یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں اسے ڈھونڈے کہ ا سے کو بھول جائیں خیالوں کی گھنی خاموشیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھلی جاتی ہیں لفظوں کی صدائیں یہ رستے رہرووں سے بھاگتے ہیں ی ہاں چھپ چھپ کے چلتی ہیں ہوائیں یہ پانی خموشی سے بہ رہا ہے اسے دیکھیں کہ ا سے ہے وہ ہے وہ ڈوب جائیں جو غم جلتے ہیں شعروں کی چتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا نہیں پھروں اپنے سینے سے لگائیں چلو ایسا مکان آباد کر لیں ج ہاں لوگوں کی آوازیں لگ آئیں یہ پانی خموشی سے بہ رہا ہے اسے دیکھیں کہ ا سے ہے وہ ہے وہ ڈوب جائیں جو غم جلتے ہیں شعروں کی چتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا نہیں پھروں اپنے سینے سے لگائیں چلو ایسا مکان آباد کر لیں ج ہاں لوگوں کی آوازیں لگ آئیں
Related Ghazal
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے
Ahmad Faraz
65 likes
آئینے آنکھ ہے وہ ہے وہ چبھتے تھے بستر سے بدن کترا تا تھا ایک یاد بسر کرتی تھی مجھے ہے وہ ہے وہ سان سے نہیں لے پاتا تھا ایک شخص کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ تھا سب کچھ میرا کھلنا بھی مرجھانا بھی روتا تھا تو رات اجڑ جاتی ہنستا تھا تو دن بن جاتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ رب سے رابطے ہے وہ ہے وہ رہتا ممکن ہے کی ا سے سے رابطہ ہوں مجھے ہاتھ اٹھانا پڑتے تھے تب جا کر حقیقت فون اٹھاتا تھا مجھے آج بھی یاد ہے بچپن ہے وہ ہے وہ کبھی ا سے پر نظر ا گر پڑتی مری گدا سے پھول برستے تھے مری تختی پہ دل بن جاتا تھا ہم ایک زندان ہے وہ ہے وہ زندہ تھے ہم ایک زنجیر ہے وہ ہے وہ بڑھے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہم کبھی زار تھے تو رونا آتا تھا حقیقت جسم دلائیں نہیں ہوں پاتا تھا ان آنکھوں سے مجرم ٹھہراتا تھا اپنا کہنے کو تو گھر ٹھہراتا تھا
Tehzeeb Hafi
129 likes
More from Ahmad Mushtaq
خون دل سے کشت غم کو سینچتا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خالی کاغذ پر لکیرے کھینچتا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج سے مجھ پر مکمل ہوں گیا تو دین فراق ہاں تصور ہے وہ ہے وہ بھی اب تجھ سے جدا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو دیار حسن ہے اونچی رہے تیری فصیل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں دروازہ محبت کا کھلا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شام تک کھینچے لیے پھرتے ہیں ا سے دنیا کے کام صبح تک فرش ندامت پر پڑا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں کبھی مجھ پر بھی ہوں جاتا ہے موسم کا اثر ہاں کسی دن شاکی آب و ہوا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اہل دنیا سے تعلق قطع ہوتا ہی نہیں بھول جانے پر بھی منزل عشق و توکل رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ
Ahmad Mushtaq
0 likes
اب لگ بہل سکےگا دل اب لگ دیے جلائیے عشق و ہوں سے ہیں سب فریب آپ سے کیا چھپائیے ا سے نے کہا کہ یاد ہیں رنگ طلوع عشق کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کہ چھوڑیے اب ا نہیں بھول جائیے کیسے نفی سے تھے مکان صاف تھا کتنا آ سماں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کہ حقیقت سماں آج ک ہاں سے لائیے کچھ تو سراغ مل سکے موسم درد ہجر کا سنگ جمال یار پر نقش کوئی بنائیے کوئی شرر نہیں بچا پچھلے بر سے کی راکھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم نفساں شعلہ خو آگ نئی جلائیے
Ahmad Mushtaq
0 likes
شبنم کو ریت پھول کو کانٹا بنا دیا ہم نے تو اپنے باغ کو صحرا بنا دیا ا سے اونچ نیچ پر تو ٹھہرتے نہیں تھے پاؤں ک سے دست شوق نے اسے دنیا بنا دیا کن مٹھیوں نے بیج ناری زمین پر کن بارشوں نے ا سے کو تماشا بنا دیا سیراب کر دیا تری موج خرام نے رکھا ج ہاں قدم و ہاں دریا بنا دیا اک رات چاندنی مری بستر پہ آئی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے قبائیں کر ترا چہرہ بنا دیا پوچھے ا گر کوئی تو اسے کیا بتاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کیا تھا تری غم نے اسے کیا بنا دیا
Ahmad Mushtaq
0 likes
چاند ا سے گھر کے دریچوں کے برابر آیا دل مشتاق ٹھہر جا وہی منظر آیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد خوش تھا کڑی دھوپ کے سناٹے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیوں تری یاد کا بادل مری سر پر آیا بجھ گئی رونق پروا لگ تو محفل چمکی سو گئے اہل تمنا تو ستم گر آیا یار سب جمع ہوئے رات کی خموشی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی رو کر تو کوئی بال بنا کر آیا
Ahmad Mushtaq
0 likes
یہ کون خواب ہے وہ ہے وہ چھو کر چلا گیا تو مری لب پکارتا ہوں تو دیتے نہیں صدا مری لب یہ اور بات کسی کے لبوں تلک لگ گئے م گر قریب سے گزرے ہیں بارہا مری لب اب ا سے کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے حقیقت ج سے کے نام سے ہوتے لگ تھے جدا مری لب اب ایک عمر سے گفت و شنید بھی تو نہیں ہیں بے نصیب مری کان بے نوا مری لب یہ شاخسا لگ وہم و گمان تھا شاید کجا حقیقت ثمرہ باغ طلب کجا مری لب
Ahmad Mushtaq
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Mushtaq.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Mushtaq's ghazal.







