ghazalKuch Alfaaz

ye qarz to mera hai chukaega koi aur dukh mujh ko hai aur niir bahaega koi aur kya phir yunhi di jaegi ujrat pe gavahi kya teri saza ab ke bhi paega koi aur anjam ko pahunchunga main anjam se pahle khud meri kahani bhi sunaega koi aur tab hogi khabar kitni hai raftar-e-taghhayyur jab shaam dhale laut ke aaega koi aur ummid-e-sahar bhi to virasat men hai shamil shayad ki diya ab ke jalaega koi aur kab bar-e-tabassum mire honton se uthega ye bojh bhi lagta hai uthaega koi aur is baar huun dushman ki rasai se bahut duur is baar magar zakhm lagaega koi aur shamil pas-e-parda bhi hain is khel men kuchh log bolega koi hont hilaega koi aur ye qarz to mera hai chukaega koi aur dukh mujh ko hai aur nir bahaega koi aur kya phir yunhi di jaegi ujrat pe gawahi kya teri saza ab ke bhi paega koi aur anjam ko pahunchunga main anjam se pahle khud meri kahani bhi sunaega koi aur tab hogi khabar kitni hai raftar-e-taghayyur jab sham dhale laut ke aaega koi aur ummid-e-sahar bhi to wirasat mein hai shamil shayad ki diya ab ke jalaega koi aur kab bar-e-tabassum mere honton se uthega ye bojh bhi lagta hai uthaega koi aur is bar hun dushman ki rasai se bahut dur is bar magar zakhm lagaega koi aur shamil pas-e-parda bhi hain is khel mein kuchh log bolega koi hont hilaega koi aur

Related Ghazal

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

More from Aanis Moin

وہ میرے حال پہ رویا بھی مسکرایا بھی عجیب شخص ہے اپنا بھی ہے پرایا بھی یہ انتظار سحر کا تھا یا تمہارا تھا دیا جلایا بھی میں نے دیا بجھایا بھی میں چاہتا ہوں ٹھہر جائے چشم دریا میں لرزتا عکس تمہارا بھی میرا سایہ بھی بہت مہین تھا پردہ لرزتی آنکھوں کا مجھے دکھایا بھی تو نے مجھے چھپایا بھی بیاض بھر بھی گئی اور پھروں بھی سادہ ہے تمہارے نام کو لکھا بھی اور مٹایا بھی

Aanis Moin

5 likes

حقیقت کچھ گہری سوچ ہے وہ ہے وہ ایسے ڈوب گیا تو ہے بیٹھے بیٹھے ن گرا کنارے ڈوب گیا تو ہے آج کی رات لگ جانے کتنی لمبی ہوں گی آج کا سورج شام سے پہلے ڈوب گیا تو ہے حقیقت جو پیاسا لگتا تھا سیلاب زدہ تھا پانی پانی کہتے کہتے ڈوب گیا تو ہے مری اپنے اندر ایک بھنور تھا ج سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا سب کچھ ساتھ ہی مری ڈوب گیا تو ہے شور تو یوں دل گیر تھا چنو اک طوفاں ہوں سناٹے ہے وہ ہے وہ جانے کیسے ڈوب گیا تو ہے آخری خواہش پوری کر کے جینا کیسا آن سے بھی ساحل تک آ کے ڈوب گیا تو ہے

Aanis Moin

0 likes

باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہے دریا کے ا سے پار بھی گہرا سناٹا ہے شور تھمے تو شاید صدیاں بیت چکی ہیں اب تک لیکن سہما سہما سناٹا ہے ک سے سے بولوں یہ تو اک صحرا ہے ج ہاں پر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں یا پھروں گونگا بہرا سناٹا ہے چنو اک طوفان سے پہلے کی خموشی آج مری بستی ہے وہ ہے وہ ایسا سناٹا ہے نئی سحر کی چاپ لگ جانے کب ابھرے گی چاروں جانب رات کا گہرا سناٹا ہے سوچ رہے ہوں سوچو لیکن بول لگ کھائےگی دیکھ رہے ہوں شہر ہے وہ ہے وہ کتنا سناٹا ہے محو خواب ہیں ساری دیکھنے والی آنکھیں جاگنے والا ب سے اک اندھا سناٹا ہے ڈرنا ہے تو ان جانی آواز سے ڈرنا یہ تو آن سے دیکھا بھالا سناٹا ہے

Aanis Moin

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Aanis Moin.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Aanis Moin's ghazal.