tire ishq ki intiha chahta huun miri sadgi dekh kya chahta huun sitam ho ki ho vada-e-be-hijabi koi baat sabr-azma chahta huun ye jannat mubarak rahe zahidon ko ki main aap ka samna chahta huun zara sa to dil huun magar shokh itna vahi lan-tarani suna chahta huun koi dam ka mehman huun ai ahl-e-mahfil charaghh-e-sahar huun bujha chahta huun bhari bazm men raaz ki baat kah di bada be-adab huun saza chahta huun tere ishq ki intiha chahta hun meri sadgi dekh kya chahta hun sitam ho ki ho wada-e-be-hijabi koi baat sabr-azma chahta hun ye jannat mubarak rahe zahidon ko ki main aap ka samna chahta hun zara sa to dil hun magar shokh itna wahi lan-tarani suna chahta hun koi dam ka mehman hun ai ahl-e-mahfil charagh-e-sahar hun bujha chahta hun bhari bazm mein raaz ki baat kah di bada be-adab hun saza chahta hun
Related Ghazal
سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی
Jaun Elia
77 likes
کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
70 likes
جو بھی عزت کے ڈر سے ڈر جائے مت کرے عشق اپنے گھر جائے بات آ جائے جب دعاؤں پر ا سے سے بہتر ہے بندہ مر جائے تھوڑی سی اور دیر سامنے رہ مری آنکھوں کا پیٹ بھر جائے المہیمین کے گھر بھی خطرے ہیں جائے بھی تو کوئی کدھر جائے ہاں عقیدہ ا گر لگ قید رکھے پھروں تو انسان کچھ بھی کر جائے قیامت کی یہ آخری حد ہے مری اولاد آپ پر جائے ا سے کے چہرے پر آج اداسی تھی ہاں یہ افکار علوی مر جائے
Afkar Alvi
38 likes
عشق ہے وہ ہے وہ دان کرنا پڑتا ہے جاں کو ہلکان کرنا پڑتا ہے غضب مفت ہے وہ ہے وہ نہیں ملتا پہلے نقصان کرنا پڑتا ہے ا سے کی ہنہناتی گفتگو کے لیے آنکھ کو کان کرنا پڑتا ہے پھروں اداسی کے بھی تقاضے ہیں گھر کو ویران کرنا پڑتا ہے
Mehshar Afridi
37 likes
تمہارے غم سے توبہ کر رہا ہوں ت غضب ہے ہے وہ ہے وہ ایسا کر رہا ہوں ہے اپنے ہاتھ ہے وہ ہے وہ اپنا گریبان لگ جانے ک سے سے جھگڑا کر رہا ہوں بے حد سے بند تالے کھل رہے ہیں تری سب خط اکٹھا کر رہا ہوں کوئی تتلی نشانے پر نہیں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے رنگوں کا پیچھا کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رسمًا کہ رہا ہوں پھروں ملیںگے یہ مت سمجھو کہ وعدہ کر رہا ہوں مری احباب سارے شہر ہے وہ ہے وہ ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گاؤں ہے وہ ہے وہ کیا کر رہا ہوں مری ہر اک غزل اصلی ہے صاحب کئی برسوں سے دھندا کر رہا ہوں
Zubair Ali Tabish
38 likes
More from Allama Iqbal
اپنی جولان گاہ زیر آسمان سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لو و گل خاک شہر یاراں کے کھیل کو اپنا ج ہاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حجابی سے تری ٹوٹا نگا ہوں کا طلسم اک ردا نیل گوں کو آ سماں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم ہے وہ ہے وہ رہ گیا تو مہر و تنخواہ و مشتری کو ہم اننا سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام ا سے زمین و آ سماں کو بے کراں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ گئیں راز محبت پردہ داری ہا شوق تھی فغاں حقیقت بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھی کسی درماندہ لائیں گی کی صدا دردناک ج سے کو آواز رحیل کارواں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ
Allama Iqbal
1 likes
درد و سوز آرزومن گرا ہے مقام بندگی شان خداون گرا دے کر لگ لوں آوارہ کو محبت تری آزاد بندوں کی لگ یہ دنیا لگ حقیقت دنیا ی ہاں مرنے کی آزمایا و ہاں جینے کی آزمایا حجاب اکسیر ہے بھڑکاتی کو مری آتش کو دیر پیون گرا ہے تیری کار آشیاں بن گرا گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و شایاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ شاہین کے لیے ذلت ہے فیضان نظر یہ آداب فرزن گرا تھا یا کہ خوشحالی کی کرامت تھی سے کھائے ک سے نے اسماعیل کو زیارت گاہ اہل عزم و ہمت راز علون گرا ہے لحد مری کہ جست و خیز کو ہے وہ ہے وہ نے بتایا مشاطگی مری حسن معنی کی کیا ضرورت حنا بن گرا کو کہ فطرت خود ب خود کرتی ہے لالے کی نیاز مند
Allama Iqbal
0 likes
انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں علاج درد ہے وہ ہے وہ بھی درد کی لذت پہ مرتا ہوں جو تھے چھالوں ہے وہ ہے وہ کانٹے نوک سوزن سے نکالے ہیں فلا پھولا رہے یا رب چمن مری امیدوں کا ج گر کا خون دے دے کر یہ بوٹے ہے وہ ہے وہ نے پالے ہیں رلاتی ہے مجھے راتوں کو خموشی ستاروں کی نرالا عشق ہے میرا نرالے مری نالے ہیں لگ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی نشمن سیکڑوں ہے وہ ہے وہ نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں نہیں بیگانگی اچھی رفیق راہ منزل سے ٹھہر جا اے شرر ہم بھی تو آخر مٹنے والے ہیں امید حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو یہ حضرت دیکھنے ہے وہ ہے وہ سیدھے سادھے بھولے بھالے ہیں مری اشعار اے حفیظ کیوں پیاری لگ ہوں مجھ کو مری ٹوٹے ہوئے دل کے یہ درد انگیز نالے ہیں
Allama Iqbal
0 likes
خرد کے پا سے خبر کے سوا کچھ اور نہیں ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا حیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہیں گراں بہا ہے تو حفظ خو گرا سے ہے ور لگ گوہر ہے وہ ہے وہ آب گوہر کے سوا کچھ اور نہیں رگوں ہے وہ ہے وہ گردش خوں ہے ا گر تو کیا حاصل حیات شمع مزار کے سوا کچھ اور نہیں عرو سے لالہ مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب کہ ہے وہ ہے وہ نسیم سحر کے سوا کچھ اور نہیں جسے کساد سمجھتے ہیں تاجران فرنگ حقیقت اجازت متاع ہنر کے سوا کچھ اور نہیں بڑا کریم ہے اقبال بے نوا لیکن عطا شعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں
Allama Iqbal
0 likes
گلزار ہست و بود لگ بیگا لگ وار دیکھ ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ آیا ہے تو ج ہاں ہے وہ ہے وہ مثال شرار دیکھ دم دے لگ جائے ہستی نا پائیدار دیکھ مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ کھولی ہیں ذوق دید نے آنکھیں تری ا گر ہر رہگزر ہے وہ ہے وہ نقش کف پا یار دیکھ
Allama Iqbal
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Allama Iqbal.
Similar Moods
More moods that pair well with Allama Iqbal's ghazal.







