محبت ہم جو تری دل ہے وہ ہے وہ سمائے ہے ی ہاں سے ہجرت کر جائیں گے ایک سمے قیامت کو آنا ہے یہ ستارے تم بجھا دیے جائیں گے مری آنکھیں ایک دریا ہے ہم کبھی سیلاب لائیں گے جاناں ا گر کہو ہم سے ملنا ہے ہم پہاڑوں کا سینا چیر کر آئیں گے موت آنے کی ہزار ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں ہم محبت ہے وہ ہے وہ مارے جائیں گے
Related Nazm
جذبات جو یہ آنکھوں سے بہ رہا ہے کتنے ہم لاچار ہے جاناں سمجھو تو انتظار ہے ورنا کوئی انتظار نہیں تمہاری یاد ہے وہ ہے وہ ایسے ڈوبا چنو کوئی بیمار ہے جاناں سمجھو تو بے قرار ہے ورنا کوئی بے قرار نہیں جو مری دھڑکن چل رہی ہے ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے تمہارا نام ہے جاناں سمجھو تو یہ پکار ہے ورنا کوئی پکار نہیں ان ہاتھوں سے تمہاری زلفیں سنو ارنی ہیں ہر شام تمہارے ساتھ گزار لگ ہے جاناں سمجھو تو یہ دلار ہے ورنا کوئی دلار نہیں تمہارے ب سے دل ہے وہ ہے وہ جگہ نہیں تمہاری روح سے رشتہ چاہیے جاناں سمجھو تو یہ آر پار ہے ورنا کچھ آر پار نہیں تمہیں مل تو جائےگا مجھ سے اچھا سامنے تمہارے تو قطار ہے تمہیں پتا ہے نا تمہاری چاہت کا ب سے ایک حق دار ہے باقی کوئی حق دار نہیں تمہاری بان ہوں ہے وہ ہے وہ ہی سکون ملےگا مجھے سچ ک ہوں تو درکار ہے جاناں سمجھو تو یہ بہار ہے ورنا کہی بہار نہیں تمہاری گود ہے وہ ہے وہ آرام چاہیے تمہاری آواز ہے وہ ہے وہ ب سے اپنا نام چاہیے جاناں سمجھو تو یہ قرار ہے<br
Divya 'Kumar Sahab'
37 likes
میرا سنسر میرے من کا سکون بھی جاناں ہوں جاناں ہی میری منزل اس کا کا کا جنون بھی جاناں ہوں میرا دن بھی جاناں ہوں میری رات بھی جاناں ہوں میری نیند بھی جاناں ہوں میرے جذبات بھی جاناں ہوں میرا ہر لمحہ جاناں ہوں میرے حالات بھی جاناں ہوں میرا جیون بھی جاناں ہوں اس کی مستی بھی جاناں ہوں ہوں اگر ہے وہ ہے وہ منجھدار تو پھروں اس کی کشتی بھی جاناں ہوں اگر ہوں ہے وہ ہے وہ شریر تو اس کی استھی بھی جاناں ہوں اور ہوں اگر ہے وہ ہے وہ آتما تو اس کی مکتی بھی جاناں ہوں میرا ویراغیا بھی جاناں ہوں میری آسکتی بھی جاناں ہوں میرا ایشور بھی جاناں ہوں میری بھکتی بھی جاناں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر دل ہوں تو اس کی دھڑکن بھی جاناں ہوں میری ہر بات جاناں ہوں میری تڑپن بھی جاناں ہوں میری سوتنترتا بھی جاناں ہوں میرا بندھن بھی جاناں ہوں میرا سکھ بھی جاناں ہوں میری مسکان بھی جاناں ہوں میرا دکھ بھی جاناں ہوں میرا سممان بھی جاناں ہوں میرا بل بھی جاناں ہوں میرا سوابھیمان بھی جاناں ہوں میری پرارتھنا بھی جاناں ہ
Divya 'Kumar Sahab'
37 likes
تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا
Kumar Vishwas
81 likes
حال دل میری دلربا جاناں خوبصورت ہوں صورت سے نہیں سیرت سے مجھے تمہاری سیرت سے محبت ہے اسیلیے سیرت کا جانتا ہوں شرم دہشت پریشانی جنہیں سخن وروں کویوں نے عشق کی لذت بتایا ہے فیلحال یہ میرے درمیان آ رہے ہیں بہرحال میری چاہتیں تمہارے نفس ہے وہ ہے وہ دھڑکتی ہیں زندہ رہتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تمہیں دیکھا ہے دیکھتے ہوئے مجھے چاہتے ہوئے مجھے سوچتے ہوئے اور میرے لیے پریشان ہوتے ہوئے ویسے چاہت ہوں تو کہنا لازمی ہوتا ہے ضروری ہوتا ہے لیکن عشق کی ان میں ہے وہ ہے وہ لفظ خاموش رہتے ہیں اور نگاہیں بات کر لیتی ہیں مجھے پتا ہے ایک دن جاناں میری نگاہوں سے بات کر لوگی پوچھ لوگی اور تمہیں جواب ملےگا ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی چاہتا ہوں خوب چاہتا ہوں ویسے ہے وہ ہے وہ بھی اپنے جاؤں گا اپنی غزلوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت خوب لکھتا ہوں حالانکہ اپناپن یہ ہے کہ ہے وہ ہے وہ بھی کہنے ہے وہ ہے وہ خوف تقاضا ہوں ویسے برا نہ ماننا کہ ہے وہ ہے وہ نے جاناں سے کبھی اظہار نہیں کیا سوچ لینا کہ تھی
Rakesh Mahadiuree
25 likes
تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے
Zubair Ali Tabish
117 likes
More from ALI ZUHRI
بابا تری کمرے سے جو آتی تھی ہمیشہ بابا حقیقت آواز پکارتی نہیں مجھ کو بابا تری کاندهوں پر بیٹھ کر جو دیکھے تھے کبھی حقیقت ذائقہ لگتے ہیں اب سونے جسر بابا یہ زمانے کی نگاہیں کوڑی ہے وحشی ہے یہ نوچ نو زائیدہ جسموں کو ہمارے بابا تو گھر ہے وہ ہے وہ ہمارے ویران تھا ہم تو تری آنگن کی کلی تھے بابا تری کاندهوں پر آخری سمے رونا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری سائے ہے وہ ہے وہ ا سے گھر سے وداع ہونا تھا بابا تیری ہی نشانی ہے تجھ سا دکھتا بھی ہے بھائی بھی کب بیٹیوں سا سمجھتا ہے بابا تو جو گیا تو ماں کے چہرے کی رنگت بھی لے گیا تو حقیقت بھی ادا سے ہے بے حد کم بولتی ہے بابا دل سے اب ب سے یہی دعا نکلتی ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں مسکراتے ملو جنت ہے وہ ہے وہ بابا
ALI ZUHRI
9 likes
نسا دنیا کے رنگین مظاہروں سے ہٹ کر,जब کبھی میری نظر اس کا سادہ لباس لڑکی پہ اگر پڑتی میرے دل سے حسرتیں نکلتی اور امنگیں جھوم اٹھتی اس کا کا لڑکی کے ناک نقش بلکل بھی بناوٹی نہیں اس کا کا کے بدن کے نقوش ہے وہ ہے وہ کچھ بھی سجاوٹی نہیں خدا کی قسم دنیا کے مظاہروں ہے وہ ہے وہ اس کا کے سوا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں اسے اس کا دنیا کی جوش کی کوئی پرواہ ہی نہیں مانو دنیا سے اسے کوئی رابطہ ہی نہیں اسے خدا نے اپنی قدرت کی نشانی کے لیے بنایا ہوگا اس کا کا کا پیکر تحت السرا کی مٹی سے تراشا ہوگا اس کا کا کی بلندی پہ فرشتوں نے بھی سر جھکایا ہوگا حقیقت تو ایسی چیز ہے جسے دیکھ کر خدا کو خود اپنی کن پہ رشک آیا ہوگا خدا نے کوئل کو اس کا کی سماعت کے آثار تلاشیں ہیں اور پیڑوں کو اس کا کی بانہوں کے ہار تلاشیں ہیں یہ گھٹا اس کا کی اگر کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ رہ کر کالی ہوتی ہے اس کا کا کے آنچل سے ہی شام پر لالی ہوتی ہے اس کا کا کے ہاتھوں کی لکیروں پر دنیا نقش ہے جنت کی کیسی کیسی ہے وہ ہے وہ بھی اس کا کا ہی عکس ہے اس کا کا کی آنکھوں کی بینائی سے सुब्ह,रात
ALI ZUHRI
4 likes
"जुदाई" जिन दिनों में तुम ने देखा था मुझे मैं उन दिनों किसी गुलाब जैसा खिल रहा था महक रहा था तुम्हारे इश्क़ का गुलाबी जाम मेरे नर्म चेहरे पे बह रहा था मगर अब के यूँँ है बिछड़ के तुम सेे तुम्हारे हिज्र ए मलाल से मैं उजड़ गया हूँ तुम्हारी क़िताब में रखे हुए गुलाब जैसा मैं इन दिनों सड़ रहा हूँ तुम्हारे इंतिज़ार की सर्द राहों पर पत्ती पत्ती बिखर रहा हूँ मैं जीता जागता एक लड़का साँस दर साँस मर रहा हूँ
ALI ZUHRI
1 likes
مر رہی ہوں اسے کہنا ہے وہ ہے وہ مر رہی ہوں آنکھیں ابھی کھلی ہوئی ہیں سمے ملے تو لوٹ آئی سانسیں ابھی رکی نہیں ہیں باتیں پرانی بھلا چکی ہوں خط سبھی جلا چکی ہوں سچ تجھے بتا رہی ہوں انتظار ترا ہے وہ ہے وہ کر رہی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دھیرے دھیرے مر رہی ہوں یاد تجھے ب سے کر رہی ہوں وجود ترا یہیں کہی ہے یقین ہے وہ ہے وہ خود کو دلا رہی ہوں
ALI ZUHRI
9 likes
کیا لگتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب کوئی نجم کہتا ہوں جاناں ا سے کا عنوان لگتی ہوں مجھ سے مری باتیں کرتی ہوں کون ہوں جاناں مری کیا لگتی ہوں کتنی کم میسر ہوں جاناں مجھ کو پھروں بھی ساری کی ساری لگتی ہوں تمہیں تتلیاں تلاش کرتی ہیں بارشوں ہے وہ ہے وہ بھیگا گلاب لگتی ہوں ستارے تم تم تمہارا بے پیرہن کرتے ہیں فلک پر چمکتا چاند لگتی ہوں آنکھیں غزل ہرنی زلف گھٹا ساون پہاڑی پر رقص کرتا بادل لگتی ہوں ہر ایک بات بادہ خوار سی کرتی ہوں چنو کسی مزار کی دعا لگتی ہوں یہ حسن آتش دہکتا شباب کتنے ہی کوہ طور جلاتی ہوں تمہیں خاموشیاں ا سے طرح پکارتی ہیں چنو گاؤں ہے وہ ہے وہ مغرب کی اذان لگتی ہوں اب کیا زحمت کریں یہ کہنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فلک سے اترا ہوا فرشتہ لگتی ہوں
ALI ZUHRI
10 likes
Similar Writers
Our suggestions based on ALI ZUHRI.
Similar Moods
More moods that pair well with ALI ZUHRI's nazm.







