ghazalKuch Alfaaz

tire ghham ko jaan ki talash thi tire jan-nisar chale gae tiri rah men karte the sar talab sar-e-rahguzar chale gae tiri kaj-adai se haar ke shab-e-intizar chali gai mire zabt-e-hal se ruuth kar mire ghham-gusar chale gae na saval-e-vasl na arz-e-ghham na hikayaten na shikayaten tire ahd men dil-e-zar ke sabhi ikhtiyar chale gae ye hamin the jin ke libas par sar-e-rah siyahi likhi gai yahi daaghh the jo saja ke ham sar-e-bazm-e-yar chale gae na raha junun-e-rukh-e-vafa ye rasan ye daar karoge kya jinhen jurm-e-ishq pe naaz tha vo gunahgar chale gae tere gham ko jaan ki talash thi tere jaan-nisar chale gae teri rah mein karte the sar talab sar-e-rahguzar chale gae teri kaj-adai se haar ke shab-e-intizar chali gai mere zabt-e-haal se ruth kar mere gham-gusar chale gae na sawal-e-wasl na arz-e-gham na hikayaten na shikayaten tere ahd mein dil-e-zar ke sabhi ikhtiyar chale gae ye hamin the jin ke libas par sar-e-rah siyahi likhi gai yahi dagh the jo saja ke hum sar-e-bazm-e-yar chale gae na raha junun-e-rukh-e-wafa ye rasan ye dar karoge kya jinhen jurm-e-ishq pe naz tha wo gunahgar chale gae

Related Ghazal

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

Dagh Dehlvi

84 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

More from Faiz Ahmad Faiz

گرمی شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو گل کھلے جاتے ہیں حقیقت سایہ تر تو دیکھو ایسے نادان بھی لگ تھے جاں سے گزرنے والے ناصحوں پند گرو گھبرائیے تو دیکھو حقیقت تو حقیقت ہے تمہیں ہوں جائے گی الفت مجھ سے اک نظر جاناں میرا محبوب نظر تو دیکھو حقیقت جو اب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیں دیکھنے والو کبھی ان کا ج گر تو دیکھو دامن درد کو دل ناشاد بنا رکھا ہے آؤ اک دن دل پر خوں کا ہنر تو دیکھو صبح کی طرح جھمکتا ہے شب غم کا پیام عشقفیض تابندگی دیدہ تر تو دیکھو

Faiz Ahmad Faiz

1 likes

لگ اب رقیب لگ ناصح لگ غم گسار کوئی جاناں آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا جدا تھے ہم تو میسر تھیں رنگیں کتنی بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا پہنچ کے در پہ تری کتنے معتبر ٹھہرے اگرچہ رہ ہے وہ ہے وہ ہوئیں جگ ہنسائیاں کیا کیا ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز من گرا سے بتوں نے کی ہیں ج ہاں ہے وہ ہے وہ خدائیاں کیا کیا ستم پہ خوش کبھی لطف و کرم سے رنجیدہ سکھائیں جاناں نے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کج ادائیاں کیا کیا

Faiz Ahmad Faiz

1 likes

قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم سب کچھ نثار راہ وفا کر چکے ہیں ہم کچھ امتحاں دست کہوں کر چکے ہیں ہم کچھ ان کی دسترسی کا پتا کر چکے ہیں ہم اب احتیاط کی کوئی صورت نہیں رہی قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم دیکھیں ہے کون کون ضرورت نہیں رہی کوئے ستم ہے وہ ہے وہ سب کو خفا کر چکے ہیں ہم اب اپنا اختیار ہے چاہے ج ہاں چلیں رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم ان کی نظر ہے وہ ہے وہ کیا کریں فیکا ہے اب بھی رنگ جتنا لہو تھا صرف قبا کر چکے ہیں ہم کچھ اپنے دل کی پربھاکر کا بھی شکرا لگ چاہیے سو بار ان کی پربھاکر کا گلہ کر چکے ہیں ہم

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

عشق منت کش قرار نہیں حسن مجبور انتظار نہیں تیری رنجش کی انتہا معلوم حسرتوں کا مری شمار نہیں اپنی نظریں بکھیر دے ساقی مے ب اندازہ خمار نہیں زیر لب ہے ابھی تبسم دوست منتشر جلوہ بہار نہیں اپنی تکمیل کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ور لگ تجھ سے تو مجھ کو پیار نہیں چارہ انتظار کون کرے تیری خوبصورت بھی چارہ ساز نہیں فیض زندہ رہیں حقیقت ہیں تو صحیح کیا ہوا گر وفا شعار نہیں

Faiz Ahmad Faiz

1 likes

پھروں حریف بہار ہوں بیٹھے جانے ک سے ک سے کو آج رو بیٹھے تھی م گر اتنی رائےگاں بھی لگ تھی آج کچھ زندگی سے کھو بیٹھے تری در تک پہنچ کے لوٹ آئی عشق کی رکھ ڈبو بیٹھے ساری دنیا سے دور ہوں جائے جو ذرا تری پا سے ہوں بیٹھے لگ گئی تیری بے رکھ لگ گئی ہم تری آرزو بھی کھو بیٹھے فیض ہوتا رہے جو ہونا ہے شعر لکھتے رہا کروں بیٹھے

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's ghazal.