ghazalKuch Alfaaz

اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے سبھی کو کوئی لگ کوئی وبال درد کا ہے سحر سسکتے ہوئے آسمان سے اتری تو دل نے جان لیا یہ بھی سال درد کا ہے یہ جھانک لیتی ہے دل سے جو دوسرے دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری نگاہ ہے وہ ہے وہ سارا غصہ درد کا ہے اب ا سے کے بعد کوئی رابطہ نہیں رکھنا یہ بات طے ہوئی لیکن سوال درد کا ہے یہ دل یہ اجڑی ہوئی چشم نم یہ تنہائی ہمارے پا سے تو جو بھی ہے مال درد کا ہے لگ جاناں ہے وہ ہے وہ سکھ کی کوئی بات ہے لگ مجھ ہے وہ ہے وہ ہے تمہارا اور میرا ملنا وصال درد کا ہے کسی نے پوچھا کے فرحت بے حد حسین ہوں جاناں تو مسکرا کے کہا سب جمال درد کا ہے

Related Ghazal

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

کیا غلط فہمی ہے وہ ہے وہ رہ جانے کا صدمہ کچھ نہیں حقیقت مجھے سمجھا تو سکتا تھا کہ ایسا کچھ نہيں عشق سے بچ کر بھی بندہ کچھ نہیں ہوتا مغر یہ بھی سچ ہے عشق ہے وہ ہے وہ بندے کا اختیار کچھ نہیں جانے کیسے راز سینے ہے وہ ہے وہ لیے بیٹھا ہے حقیقت زہر کھا لیتا ہے پر منا سے اگلتا کچھ نہیں شکر ہے کہ ا سے نے مجھ سے کہ دیا کہ کچھ تو ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے کہنے ہی والا تھا کہ اچھا کچھ نہیں

Tehzeeb Hafi

105 likes

غم کی دولت مفت لٹا دوں بلکل نہیں اشکوں ہے وہ ہے وہ یہ درد بہا دوں بلکل نہیں تو نے تو اوقات دکھا دی ہے اپنی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا گاہے گرا دوں بلکل نہیں ایک نجومی سب کو خواب دکھاتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی اپنا ہاتھ دکھا دوں بلکل نہیں مری اندر اک خموشی چیختی ہے تو کیا ہے وہ ہے وہ بھی شور مچا دوں بلکل نہیں

Mehshar Afridi

49 likes

چھوڑ کر جانے کا جھمکے نہیں ہوتا تھا کوئی بھی زخم ہوں ناسور نہیں ہوتا تھا میرے بھی ہونٹ پہ سگریٹ نہیں ہوتی تھی ا سے کی بھی مانگ ہے وہ ہے وہ سندور نہیں ہوتا تھا عورتیں پیار ہے وہ ہے وہ تب شوق نہیں رکھتی تھی آدمی عشق ہے وہ ہے وہ مزدور نہیں ہوتا تھا

Kushal Dauneria

54 likes

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے

Jaun Elia

88 likes

More from Farhat Abbas Shah

گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیا جا تجھے آج سے ہم نے اپنے خدا کے حوالے کیا ایک مدت ہوئی ہم نے دنیا کی ہر ایک ضد چھوڑ دی ایک مدت ہوئی ہم نے دل کو وفا کے حوالے کیا ا سے طرح ہم نے تیری محبت زمانے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ دی ج سے طرح گل نے خوشبو کو باد صبا کے حوالے کیا قیامت سی غضب زندگی ہے وہ ہے وہ اک ایسی بھی آئی کہ جب ہم نے چپ چاپ ہاتھوں کو رسم حنا کے حوالے کیا خون نے تیری یادیں سلگتی ہوئی رات کو سونپ دیں آنسوؤں نے ترا درد روکھی ہوا کے حوالے کیا

Farhat Abbas Shah

1 likes

دل بھی آوارہ نظر آوارہ کٹ گیا تو سارا سفر آوارہ زندگی بھٹکا ہوا جنگل ہے راہ بےچین شجر آوارہ روح کی کھڑکی سے ہم جھانکتے ہیں اور لگتا ہے ن گر آوارہ تجھ کو معلوم ک ہاں ہوگا کہ شب کیسے کرتے ہیں بسر آوارہ مجھ کو معلوم ہے اپنے بارے ہوں بے حد اچھا م گر آوارہ یہ ا پیش بات کہ ب سے نغمے لوٹ کے آتے ہیں گھر آوارہ

Farhat Abbas Shah

2 likes

یہ جو زندگی ہے یہ کون ہے یہ جو قیامت ہے یہ کون ہے یہ تمہارے لم سے کو کیا ہوا یہ جو بے حسی ہے یہ کون ہے حقیقت جو مری جیسا تھا کون تھا یہ جو آپ سی ہے یہ کون ہے مری چار سو مری چار سو یہ جو بےکلی ہے یہ کون ہے مری انگ انگ ہے وہ ہے وہ ب سے گئی یہ جو شاعری ہے یہ کون ہے حقیقت جو تیرگی تھی حقیقت کون تھی یہ جو روشنی ہے یہ کون ہے مجھے کیا خبر مجھے کیا پتا یہ جو بے خو گرا ہے یہ کون ہے حقیقت جو غم سے چور تھا کون تھا جو خوشی خوشی ہے یہ کون ہے

Farhat Abbas Shah

1 likes

کہا ہے وہ ہے وہ ک ہاں ہوں جاناں جواب آیا ج ہاں ہوں جاناں مری جیون سے ظاہر ہوں مری غم ہے وہ ہے وہ ن ہاں ہوں جاناں مری تو ساری دنیا ہوں میرا سارا ج ہاں ہوں جاناں مری سوچوں کے محور ہوں میرا زور بیاں ہوں جاناں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو لفظ محبت ہوں م گر مری زبان ہوں جاناں

Farhat Abbas Shah

8 likes

آگ ہوں تو جلنے ہے وہ ہے وہ دیر کتنی لگتی ہے برف کے پگھلنے ہے وہ ہے وہ دیر کتنی لگتی ہے چاہے کوئی رک جائے چاہے کوئی رہ جائے قافلو کو چلنے ہے وہ ہے وہ دیر کتنی لگتی ہے چاہے کوئی جیسا بھی ہم سفر ہوں صدیوں سے راستہ بدلنے ہے وہ ہے وہ دیر کتنی لگتی ہے یہ تو سمے کے ب سے ہے وہ ہے وہ ہے کے کتنی مہلت دے ورنا سمے ڈھلنے ہے وہ ہے وہ دیر کتنی لگتی ہے

Farhat Abbas Shah

8 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Farhat Abbas Shah.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Farhat Abbas Shah's ghazal.