ghazalKuch Alfaaz

vaqt ki taaq pe donon ki sajai hui raat kis pe kharchi hai bata meri kamai hui raat aur phir yuun hua ankhon ne lahu barsaya yaad aai koi barish men bitai hui raat hijr ke ban men hiran apna bhi mera hi gaya usrat-e-ram se bahar-hal rihai hui raat tu to ik lafz-e-mohabbat ko liye baitha hai to kahan jaati mire jism pe aai hui raat dil ko chain aaya to uthne laga taron ka ghhubar subh le nikli mire haath men aai hui raat aur phir niind hi aai na koi khvab aaya main ne chahi thi mire khvab men aai hui raat waqt ki taq pe donon ki sajai hui raat kis pe kharchi hai bata meri kamai hui raat aur phir yun hua aankhon ne lahu barsaya yaad aai koi barish mein bitai hui raat hijr ke ban mein hiran apna bhi mera hi gaya usrat-e-ram se bahar-haal rihai hui raat tu to ek lafz-e-mohabbat ko liye baitha hai to kahan jati mere jism pe aai hui raat dil ko chain aaya to uthne laga taron ka ghubar subh le nikli mere hath mein aai hui raat aur phir nind hi aai na koi khwab aaya main ne chahi thi mere khwab mein aai hui raat

Related Ghazal

ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا

Tehzeeb Hafi

241 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

آئینے آنکھ ہے وہ ہے وہ چبھتے تھے بستر سے بدن کترا تا تھا ایک یاد بسر کرتی تھی مجھے ہے وہ ہے وہ سان سے نہیں لے پاتا تھا ایک شخص کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ تھا سب کچھ میرا کھلنا بھی مرجھانا بھی روتا تھا تو رات اجڑ جاتی ہنستا تھا تو دن بن جاتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ رب سے رابطے ہے وہ ہے وہ رہتا ممکن ہے کی ا سے سے رابطہ ہوں مجھے ہاتھ اٹھانا پڑتے تھے تب جا کر حقیقت فون اٹھاتا تھا مجھے آج بھی یاد ہے بچپن ہے وہ ہے وہ کبھی ا سے پر نظر ا گر پڑتی مری گدا سے پھول برستے تھے مری تختی پہ دل بن جاتا تھا ہم ایک زندان ہے وہ ہے وہ زندہ تھے ہم ایک زنجیر ہے وہ ہے وہ بڑھے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہم کبھی زار تھے تو رونا آتا تھا حقیقت جسم دلائیں نہیں ہوں پاتا تھا ان آنکھوں سے مجرم ٹھہراتا تھا اپنا کہنے کو تو گھر ٹھہراتا تھا

Tehzeeb Hafi

129 likes

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے

Ahmad Faraz

65 likes

More from Vipul Kumar

شہر چھوؤں گا سے حقیقت باریک سڑک جاتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے اک پاؤں ٹکاتا ہوں تڑک جاتی ہے اور پیوسٹ ہوا جاتا ہے پتھر ہے وہ ہے وہ چراغ لگ کے ا سے ہاتھ سے لو اور بھڑک جاتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ برا چور نہیں ہوں م گر ا سے کوچے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل دھڑک جاتا ہے پا پوش کھڑک جاتی ہے پھول خوشبو سے بگڑتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی لے چل اور جھونکے سے حقیقت دامن کو جھڑک جاتی ہے خواب کا رزق ہوئی جاتی ہے بیداری کی عمر نیند کیا چیز ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ رڑک جاتی ہے

Vipul Kumar

2 likes

سمے کی طاق پہ دونوں کی سجائی ہوئی رات ک سے پہ خرچی ہے بتا مری کمائی ہوئی رات اور پھروں یوں ہوا آنکھوں نے لہو برسایا یاد آئی کوئی بارش ہے وہ ہے وہ بتائی ہوئی رات ہجر کے بن ہے وہ ہے وہ ہرن اپنا بھی میرا ہی گیا تو عسرت رم سے بہر حال رہائی ہوئی رات تو تو اک لفظ محبت کو لیے بیٹھا ہے تو ک ہاں جاتی مری جسم پہ آئی ہوئی رات دل کو چین آیا تو اٹھنے لگا تاروں کا غمدیدہ صبح لے نکلی مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ آئی ہوئی رات اور پھروں نیند ہی آئی لگ کوئی خواب آیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چاہی تھی مری خواب ہے وہ ہے وہ آئی ہوئی رات

Vipul Kumar

4 likes

فرض سپردگی ہے وہ ہے وہ تقاضے نہیں ہوئے تری ک ہاں سے ہوں کہ ہم اپنے نہیں ہوئے کچھ قرض اپنی ذات کے ہوں بھی گئے وصول چنو تری سپرد تھے ویسے نہیں ہوئے اچھا ہوا کہ ہم کو مرض لا دوا ملا اچھا نہیں ہوا کہ ہم اچھے نہیں ہوئے ا سے کے بدن کا موڈ بڑا خوش گوار ہے ہم بھی سفر ہے وہ ہے وہ عمر سے ٹھہرے نہیں ہوئے اک روز کھیل کھیل ہے وہ ہے وہ ہم ا سے کے ہوں گئے اور پھروں تمام عمر کسی کے نہیں ہوئے ہم آ کے تیری بزم ہے وہ ہے وہ بے شک ہوئے ذلیل جتنے گناہگار تھے اتنے نہیں ہوئے ا سے بار جنگ ا سے سے رعونت کی تھی سو ہم اپنی انا کے ہوں گئے ا سے کے نہیں ہوئے

Vipul Kumar

2 likes

جلد آئیں جنہیں سینے سے لگانا ہے مجھے پھروں بدن اور کہیں کام ہے وہ ہے وہ لانا ہے مجھے عشق پاؤں سے لپٹتا ہے تو رک جاتا ہوں ورنہ جاناں ہوں تو تمہیں چھوڑ کے جانا ہے مجھے میرے ہاتھوں کو خدا رکھے تری جسم کی خیر مسئلہ یہ ہے تجھے ہاتھ لگانا ہے مجھے دل کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے حقیقت جان نہ لے اور پھروں جبر تو یہ ہے کہ بتانا ہے مجھے مانگ لیتا ہوں تری غم سے ذرا سرداری ایک دنیا ہے جسے دل سے اٹھانا ہے مجھے

Vipul Kumar

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Vipul Kumar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Vipul Kumar's ghazal.