن جسے ہم نے رسوا کیا دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نادیدہ حقیقت ہے نا گفتہ کہانی ہے حقیقت مصرع آوارہ دیوانوں پہ بھاری ہے ج سے ہے وہ ہے وہ تری گیسو کی بے ربط کہانی ہے ہم خوشبو آوارہ ہم نور پریشاں ہیں اے بدر مقدر ہے وہ ہے
Bashir Badr
1 likes
دل ہے وہ ہے وہ اک تصویر چھپی تھی آن بسی ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ہم نے آج غزل سی بات لکھی ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چنو اک ہریجن لڑکی مندیر کے دروازے پر شام دیوں کی تھال سجائے جھانک رہی ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے رومال کو کام ہے وہ ہے وہ لاؤ اپنی پلکیں صاف کروں میلا میلا چاند نہیں ہے دھول جمی ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پڑھتا جا یہ منظر نامہ زرد عظیم پہاڑوں کا دھوپ کھیلی پلکوں کے اوپر برف جمی ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اک ناول لکھا ہے آنے والی صبح کے نام کتنی راتوں کا جاگا ہوں نیند بھری ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ
Bashir Badr
6 likes
شعر میرے کہاں تھے کسی کے لیے میں نے سب کچھ لکھا ہے تمہارے لیے اپنے دکھ سکھ بہت خوبصورت رہے ہم جیے بھی تو اک دوسرے کے لیے ہم سفر نے میرا ساتھ چھوڑا نہیں اپنے آنسو دیے راستے کے لیے اس حویلی میں اب کوئی رہتا نہیں چاند نکلا کسے دیکھنے کے لیے زندگی اور میں دو الگ تو نہیں میں نے سب پھول کاٹے اسی سے لیے شہر میں اب میرا کوئی دشمن نہیں سب کو اپنا لیا میں نے تیرے لیے ذہن میں تتلیاں اڑ رہی ہیں بہت کوئی دھاگا نہیں باندھنے کے لیے ایک تصویر پڑھتے میں ایسی بنی اگلے پچھلے زمانوں کے چہرے لیے
Bashir Badr
6 likes
مری نظر ہے وہ ہے وہ خاک تری آئینے پہ گرد ہے یہ چاند کتنا زرد ہے یہ رات کتنی سرد ہے کبھی کبھی تو یوں لگا کہ ہم سبھی قید ہستی ہیں تمام شہر ہے وہ ہے وہ لگ کوئی زن لگ کوئی مرد ہے خدا کی نظموں کی کتاب ساری کائنات ہے غزل کے شعر کی طرح ہر ایک فرد فرد ہے حیات آج بھی کنیز ہے حضور جبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو زندگی کو جیت لے حقیقت زندگی کا مرد ہے اسے تبرک حیات کہ کے پلکوں پر رکھوں ا گر مجھے یقین ہوں یہ راستے کی گرد ہے حقیقت جن کے ذکر سے رگوں ہے وہ ہے وہ دوڑتی تھیں بجلیاں انہی کا ہاتھ ہم نے چھو کے دیکھا کتنا سرد ہے
Bashir Badr
2 likes
ادا سے آنکھوں سے آنسو نہیں نکلتے ہیں یہ موتیوں کی طرح سیپیوں ہے وہ ہے وہ پالتے ہیں گھنے دھوئیں ہے وہ ہے وہ فرشتے بھی آنکھ ملتے ہیں تمام رات کھجوروں کے پیڑ جلتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاہراہ نہیں راستے کا پتھر ہوں ی ہاں سوار بھی پیدل اتر کے چلتے ہیں ا نہیں کبھی لگ بتانا ہے وہ ہے وہ ان کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت لوگ پھول سمجھ کر مجھے مسلتے ہیں کئی ستاروں کو ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں بچپن سے کہی بھی جاؤں مری ساتھ ساتھ چلتے ہیں یہ ایک پیڑ ہے آ ا سے سے مل کے رو لیں ہم ی ہاں سے تری مری راستے بدلتے ہیں
Bashir Badr
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Bashir Badr.
Similar Moods
More moods that pair well with Bashir Badr's ghazal.







