زندگی یہ تو نہیں تجھ کو سنوارا ہی لگ ہوں کچھ لگ کچھ ہم نے ترا قرض اتارا ہی لگ ہوں دل کو چھو جاتی ہے یوں رات کی آواز کبھی چونک اٹھتا ہوں کہی تو نے پکارا ہی لگ ہوں کبھی پلکوں پہ چمکتی ہوئی ہے جو اشکوں کی لکیر سوچتا ہوں تری آنچل کا کنارہ ہی لگ ہوں زندگی ایک خلش دے کے لگ رہ جا مجھ کو درد حقیقت دے جو کسی طرح بے شرط ہی لگ ہوں شرم آتی ہے کہ ا سے شہر ہے وہ ہے وہ ہم ہیں کہ ج ہاں لگ ملے بھیک تو لاکھوں کا گزارا ہی لگ ہوں
Related Ghazal
غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی
Zubair Ali Tabish
80 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
More from Jaan Nisar Akhtar
ذرا سی بات پہ ہر رسم توڑ آیا تھا دل تباہ نے بھی کیا مزاج پایا تھا گزر گیا تو ہے کوئی لمحہ شرر کی طرح ابھی تو ہے وہ ہے وہ اسے پہچان بھی نہ پایا تھا معاف کر نہ سکی میری زندگی مجھ کو حقیقت ایک لمحہ کہ ہے وہ ہے وہ تجھ سے تنگ آیا تھا شگفتہ پھول سمٹ کر کلی بنے چنو کچھ ای سے کمال سے تو نے بدن چرایا تھا پتا نہیں کہ مری بعد ان پہ کیا گزری ہے وہ ہے وہ ہے وہ چند خواب زمانے ہے وہ ہے وہ چھوڑ آیا تھا
Jaan Nisar Akhtar
2 likes
زندگی تجھ کو بھلایا ہے بے حد دن ہم نے سمے خوابوں ہے وہ ہے وہ گنوایا ہے بے حد دن ہم نے اب یہ نیکی بھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرم نظر آتی ہے سب کے ایبوں کو چھپایا ہے بے حد دن ہم نے جاناں بھی ا سے دل کو دکھا لو تو کوئی بات نہیں اپنا دل آپ دکھایا ہے بے حد دن ہم نے مدتوں ترک تمنا پہ لہو رویا ہے عشق کا قرض چکایا ہے بے حد دن ہم نے کیا پتا ہوں بھی سکے ا سے کی تلافی کہ نہیں شاعری تجھ کو گنوایا ہے بے حد دن ہم نے
Jaan Nisar Akhtar
1 likes
مے کشی اب مری عادت کے سوا کچھ بھی نہیں یہ بھی اک تلخ حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں فت لگ عقل کے جویا مری دنیا سے گزر مری دنیا ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا کچھ بھی نہیں دل ہے وہ ہے وہ حقیقت شورش جذبات ک ہاں تری بغیر ایک خاموش خوشگوار کے سوا کچھ بھی نہیں مجھ کو خود اپنی جوانی کی قسم ہے کہ یہ عشقاک جوانی کی شرارت کے سوا کچھ بھی نہیں
Jaan Nisar Akhtar
0 likes
ہر ایک بے وجہ پریشان و در بدر سا لگے یہ شہر مجھ کو تو یاروں کوئی بھنور سا لگے اب ا سے کے طرز تجاہل کو کیا کہے کوئی حقیقت بے خبر تو نہیں پھروں بھی بے خبر سا لگے ہر ایک غم کو خوشی کی طرح برتنا ہے یہ دور حقیقت ہے کہ جینا بھی اک ہنر سا لگے نشاط صحبت رنداں بے حد غنیمت ہے کہ لمحہ لمحہ پرآشوب و پرخطر سا لگے کسے خبر ہے کہ دنیا کا حشر کیا ہوگا کبھی کبھی تو مجھے آدمی سے ڈر سا لگے حقیقت تند سمے کی رو ہے کہ پاؤں ٹک لگ سکیں ہر آدمی کوئی اکھڑا ہوا شجر سا لگے جہان نو کے مکمل سنگار کی خاطر ص گرا ص گرا کا زما لگ بھی بڑھوا سا لگے
Jaan Nisar Akhtar
0 likes
چونک چونک اٹھتی ہے محلوں کی فضا رات گئے کون دیتا ہے یہ گلیوں ہے وہ ہے وہ صدا رات گئے یہ حقائق کی چٹانوں سے تراشی دنیا اوڑھ لیتی ہے طلسموں کی ردا رات گئے چبھ کے رہ جاتی ہے سینے ہے وہ ہے وہ بدن کی خوشبو کھول دیتا ہے کوئی بند قبا رات گئے آؤ ہم جسم کی شمعوں سے اجالا کر لیں چاند نکلا بھی تو نکلےگا ذرا رات گئے تو لگ اب آئی تو کیا آج تلک آتی ہے سیڑھیوں سے تری قدموں کی صدا رات گئے
Jaan Nisar Akhtar
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Jaan Nisar Akhtar.
Similar Moods
More moods that pair well with Jaan Nisar Akhtar's ghazal.







