ghazalKuch Alfaaz

درد و سوز آرزومن گرا ہے مقام بندگی شان خداون گرا دے کر لگ لوں آوارہ کو محبت تری آزاد بندوں کی لگ یہ دنیا لگ حقیقت دنیا ی ہاں مرنے کی آزمایا و ہاں جینے کی آزمایا حجاب اکسیر ہے بھڑکاتی کو مری آتش کو دیر پیون گرا ہے تیری کار آشیاں بن گرا گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و شایاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ شاہین کے لیے ذلت ہے فیضان نظر یہ آداب فرزن گرا تھا یا کہ خوشحالی کی کرامت تھی سے کھائے ک سے نے اسماعیل کو زیارت گاہ اہل عزم و ہمت راز علون گرا ہے لحد مری کہ جست و خیز کو ہے وہ ہے وہ نے بتایا مشاطگی مری حسن معنی کی کیا ضرورت حنا بن گرا کو کہ فطرت خود ب خود کرتی ہے لالے کی نیاز مند

Related Ghazal

زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا پاؤں تلاشیں ہیں تو توفیق سفر بھی دینا گفتگو تو نے سکھائی ہے کہ ہے وہ ہے وہ گونگا تھا اب ہے وہ ہے وہ بولوںگا تو باتوں ہے وہ ہے وہ اثر بھی دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو ا سے خا لگ بدوشی ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں لیکن اگلی نسلیں تو لگ بھٹکیں ا نہیں گھر بھی دینا ظلم اور دل پامال کا یہ کھیل مکمل ہوں جائے ا سے کو خنجر جو دیا ہے مجھے سر بھی دینا

Meraj Faizabadi

23 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

سمندر ہے وہ ہے وہ اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری یادوں کی خوشبو کھڑ کیوں ہے وہ ہے وہ رقص کرتی ہے تری غم ہے وہ ہے وہ سلگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں لگ جانے ہوں گیا تو ہوں ا سے دودمان حسا سے ہے وہ ہے وہ کب سے کسی سے بات کرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارا دن بے حد مصروف رہتا ہوں م گر جیوں ہی قدم چوکھٹ پہ رکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ہر اک مفل سے کے ماتھے پر الم کی داستانے ہیں کوئی چہرہ بھی پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں بڑے لوگوں کے اونچے بد نما اور سرد محلوں کو غریب آنکھوں سے تکتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری کوچے سے اب میرا تعلق واجبی سا ہے م گر جب بھی گزرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ہزاروں موسموں کی حکمرانی ہے مری دل پر وسی ہے وہ ہے وہ جب بھی ہنستا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

Wasi Shah

15 likes

جاناں اس کا خرابے ہے وہ ہے وہ چار چھے دن ٹہل گئی ہوں سو این ممکن ہے دل کی حالت بدل گئی ہوں تمام دن اس کا دعا ہے وہ ہے وہ کٹتا ہے کچھ دنوں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاؤں کمرے ہے وہ ہے وہ تو اداسی نکل گئی ہوں کسی کے آنے پہ ایسے ہلچل ہوئی ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خاموش جنگل ہے وہ ہے وہ چنو خیروخواہ چل گئی ہوں یہ نہ ہوں گر ہے وہ ہے وہ ہلوں تو گرنے لگے برادہ دکھوں کی دیمک بدن کی لکڑی نگل گئی ہوں یہ چھوٹے چھوٹے کئی حوادث جو ہوں رہے ہیں کسی کے سر سے بڑی مصیبت نہ ٹل گئی ہوں ہمارا ملبا ہمارے قدموں ہے وہ ہے وہ آ گرا ہے پلیٹ ہے وہ ہے وہ چنو موم بتی پگھل گئی ہوں

Umair Najmi

18 likes

ایک تصویر کہ اول نہیں دیکھی جاتی دیکھ بھی لوں تو مسلسل نہیں دیکھی جاتی دیکھی جاتی ہے محبت ہے وہ ہے وہ ہر جنبش دل صرف سانسوں کی ریہرسل نہیں دیکھی جاتی اک تو ویسے بڑی تاریک ہے خواہش نگری پھروں طویل اتنی کہ پیدل نہیں دیکھی جاتی ایسا کچھ ہے بھی نہیں ج سے سے تجھے بہلاؤں یہ اداسی بھی مسلسل نہیں دیکھی جاتی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اک عمر سے بٹوے ہے وہ ہے وہ سنبھالی ہوئی ہے وہی تصویر جو اک پل نہیں دیکھی جاتی اب میرا دھیان کہی اور چلا جاتا ہے اب کوئی فلم مکمل نہیں دیکھی جاتی

Jawwad Sheikh

18 likes

More from Allama Iqbal

اپنی جولان گاہ زیر آسمان سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لو و گل خاک شہر یاراں کے کھیل کو اپنا ج ہاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حجابی سے تری ٹوٹا نگا ہوں کا طلسم اک ردا نیل گوں کو آ سماں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم ہے وہ ہے وہ رہ گیا تو مہر و تنخواہ و مشتری کو ہم اننا سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام ا سے زمین و آ سماں کو بے کراں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ گئیں راز محبت پردہ داری ہا شوق تھی فغاں حقیقت بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھی کسی درماندہ لائیں گی کی صدا دردناک ج سے کو آواز رحیل کارواں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ

Allama Iqbal

1 likes

خرد کے پا سے خبر کے سوا کچھ اور نہیں ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا حیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہیں گراں بہا ہے تو حفظ خو گرا سے ہے ور لگ گوہر ہے وہ ہے وہ آب گوہر کے سوا کچھ اور نہیں رگوں ہے وہ ہے وہ گردش خوں ہے ا گر تو کیا حاصل حیات شمع مزار کے سوا کچھ اور نہیں عرو سے لالہ مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب کہ ہے وہ ہے وہ نسیم سحر کے سوا کچھ اور نہیں جسے کساد سمجھتے ہیں تاجران فرنگ حقیقت اجازت متاع ہنر کے سوا کچھ اور نہیں بڑا کریم ہے اقبال بے نوا لیکن عطا شعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں

Allama Iqbal

0 likes

دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے پھروں ا سے ہے وہ ہے وہ غضب کیا کہ تو بےباک نہیں ہے ہے نرا بھی اسی خاک ہے وہ ہے وہ پن ہاں غافل تو صاحب ادراک سرمہ فرنگ نہیں ہے حقیقت آنکھ کہ ہے پرکار سے روشن سخن ساز و ملا ہے نمنک نہیں ہے کیا صوفی و سر دامن کو خبر مری جنوں کی ان کا محکومی انجم بھی ابھی چاک نہیں ہے کب تک رہے گردش افلاک ہے وہ ہے وہ مری خاک یا ہے وہ ہے وہ نہیں یا بیاباں نہیں ہے بجلی ہوں نظر کوہ و شایاں پہ ہے مری مری لیے خ سے و خاشاک مومن جانباز نہیں ہے عالم ہے فقط صاحب لولاک کی میرا سے مومن نہیں جو حرف راز نہیں ہے

Allama Iqbal

1 likes

لا پھروں اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی تین سو سال سے ہیں ہند کے مے خانے بند اب مناسب ہے ترا فیض ہوں آم اے ساقی میری مینا غزل ہے وہ ہے وہ تھی ذرا سی باقی شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی شعر مردوں سے ہوا بیش تحقیق تہی رہ گئے صوفی و سر دامن کے غلام اے ساقی عشق کی تیغ جگر دار قسمیں لی کہ سے نے علم کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ خالی ہے نیام اے ساقی سینا روشن ہوں تو ہے سوز سخن عین حیات ہوں نہ روشن تو سخن مرگ دوام اے ساقی تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ تری پیمانے ہے وہ ہے وہ ہے ماہ تمام اے ساقی

Allama Iqbal

3 likes

कुशादा दस्त-ए-करम जब वो बे-नियाज़ करे नियाज़-मंद न क्यूँँ आजिज़ी पे नाज़ करे बिठा के अर्श पे रक्खा है तू ने ऐ वाइ'ज़ ख़ुदा वो क्या है जो बंदों से एहतिराज़ करे मिरी निगाह में वो रिंद ही नहीं साक़ी जो होशियारी ओ मस्ती में इम्तियाज़ करे मुदाम गोश-ब-दिल रह ये साज़ है ऐसा जो हो शिकस्ता तो पैदा नवा-ए-राज़ करे कोई ये पूछे कि वाइ'ज़ का क्या बिगड़ता है जो बे-अमल पे भी रहमत वो बे-नियाज़ करे सुख़न में सोज़ इलाही कहाँ से आता है ये चीज़ वो है कि पत्थर को भी गुदाज़ करे तमीज़-ए-लाला-ओ-गुल से है नाला-ए-बुलबुल जहाँ में वा न कोई चश्म-ए-इम्तियाज़ करे ग़ुरूर-ए-ज़ोहद ने सिखला दिया है वाइ'ज़ को कि बंदगान-ए-ख़ुदा पर ज़बाँ दराज़ करे हवा हो ऐसी कि हिन्दोस्ताँ से ऐ 'इक़बाल' उड़ा के मुझ को ग़ुबार-ए-रह-ए-हिजाज़ करे

Allama Iqbal

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Allama Iqbal.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Allama Iqbal's ghazal.