ghazalKuch Alfaaz

دل بھی آوارہ نظر آوارہ کٹ گیا تو سارا سفر آوارہ زندگی بھٹکا ہوا جنگل ہے راہ بےچین شجر آوارہ روح کی کھڑکی سے ہم جھانکتے ہیں اور لگتا ہے ن گر آوارہ تجھ کو معلوم ک ہاں ہوگا کہ شب کیسے کرتے ہیں بسر آوارہ مجھ کو معلوم ہے اپنے بارے ہوں بے حد اچھا م گر آوارہ یہ ا پیش بات کہ ب سے نغمے لوٹ کے آتے ہیں گھر آوارہ

Related Ghazal

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

Dagh Dehlvi

84 likes

مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری

Ali Zaryoun

70 likes

تیرا چپ رہنا مری ذہن ہے وہ ہے وہ کیا بیٹھ گیا تو اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلہ بیٹھ گیا تو یوں نہیں ہے کہ فقط ہے وہ ہے وہ ہی اسے چاہتا ہوں جو بھی ا سے پیڑ کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ گیا تو بیٹھ گیا تو اتنا میٹھا تھا حقیقت نبھائیے بھرا لہجہ مت پوچھ ا سے نے ج سے کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا تو اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیں چیختی جاناں رہی اور میرا گلہ بیٹھ گیا تو ا سے کی مرضی حقیقت جسے پا سے بٹھا لے اپنے ا سے پہ کیا لڑنا شہر خاموشاں مری جگہ بیٹھ گیا تو بات دریاؤں کی سورج کی لگ تیری ہے ی ہاں دو قدم جو بھی مری ساتھ چلا بیٹھ گیا تو بزم جاناں ہے وہ ہے وہ نشستیں نہیں ہوتیں مخصوص جو بھی اک بار ج ہاں بیٹھ گیا تو بیٹھ گیا تو

Tehzeeb Hafi

203 likes

ج سے طرح سمے گزرنے کے لیے ہوتا ہے آدمی شکل پہ مرنے کے لیے ہوتا ہے تیری آنکھوں سے ملاقات ہوئی تب یہ کھلا ڈوبنے والا ابھرنے کے لیے ہوتا ہے عشق کیوں پیچھے ہٹا بات نبھانے سے میاں حسن تو خیر مکرنے کے لیے ہوتا ہے آنکھ ہوتی ہے کسی راہ کو تکنے کے لیے دل کسی پاؤں پہ دھرنے کے لیے ہوتا ہے دل کی دہلی کا چناؤ ہی ا پیش ہے صاحب جب بھی ہوتا ہے یہ ہَرنے کے لیے ہوتا ہے کوئی بستی ہوں اجڑنے کے لیے بستی ہے کوئی مجمع ہوں گزرا کے لیے ہوتا ہے

Ali Zaryoun

61 likes

More from Farhat Abbas Shah

گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیا جا تجھے آج سے ہم نے اپنے خدا کے حوالے کیا ایک مدت ہوئی ہم نے دنیا کی ہر ایک ضد چھوڑ دی ایک مدت ہوئی ہم نے دل کو وفا کے حوالے کیا ا سے طرح ہم نے تیری محبت زمانے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ دی ج سے طرح گل نے خوشبو کو باد صبا کے حوالے کیا قیامت سی غضب زندگی ہے وہ ہے وہ اک ایسی بھی آئی کہ جب ہم نے چپ چاپ ہاتھوں کو رسم حنا کے حوالے کیا خون نے تیری یادیں سلگتی ہوئی رات کو سونپ دیں آنسوؤں نے ترا درد روکھی ہوا کے حوالے کیا

Farhat Abbas Shah

1 likes

تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد کتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد اتنے چپ چاپ کہ رستے بھی رہیں گے لاعلم چھوڑ جائیں گے کسی روز ن گر شام کے بعد ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ایسے ہی گناہ تیری جدائی ہے وہ ہے وہ کیے چنو طوفاں ہے وہ ہے وہ کوئی چھوڑ دے گھر شام کے بعد شام سے پہلے حقیقت مست اپنی اڑانوں ہے وہ ہے وہ رہا ج سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ تھے ٹوٹے ہوئے پر شام کے بعد رات بیتی تو گنے آبلے اور پھروں سوچا کون تھا باعث آغاز سفر شام کے بعد تو ہے سورج تجھے معلوم ک ہاں رات کا دکھ تو کسی روز مری گھر ہے وہ ہے وہ اتر شام کے بعد لوٹ آئی لگ کسی روز حقیقت آوارہ مزاج کھول رکھتے ہیں اسی آ سے پہ در شام کے بعد

Farhat Abbas Shah

6 likes

یہ جو زندگی ہے یہ کون ہے یہ جو قیامت ہے یہ کون ہے یہ تمہارے لم سے کو کیا ہوا یہ جو بے حسی ہے یہ کون ہے حقیقت جو مری جیسا تھا کون تھا یہ جو آپ سی ہے یہ کون ہے مری چار سو مری چار سو یہ جو بےکلی ہے یہ کون ہے مری انگ انگ ہے وہ ہے وہ ب سے گئی یہ جو شاعری ہے یہ کون ہے حقیقت جو تیرگی تھی حقیقت کون تھی یہ جو روشنی ہے یہ کون ہے مجھے کیا خبر مجھے کیا پتا یہ جو بے خو گرا ہے یہ کون ہے حقیقت جو غم سے چور تھا کون تھا جو خوشی خوشی ہے یہ کون ہے

Farhat Abbas Shah

1 likes

کہا ہے وہ ہے وہ ک ہاں ہوں جاناں جواب آیا ج ہاں ہوں جاناں مری جیون سے ظاہر ہوں مری غم ہے وہ ہے وہ ن ہاں ہوں جاناں مری تو ساری دنیا ہوں میرا سارا ج ہاں ہوں جاناں مری سوچوں کے محور ہوں میرا زور بیاں ہوں جاناں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو لفظ محبت ہوں م گر مری زبان ہوں جاناں

Farhat Abbas Shah

8 likes

اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے سبھی کو کوئی لگ کوئی وبال درد کا ہے سحر سسکتے ہوئے آسمان سے اتری تو دل نے جان لیا یہ بھی سال درد کا ہے یہ جھانک لیتی ہے دل سے جو دوسرے دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری نگاہ ہے وہ ہے وہ سارا غصہ درد کا ہے اب ا سے کے بعد کوئی رابطہ نہیں رکھنا یہ بات طے ہوئی لیکن سوال درد کا ہے یہ دل یہ اجڑی ہوئی چشم نم یہ تنہائی ہمارے پا سے تو جو بھی ہے مال درد کا ہے لگ جاناں ہے وہ ہے وہ سکھ کی کوئی بات ہے لگ مجھ ہے وہ ہے وہ ہے تمہارا اور میرا ملنا وصال درد کا ہے کسی نے پوچھا کے فرحت بے حد حسین ہوں جاناں تو مسکرا کے کہا سب جمال درد کا ہے

Farhat Abbas Shah

14 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Farhat Abbas Shah.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Farhat Abbas Shah's ghazal.