ghazalKuch Alfaaz

کہا ہے وہ ہے وہ ک ہاں ہوں جاناں جواب آیا ج ہاں ہوں جاناں مری جیون سے ظاہر ہوں مری غم ہے وہ ہے وہ ن ہاں ہوں جاناں مری تو ساری دنیا ہوں میرا سارا ج ہاں ہوں جاناں مری سوچوں کے محور ہوں میرا زور بیاں ہوں جاناں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو لفظ محبت ہوں م گر مری زبان ہوں جاناں

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

More from Farhat Abbas Shah

دل بھی آوارہ نظر آوارہ کٹ گیا تو سارا سفر آوارہ زندگی بھٹکا ہوا جنگل ہے راہ بےچین شجر آوارہ روح کی کھڑکی سے ہم جھانکتے ہیں اور لگتا ہے ن گر آوارہ تجھ کو معلوم ک ہاں ہوگا کہ شب کیسے کرتے ہیں بسر آوارہ مجھ کو معلوم ہے اپنے بارے ہوں بے حد اچھا م گر آوارہ یہ ا پیش بات کہ ب سے نغمے لوٹ کے آتے ہیں گھر آوارہ

Farhat Abbas Shah

2 likes

یہ جو زندگی ہے یہ کون ہے یہ جو قیامت ہے یہ کون ہے یہ تمہارے لم سے کو کیا ہوا یہ جو بے حسی ہے یہ کون ہے حقیقت جو مری جیسا تھا کون تھا یہ جو آپ سی ہے یہ کون ہے مری چار سو مری چار سو یہ جو بےکلی ہے یہ کون ہے مری انگ انگ ہے وہ ہے وہ ب سے گئی یہ جو شاعری ہے یہ کون ہے حقیقت جو تیرگی تھی حقیقت کون تھی یہ جو روشنی ہے یہ کون ہے مجھے کیا خبر مجھے کیا پتا یہ جو بے خو گرا ہے یہ کون ہے حقیقت جو غم سے چور تھا کون تھا جو خوشی خوشی ہے یہ کون ہے

Farhat Abbas Shah

1 likes

گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیا جا تجھے آج سے ہم نے اپنے خدا کے حوالے کیا ایک مدت ہوئی ہم نے دنیا کی ہر ایک ضد چھوڑ دی ایک مدت ہوئی ہم نے دل کو وفا کے حوالے کیا ا سے طرح ہم نے تیری محبت زمانے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ دی ج سے طرح گل نے خوشبو کو باد صبا کے حوالے کیا قیامت سی غضب زندگی ہے وہ ہے وہ اک ایسی بھی آئی کہ جب ہم نے چپ چاپ ہاتھوں کو رسم حنا کے حوالے کیا خون نے تیری یادیں سلگتی ہوئی رات کو سونپ دیں آنسوؤں نے ترا درد روکھی ہوا کے حوالے کیا

Farhat Abbas Shah

1 likes

تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد کتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد اتنے چپ چاپ کہ رستے بھی رہیں گے لاعلم چھوڑ جائیں گے کسی روز ن گر شام کے بعد ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ایسے ہی گناہ تیری جدائی ہے وہ ہے وہ کیے چنو طوفاں ہے وہ ہے وہ کوئی چھوڑ دے گھر شام کے بعد شام سے پہلے حقیقت مست اپنی اڑانوں ہے وہ ہے وہ رہا ج سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ تھے ٹوٹے ہوئے پر شام کے بعد رات بیتی تو گنے آبلے اور پھروں سوچا کون تھا باعث آغاز سفر شام کے بعد تو ہے سورج تجھے معلوم ک ہاں رات کا دکھ تو کسی روز مری گھر ہے وہ ہے وہ اتر شام کے بعد لوٹ آئی لگ کسی روز حقیقت آوارہ مزاج کھول رکھتے ہیں اسی آ سے پہ در شام کے بعد

Farhat Abbas Shah

6 likes

اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے سبھی کو کوئی لگ کوئی وبال درد کا ہے سحر سسکتے ہوئے آسمان سے اتری تو دل نے جان لیا یہ بھی سال درد کا ہے یہ جھانک لیتی ہے دل سے جو دوسرے دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری نگاہ ہے وہ ہے وہ سارا غصہ درد کا ہے اب ا سے کے بعد کوئی رابطہ نہیں رکھنا یہ بات طے ہوئی لیکن سوال درد کا ہے یہ دل یہ اجڑی ہوئی چشم نم یہ تنہائی ہمارے پا سے تو جو بھی ہے مال درد کا ہے لگ جاناں ہے وہ ہے وہ سکھ کی کوئی بات ہے لگ مجھ ہے وہ ہے وہ ہے تمہارا اور میرا ملنا وصال درد کا ہے کسی نے پوچھا کے فرحت بے حد حسین ہوں جاناں تو مسکرا کے کہا سب جمال درد کا ہے

Farhat Abbas Shah

14 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Farhat Abbas Shah.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Farhat Abbas Shah's ghazal.