tanha tanha dukh jhelenge mahfil mahfil gaenge jab tak aansu paas rahenge tab tak giit sunaenge tum jo socho vo tum jaano ham to apni kahte hain der na karna ghar aane men varna ghar kho jaenge bachchon ke chhote hathon ko chand sitare chhune do chaar kitaben padh kar ye bhi ham jaise ho jaenge achchhi surat vaale saare patthar-dil hon mumkin hai ham to us din raae denge jis din dhoka khaenge kin rahon se safar hai asan kaun sa rasta mushkil hai ham bhi jab thak kar baithenge auron ko samjhaenge tanha tanha dukh jhelenge mahfil mahfil gaenge jab tak aansu pas rahenge tab tak git sunaenge tum jo socho wo tum jaano hum to apni kahte hain der na karna ghar aane mein warna ghar kho jaenge bachchon ke chhote hathon ko chand sitare chhune do chaar kitaben padh kar ye bhi hum jaise ho jaenge achchhi surat wale sare patthar-dil hon mumkin hai hum to us din rae denge jis din dhoka khaenge kin rahon se safar hai aasan kaun sa rasta mushkil hai hum bhi jab thak kar baithenge auron ko samjhaenge
Related Ghazal
تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے
Tehzeeb Hafi
262 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
Jaun Elia
113 likes
خالی بیٹھے ہوں تو اک کام میرا کر دو نا مجھ کو اچھا سا کوئی زخم ادا کر دو نا دھیان سے پنچھیوں کو دیتے ہوں دا لگ پانی اتنے اچھے ہوں تو پنجرے سے رہا کر دو نا جب قریب آ ہی گئے ہوں تو اداسی کیسی جب دیا دے ہی رہے ہوں تو جلا کر دو نا
Zubair Ali Tabish
102 likes
ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے
Yasir Khan
92 likes
More from Nida Fazli
چاہتیں موسمی پرندے ہیں رت بدلتے ہی لوٹ جاتے ہیں گھونسلے بن کے ٹوٹ جاتے ہیں داغ شاخوں پہ چہچہاتے ہیں آنے والے بیاض ہے وہ ہے وہ اپنی جانے والوں کے نام لکھتے ہیں سب ہی اوروں کے خالی کمروں کو اپنی اپنی طرح سجاتے ہیں موت اک واہمہ ہے دی کا ساتھ چھوٹتا ک ہاں ہے اپنوں کا جو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر نظر نہیں آتے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ جگمگاتے ہیں یہ مصور عجیب ہوتے ہیں آپ اپنے حبیب ہوتے ہیں دوسروں کی شباہتیں لے کر اپنی تصویر ہی بناتے ہیں یوں ہی چلتا ہے کاروبار ج ہاں ہے ضروری ہر ایک چیز ی ہاں جن درختوں ہے وہ ہے وہ پھل نہیں آتے حقیقت جلانے کے کام آتے ہیں
Nida Fazli
0 likes
راکش سے تھا لگ خدا تھا پہلے آدمی کتنا بڑا تھا پہلے آ سماں کھیت سمندر سب یشودا خون کاغذ پہ اگا تھا پہلے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت مقتول جو قاتل لگ بنا ہاتھ میرا بھی اٹھا تھا پہلے اب کسی سے بھی شکایت لگ رہی جانے ک سے ک سے سے گلہ تھا پہلے شہر تو بعد ہے وہ ہے وہ ویران ہوا میرا گھر خاک ہوا تھا پہلے
Nida Fazli
2 likes
دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی دوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہی چند لمحوں کو ہی بنتی ہیں مصور آنکھیں زندگی روز تو تصویر بنانے سے رہی ا سے اندھیرے ہے وہ ہے وہ تو ٹھوکر ہی اجالا دےگی رات جنگل ہے وہ ہے وہ کوئی شمع جلانے سے رہی فاصلہ چاند بنا دیتا ہے ہر پتھر کو دور کی روشنی نزدیک تو آنے سے رہی شہر ہے وہ ہے وہ سب کو ک ہاں ملتی ہے رونے کی جگہ اپنی عزت بھی ی ہاں ہنسنے ہنسانے سے رہی
Nida Fazli
0 likes
کوئی کسی کی طرف ہے کوئی کسی کی طرف ک ہاں ہے شہر ہے وہ ہے وہ اب کوئی زندگی کی طرف سبھی کی دی ہے وہ ہے وہ غائب تھا جو حقیقت حاضر تھا کسی نے رک کے نہیں دیکھا آدمی کی طرف تمام شہر کی شمعیں اسی سے روشن تھیں کبھی اجالا بے حد تھا کسی گلی کی طرف کہی کی بھوک ہوں ہر کھیت ا سے کا اپنا ہے کہی کی پیا سے ہوں جائے گی حقیقت ن گرا کی طرف لگ نکلے خیر سے علامہ قول سے باہر یکتا ٹوٹ گئے جب چلے خو گرا کی طرف
Nida Fazli
0 likes
گرجا ہے وہ ہے وہ مندروں ہے وہ ہے وہ اذانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو ہوتے ہی صبح آدمی خانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو اک عشق نام کا جو پرندہ خلا ہے وہ ہے وہ تھا اترا جو شہر ہے وہ ہے وہ تو دکانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو پہلے تلاشا کھیت پھروں دریا کی کھوج کی باقی کا سمے گہیوں کے دانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو جب تک تھا آسمان ہے وہ ہے وہ سورج سبھی کا تھا پھروں یوں ہوا حقیقت چند مکانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو ہیں تاک ہے وہ ہے وہ شکاری نشا لگ ہیں بستیاں عالم تمام چند مچانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو خبروں نے کی مصوری خبریں غزل بنیں زندہ لہو تو تیر کمانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو
Nida Fazli
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nida Fazli.
Similar Moods
More moods that pair well with Nida Fazli's ghazal.







