ghazalKuch Alfaaz

یوں اپنی پیا سے کی خود ہی کہانی لکھ رہے تھے ہم سلگتی ریت پہ انگلی سے پانی لکھ رہے تھے ہم میاں ب سے موت ہی سچ ہے و ہاں یہ لکھ گیا تو کوئی ج ہاں پر زندگانی زندگانی لکھ رہے تھے ہم ملے تجھ سے تو دنیا کو سہانی لکھ دیا ہم نے وگر لگ کب سے ا سے کو بے معنی لکھ رہے تھے ہم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ گر پڑی کل رات حقیقت دیوار رو رو کر کہ ج سے پہ اپنے ماضی کی کہانی لکھ رہے تھے ہم

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Varun Anand

کہی لگ ایسا ہوں اپنا نظیر و کھا جائے اڑائے سے پھول بچائیں بہار کھا جائے ہمارے جیسا ک ہاں دل کسی کا ہوگا بھلا جو درد پالے رکھے اور قرار کھا جائے پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں کہ ہے وہ ہے وہ حقیقت قی سے نہیں ہاں جو مار کھا جائے اسی کا داخلہ ا سے دشت ہے وہ ہے وہ کروں اب سے جو دل پامال پی سکے اپنا غمدیدہ کھا جائے بے حد قرار ہے تھوڑی سی بے قراری دے کہی لگ ایسا ہوں مجھ کو قرار کھا جائے غضب سفی لگ ہے یہ سمے کا سفی لگ بھی جو اپنی گود ہے وہ ہے وہ بیٹھا سوار کھا جائے

Varun Anand

11 likes

یہ شوخیاں یہ جوانی ک ہاں سے لائیں ہم تمہارے حسن کا ثانی ک ہاں سے لائیں ہم محبتیں حقیقت پرانی ک ہاں سے لائیں ہم رکی ن گرا ہے وہ ہے وہ روانی ک ہاں سے لائیں ہم ہماری آنکھ ہے پیوسٹ ایک صحرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب ایسی آنکھ ہے وہ ہے وہ پانی ک ہاں سے لائیں ہم ہر ایک لفظ کے معنی تلاشتے ہوں جاناں ہر ایک لفظ کا معنی ک ہاں سے لائیں ہم چلو بتا دیں زمانے کو اپنے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ روز جھوٹی کہانی ک ہاں سے لائیں ہم

Varun Anand

13 likes

مرہم کے نہیں ہیں یہ طرف دار نمک کے نکلے ہیں مری زخم طلبگار نمک کے آیا کوئی سیلاب کہانی ہے وہ ہے وہ اچانک اور گھل گئے پانی ہے وہ ہے وہ حقیقت کردار نمک کے دونوں ہی کناروں پہ تھی بیماروں کی مجلس اس کا کا پار تھے میٹھے کے تو اس کا پار نمک کے اس کا کا نے ہی دیے زخم یہ گردن پہ ہماری پھروں اس کا نے ہی پہنائے ہمیں ہار نمک کے کہتی تھی غزل مجھ کو ہے مرہم کی ضرورت اور دیتے رہے سب اسے اشعار نمک کے جس سمت ملا کرتی تھیں زخموں کی دوائیں سنتے ہیں کہ اب ہیں وہاں بازار نمک کے

Varun Anand

9 likes

وفا خلوص مدد دیکھ بھال بھول گئے اب ایسے لفظوں کا سب استعمال بھول گئے منانا روٹھنا ہجر و وصال بھول گئے سبھی محبتوں کا استعمال بھول گئے نظر کے سامنے حقیقت با غصہ کیا آیا ہم اپنے حصے کے سارے غصہ بھول گئے قف سے ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو جی آخرش پرندوں کا ج ہاں سے آئی تھے حقیقت ڈال وال بھول گئے فتور پھروں سے چڑھا ہے نئی محبت کا جناب پچھلی محبت کا حال بھول گئے پھروں ا سے نے سوچ سمجھ کر اک ایسی چال چلی کہ ج سے کو دیکھ کے سب اپنی چال بھول گئے دیے جلانے تھے پر دل جلا دیے ہم نے ہم اپنے فن کا صحیح استعمال بھول گئے

Varun Anand

9 likes

مرہم کے نہیں ہیں یہ طرف دار نمک کے نکلے ہیں مری زخم طلبگار نمک کے آیا کوئی سیلاب کہانی ہے وہ ہے وہ اچانک اور گھل گئے پانی ہے وہ ہے وہ حقیقت کردار نمک کے دونوں ہی کناروں پہ تھی بیماروں کی مجلس اس کا کا پار تھے میٹھے کے تو اس کا پار نمک کے اس کا کا نے ہی دیے زخم یہ گردن پہ ہماری پھروں اس کا نے ہی پہنائے ہمیں ہار نمک کے کہتی تھی غزل مجھ کو ہے مرہم کی ضرورت اور دیتے رہے سب اسے اشعار نمک کے جس سمت ملا کرتی تھیں زخموں کی دوائیں سنتے ہیں کہ اب ہیں وہاں بازار نمک کے

Varun Anand

12 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Varun Anand.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Varun Anand's ghazal.