ghazalKuch Alfaaz

یہ جو زندگی ہے یہ کون ہے یہ جو قیامت ہے یہ کون ہے یہ تمہارے لم سے کو کیا ہوا یہ جو بے حسی ہے یہ کون ہے حقیقت جو مری جیسا تھا کون تھا یہ جو آپ سی ہے یہ کون ہے مری چار سو مری چار سو یہ جو بےکلی ہے یہ کون ہے مری انگ انگ ہے وہ ہے وہ ب سے گئی یہ جو شاعری ہے یہ کون ہے حقیقت جو تیرگی تھی حقیقت کون تھی یہ جو روشنی ہے یہ کون ہے مجھے کیا خبر مجھے کیا پتا یہ جو بے خو گرا ہے یہ کون ہے حقیقت جو غم سے چور تھا کون تھا جو خوشی خوشی ہے یہ کون ہے

Related Ghazal

کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

Vikram Gaur Vairagi

70 likes

سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی

Jaun Elia

77 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

More from Farhat Abbas Shah

دل بھی آوارہ نظر آوارہ کٹ گیا تو سارا سفر آوارہ زندگی بھٹکا ہوا جنگل ہے راہ بےچین شجر آوارہ روح کی کھڑکی سے ہم جھانکتے ہیں اور لگتا ہے ن گر آوارہ تجھ کو معلوم ک ہاں ہوگا کہ شب کیسے کرتے ہیں بسر آوارہ مجھ کو معلوم ہے اپنے بارے ہوں بے حد اچھا م گر آوارہ یہ ا پیش بات کہ ب سے نغمے لوٹ کے آتے ہیں گھر آوارہ

Farhat Abbas Shah

2 likes

کہا ہے وہ ہے وہ ک ہاں ہوں جاناں جواب آیا ج ہاں ہوں جاناں مری جیون سے ظاہر ہوں مری غم ہے وہ ہے وہ ن ہاں ہوں جاناں مری تو ساری دنیا ہوں میرا سارا ج ہاں ہوں جاناں مری سوچوں کے محور ہوں میرا زور بیاں ہوں جاناں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو لفظ محبت ہوں م گر مری زبان ہوں جاناں

Farhat Abbas Shah

8 likes

گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیا جا تجھے آج سے ہم نے اپنے خدا کے حوالے کیا ایک مدت ہوئی ہم نے دنیا کی ہر ایک ضد چھوڑ دی ایک مدت ہوئی ہم نے دل کو وفا کے حوالے کیا ا سے طرح ہم نے تیری محبت زمانے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ دی ج سے طرح گل نے خوشبو کو باد صبا کے حوالے کیا قیامت سی غضب زندگی ہے وہ ہے وہ اک ایسی بھی آئی کہ جب ہم نے چپ چاپ ہاتھوں کو رسم حنا کے حوالے کیا خون نے تیری یادیں سلگتی ہوئی رات کو سونپ دیں آنسوؤں نے ترا درد روکھی ہوا کے حوالے کیا

Farhat Abbas Shah

1 likes

تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد کتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد اتنے چپ چاپ کہ رستے بھی رہیں گے لاعلم چھوڑ جائیں گے کسی روز ن گر شام کے بعد ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ایسے ہی گناہ تیری جدائی ہے وہ ہے وہ کیے چنو طوفاں ہے وہ ہے وہ کوئی چھوڑ دے گھر شام کے بعد شام سے پہلے حقیقت مست اپنی اڑانوں ہے وہ ہے وہ رہا ج سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ تھے ٹوٹے ہوئے پر شام کے بعد رات بیتی تو گنے آبلے اور پھروں سوچا کون تھا باعث آغاز سفر شام کے بعد تو ہے سورج تجھے معلوم ک ہاں رات کا دکھ تو کسی روز مری گھر ہے وہ ہے وہ اتر شام کے بعد لوٹ آئی لگ کسی روز حقیقت آوارہ مزاج کھول رکھتے ہیں اسی آ سے پہ در شام کے بعد

Farhat Abbas Shah

6 likes

اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے سبھی کو کوئی لگ کوئی وبال درد کا ہے سحر سسکتے ہوئے آسمان سے اتری تو دل نے جان لیا یہ بھی سال درد کا ہے یہ جھانک لیتی ہے دل سے جو دوسرے دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری نگاہ ہے وہ ہے وہ سارا غصہ درد کا ہے اب ا سے کے بعد کوئی رابطہ نہیں رکھنا یہ بات طے ہوئی لیکن سوال درد کا ہے یہ دل یہ اجڑی ہوئی چشم نم یہ تنہائی ہمارے پا سے تو جو بھی ہے مال درد کا ہے لگ جاناں ہے وہ ہے وہ سکھ کی کوئی بات ہے لگ مجھ ہے وہ ہے وہ ہے تمہارا اور میرا ملنا وصال درد کا ہے کسی نے پوچھا کے فرحت بے حد حسین ہوں جاناں تو مسکرا کے کہا سب جمال درد کا ہے

Farhat Abbas Shah

14 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Farhat Abbas Shah.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Farhat Abbas Shah's ghazal.