ghazalKuch Alfaaz

تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد کتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد اتنے چپ چاپ کہ رستے بھی رہیں گے لاعلم چھوڑ جائیں گے کسی روز ن گر شام کے بعد ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ایسے ہی گناہ تیری جدائی ہے وہ ہے وہ کیے چنو طوفاں ہے وہ ہے وہ کوئی چھوڑ دے گھر شام کے بعد شام سے پہلے حقیقت مست اپنی اڑانوں ہے وہ ہے وہ رہا ج سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ تھے ٹوٹے ہوئے پر شام کے بعد رات بیتی تو گنے آبلے اور پھروں سوچا کون تھا باعث آغاز سفر شام کے بعد تو ہے سورج تجھے معلوم ک ہاں رات کا دکھ تو کسی روز مری گھر ہے وہ ہے وہ اتر شام کے بعد لوٹ آئی لگ کسی روز حقیقت آوارہ مزاج کھول رکھتے ہیں اسی آ سے پہ در شام کے بعد

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

اک ہنر ہے جو کر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب کے دل سے اتر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے اپنی ہنسی کو ضبط کروں سن رہا ہوں کہ گھر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا بتاؤں کہ مر نہیں پاتا جیتے جی جب سے مر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب ہے ب سے اپنا سامنا در سانحے ہر کسی سے گزر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی ناز و ادا وہی غمزے سر بسر آپ پر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ غضب الزام ہوں زمانے کا کہ ی ہاں سب کے سر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کبھی خود تک پہنچ نہیں پایا جب کہ واں عمر بھر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے جاناں ملا ہوں ج سے دن سے بے طرح خود سے ڈر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئے جاناں ہے وہ ہے وہ سوگ برپا ہے کہ اچانک سدھر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ

Jaun Elia

51 likes

برسوں پرانا دوست ملا چنو غیر ہوں دیکھا رکا جھجھک کے کہا جاناں عمیر ہوں ملتے ہیں مشکلوں سے ی ہاں ہم خیال لوگ تری تمام چاہنے والوں کی خیر ہوں کمرے ہے وہ ہے وہ سگریٹوں کا دھواں اور تیری مہک چنو شدید دھند ہے وہ ہے وہ باغوں کی سیر ہوں ہم مطمئن بے حد ہیں ا گر خوش نہیں بھی ہیں جاناں خوش ہوں کیا ہوا جو ہمارے بغیر ہوں پیروں ہے وہ ہے وہ ا سے کے سر کو دھریں التجا کریں اک التجا کہ جس کا لگ سر ہوں لگ پیر ہوں

Umair Najmi

59 likes

کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

Vikram Gaur Vairagi

70 likes

More from Farhat Abbas Shah

گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیا جا تجھے آج سے ہم نے اپنے خدا کے حوالے کیا ایک مدت ہوئی ہم نے دنیا کی ہر ایک ضد چھوڑ دی ایک مدت ہوئی ہم نے دل کو وفا کے حوالے کیا ا سے طرح ہم نے تیری محبت زمانے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ دی ج سے طرح گل نے خوشبو کو باد صبا کے حوالے کیا قیامت سی غضب زندگی ہے وہ ہے وہ اک ایسی بھی آئی کہ جب ہم نے چپ چاپ ہاتھوں کو رسم حنا کے حوالے کیا خون نے تیری یادیں سلگتی ہوئی رات کو سونپ دیں آنسوؤں نے ترا درد روکھی ہوا کے حوالے کیا

Farhat Abbas Shah

1 likes

دل بھی آوارہ نظر آوارہ کٹ گیا تو سارا سفر آوارہ زندگی بھٹکا ہوا جنگل ہے راہ بےچین شجر آوارہ روح کی کھڑکی سے ہم جھانکتے ہیں اور لگتا ہے ن گر آوارہ تجھ کو معلوم ک ہاں ہوگا کہ شب کیسے کرتے ہیں بسر آوارہ مجھ کو معلوم ہے اپنے بارے ہوں بے حد اچھا م گر آوارہ یہ ا پیش بات کہ ب سے نغمے لوٹ کے آتے ہیں گھر آوارہ

Farhat Abbas Shah

2 likes

یہ جو زندگی ہے یہ کون ہے یہ جو قیامت ہے یہ کون ہے یہ تمہارے لم سے کو کیا ہوا یہ جو بے حسی ہے یہ کون ہے حقیقت جو مری جیسا تھا کون تھا یہ جو آپ سی ہے یہ کون ہے مری چار سو مری چار سو یہ جو بےکلی ہے یہ کون ہے مری انگ انگ ہے وہ ہے وہ ب سے گئی یہ جو شاعری ہے یہ کون ہے حقیقت جو تیرگی تھی حقیقت کون تھی یہ جو روشنی ہے یہ کون ہے مجھے کیا خبر مجھے کیا پتا یہ جو بے خو گرا ہے یہ کون ہے حقیقت جو غم سے چور تھا کون تھا جو خوشی خوشی ہے یہ کون ہے

Farhat Abbas Shah

1 likes

کہا ہے وہ ہے وہ ک ہاں ہوں جاناں جواب آیا ج ہاں ہوں جاناں مری جیون سے ظاہر ہوں مری غم ہے وہ ہے وہ ن ہاں ہوں جاناں مری تو ساری دنیا ہوں میرا سارا ج ہاں ہوں جاناں مری سوچوں کے محور ہوں میرا زور بیاں ہوں جاناں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو لفظ محبت ہوں م گر مری زبان ہوں جاناں

Farhat Abbas Shah

8 likes

اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے سبھی کو کوئی لگ کوئی وبال درد کا ہے سحر سسکتے ہوئے آسمان سے اتری تو دل نے جان لیا یہ بھی سال درد کا ہے یہ جھانک لیتی ہے دل سے جو دوسرے دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری نگاہ ہے وہ ہے وہ سارا غصہ درد کا ہے اب ا سے کے بعد کوئی رابطہ نہیں رکھنا یہ بات طے ہوئی لیکن سوال درد کا ہے یہ دل یہ اجڑی ہوئی چشم نم یہ تنہائی ہمارے پا سے تو جو بھی ہے مال درد کا ہے لگ جاناں ہے وہ ہے وہ سکھ کی کوئی بات ہے لگ مجھ ہے وہ ہے وہ ہے تمہارا اور میرا ملنا وصال درد کا ہے کسی نے پوچھا کے فرحت بے حد حسین ہوں جاناں تو مسکرا کے کہا سب جمال درد کا ہے

Farhat Abbas Shah

14 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Farhat Abbas Shah.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Farhat Abbas Shah's ghazal.