sukhi tahni tanha chidiya phika chand ankhon ke sahra men ek nami ka chand us mathe ko chume kitne din biite jis mathe ki khatir tha ik tiika chand pahle tu lagti thi kitni begana kitna mubham hota hai pahli ka chand kam ho kaise in khushiyon se tera ghham lahron men kab bahta hai naddi ka chand aao ab ham is ke bhi tukde kar len dhaka ravalpindi aur dilli ka chand sukhi tahni tanha chidiya phika chand aankhon ke sahra mein ek nami ka chand us mathe ko chume kitne din bite jis mathe ki khatir tha ek tika chand pahle tu lagti thi kitni begana kitna mubham hota hai pahli ka chand kam ho kaise in khushiyon se tera gham lahron mein kab bahta hai naddi ka chand aao ab hum is ke bhi tukde kar len dhaka rawalpindi aur dilli ka chand
Related Ghazal
سفر ہے وہ ہے وہ دھوپ تو ہوں گی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ ہے وہ ہے وہ جاناں بھی نکل سکو تو چلو کسی کے واسطے راہیں ک ہاں بدلتی ہیں جاناں اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو ی ہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کے ا گر جاناں سنبھل سکو تو چلو کہی نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہی کھلونوں سے جاناں بھی بہل سکو تو چلو
Nida Fazli
61 likes
کیا کہےگا کبھی ملنے بھی ا گر آئےگا حقیقت اب وفاداری کی ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو نہیں کھائےگا حقیقت ہم سمجھتے تھے کہ ہم اس کا کو بھلا سکتے ہیں حقیقت سمجھتا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھول نہیں پائے گا حقیقت کتنا سوچا تھا پر اتنا تو نہیں سوچا تھا یاد بن جائےگا حقیقت خواب نظر آئےگا حقیقت سب کے ہوتے ہوئے اک روز حقیقت تنہا ہوگا پھروں حقیقت ڈھونڈےگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور نہیں پائے گا حقیقت اتفاقاً جو کبھی سامنے آیا اجمل اب حقیقت تنہا تو لگ ہوگا جو ٹھہر جائےگا حقیقت
Ajmal Siraj
50 likes
شیطان کے دل پر چلتا ہوں سینوں ہے وہ ہے وہ سفر کرتا ہوں ا سے آنکھ کا کیا اختیار ہے ہے وہ ہے وہ ج سے آنکھ ہے وہ ہے وہ گھر کرتا ہوں جو مجھ ہے وہ ہے وہ اترے ہیں ان کو مری لہروں کا اندازہ ہے دریاو ہے وہ ہے وہ اٹھتا بیٹھتا ہوں سیلاب بسر کرتا ہوں مری تنہائی کا بوجھ تمہاری بنائی لے ڈوبے گا مجھے اتنا قریب سے مت دیکھو آنکھوں پر اثر کرتا ہوں
Tehzeeb Hafi
63 likes
ہم ایسے عشق کے ماروں کو تنہا مار دیتی ہے محبت جان کی پیاسی ہے بندہ مار دیتی ہے الگ انداز ہیں دونوں کے اپنی بات کہنے کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسپے شعر کہتا ہوں حقیقت تانا مار دیتی ہے ہم ا سے کے دل ہے وہ ہے وہ رہتے ہیں سو اچھے ہیں وگرنہ دوست اداؤں سے تو عاشق کو حقیقت زندہ مار دیتی ہے کسی رسی کسی پنکھے پہ یہ الزام آیا پر کوئی خود سے نہیں مرتا یہ دنیا مار دیتی ہے ہم ایسے لوگ غلطی سے کبھی جو خواب دیکھیں تو غریبی خواب کے منہ پہ تماچہ مار دیتی ہے
Ankit Maurya
24 likes
غیر کی باتوں کا آخر اعتبار آ ہی گیا تو مری جانب سے تری دل ہے وہ ہے وہ غمدیدہ آ ہی گیا تو جانتا تھا کھا رہا ہے بےوفا جھوٹی قسم سادگی دیکھو کہ پھروں بھی اعتبار آ ہی گیا تو پوچھنے والوں سے تو ہے وہ ہے وہ نے چھپایا دل کا راز پھروں بھی تیرا نام لب پہ ایک بار آ ہی گیا تو تو لگ آیا و وفا دشمن تو کیا ہم مر گئے چند دن تڑپا کیے آخر قرار آ ہی گیا تو جی ہے وہ ہے وہ تھا اے حشر ا سے سے اب لگ بولیں گے کبھی بےوفا جب سامنے آیا تو پیار آ ہی گیا تو
Agha Hashr Kashmiri
17 likes
More from Javed Akhtar
کھلا ہے در بچیں ترا انتظار جاتا رہا خلوص تو ہے مگر اعتبار جاتا رہا کسی کی آنکھ ہے وہ ہے وہ مستی تو آج بھی ہے وہی مگر کبھی جو ہمیں تھا خمار جاتا رہا کبھی جو سینے ہے وہ ہے وہ اک آگ تھی حقیقت سرد ہوئی کبھی نگاہ ہے وہ ہے وہ جو تھا جاں گسل جاتا رہا عجب سا چین تھا ہم کو کہ جب تھے ہم بےچین قرار آیا تو چنو قرار جاتا رہا کبھی تو میری بھی سنوائی ہوں گی محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ امید لیے بار بار جاتا رہا
Javed Akhtar
2 likes
حقیقت ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہے زمین سورج کی انگلیوں سے فسل رہی ہے جو مجھ کو زندہ جلا رہے ہیں حقیقت بے خبر ہیں کہ مری زنجیر دھیرے دھیرے پگھل رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ قتل تو ہوں گیا تو تمہاری گلی ہے وہ ہے وہ لیکن مری لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے لگ جلنے پاتے تھے ج سے کے چولہے بھی ہر سویرے سنا ہے کل رات سے حقیقت بستی بھی جل رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں کہ خموشی ہے وہ ہے وہ ہی مصلحت ہے م گر یہی مصلحت مری دل کو خل رہی ہے کبھی تو انسان زندگی کی کرےگا عزت یہ ایک امید آج بھی دل ہے وہ ہے وہ پل رہی ہے
Javed Akhtar
2 likes
جسم دمکتا زلف گھنیری درماندہ لب آنکھیں جادو سنگ مرمر اودا بادل سرخ شفق حیران آہو بھکشو دانی پیاسا پانی دریا ساگر جل گاگر گلشن خوشبو کوئل کوکو مستی دارو ہے وہ ہے وہ اور تو بامبی سیپی چھایا آنگن گھنگرو چھن چھن چبایا من آنکھیں کاجل پربت بادل حقیقت زلفیں اور یہ بازو راتیں مہکی سانسیں دہکی نظریں بہکی رت لہکی سوپن سلونا پریم کھلونا پھول بچھونا حقیقت پہلو جاناں سے دوری یہ مجبوری زخم کاری بیداری تنہا راتیں سپنے قاتیں خود سے باتیں میری پربھاکر
Javed Akhtar
0 likes
ہمارے دل ہے وہ ہے وہ اب تلخی نہیں ہے م گر حقیقت بات پہلے سی نہیں ہے مجھے مایو سے بھی کرتی نہیں ہے یہی عادت تری اچھی نہیں ہے بے حد سے فائدے ہیں مصلحت ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر دل کی تو یہ مرضی نہیں ہے ہر اک کی داستان سنتے ہیں چنو کبھی ہم نے محبت کی نہیں ہے ہے اک دروازے بن دیوار دنیا مفر غم سے ی ہاں کوئی نہیں ہے
Javed Akhtar
3 likes
ग़म होते हैं जहाँ ज़ेहानत होती है दुनिया में हर शय की क़ीमत होती है अक्सर वो कहते हैं वो बस मेरे हैं अक्सर क्यूँँ कहते हैं हैरत होती है तब हम दोनों वक़्त चुरा कर लाते थे अब मिलते हैं जब भी फ़ुर्सत होती है अपनी महबूबा में अपनी माँ देखें बिन माँ के लड़कों की फ़ितरत होती है इक कश्ती में एक क़दम ही रखते हैं कुछ लोगों की ऐसी आदत होती है
Javed Akhtar
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Javed Akhtar.
Similar Moods
More moods that pair well with Javed Akhtar's ghazal.







